ٹیڑھے دانت
پہلے وقتوں میں اۤج کل کی نسبت بہت کم افراد ایسے نظر اۤتے تھے۔ جنکے دانت ٹیڑھے ہوتے تھے۔ جوں جو ں ساأنس ترقی کرتی رہی ہے۔ تو بیماریوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ یابقول شخصے لوگوں کے اندر بیماریوں کے بارے میں شعور بڑھ رہا ہے۔اور لوگ علاج کی طرف زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔
ٹیڑھے دانتوں کے مضر اثرات
نفسیاتی
طعنہ اور مذاق کا باعث
ٹیڑھے دانت اچھلی بھلی شکل کے لئے بھی ایک طعنہ بن جاتے ہیں۔ خاص کر بچیاں تو اس معاملے میں بہت حساس ہوتی ہیں۔ہم نے کئی ایسی بڑی عورتوں کو بھی ٹیڑھے دانتوںکے ساتھ مذاق کا نشانہ بنتے دیکھا ہے۔ کئی شادی شدہ عورتوں کی تو انہی دانتوں کی بدولت طلاق تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔اۤجکل جدید علاج کی بدولت عمر کے کسی حصے میں بھی اسکا شافی علاج موجود ہے۔
خوبصورتی کا باعث
ٹیڑھے دانتوں نے اچھے بھلے خوبصورت چہرے کو داغدار بنایا ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ نفسیاتی دباأو کا شکار ہو جاتی ہیں۔اۤتھوڈنشیا علاج سے خوبصورتی پر اثر انداز ہونے والے اس نقص کو دور کر کے شخصیت کے حسن اور وقار کو بحال کیا جا سکتا ہے۔
ہنسنے میں رکاوٹ
ٹیڑھے دانتوںکا مریض کھل کر نہیں ہنستا۔
بولنے میں مساأل
بعض دفعہ مریضوں میں ٹیڑھے دانتوں کی وجہ سے صحیح بولا بھی نہیں جاسکتا۔
مسوڑھوں کی بیماریاں
دانت ٹیڑھے ہونے کی وجہ سے مریض دانتوں کو صحیح طریقہ سے صاف نہیں کر پاتا ۔ جسکی وجہ سے پلاک اور کیلکوس جمع ہو کر مسوڑھوںکی بیماریوں کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں۔
اس لیے عموماً مسوڑھوں کی بیماریوں کی بنیادی وجوہات میں ایک وجہ ٹیڑھے دانت بھی ہیں۔
کیڑا لگنا
صفاأی صحیح نہ ہو سکنے کی وجہ سے دانتوں پر کیڑا لگنے کے امکانات بہت زیادہ ہو جاتے ہیں۔
چوٹ کا جلدی شکار ہو نا
ٹیڑھے دانت عموماً چوٹ وغیرہ کے جلدی شکار ہو جاتے ہیں۔ اور اکثر ڈاکٹرز کے پاس باہر نکلے ہو”ے دانتوں والے بچے ٹوٹے دانتوں کے ساتھ موجود ہوتے ہیں۔
کنپٹی کے پاس جوڑ کا درد
ٹیڑھے دانتوں کی وجہ سے اوپراور نیچے جبڑے کے دانت صحیح طریقہ سے نہیں مل پاتے۔ بلکہ نچلے جبڑے کی حرکت میں رکاوٹ ڈالتے ہیں۔ جسکی سے وجہ کچھ عرصہ بعد کنپٹی کے پاس جوڑ میں تکلیف شروع ہو جاتی ہیں۔
منہ سے سانس لینا
بعض مریض اوپر کے دانت زیادہ باہر ہونے کی وجہ سے ہونٹوں کو صحیح طرح ملا نہیں پاتے اور منہ کے ذریعے سانس لینے کے عادی بن جاتے ہیں۔ نتیجتاً مسوڑھوں،گلے کے غدود کے علاوہ منہ کی دیگر بیماریوں کا بھی اۤسانی سے شکارہو جاتے ہیں۔ رات کے وقت منہ خشک ہو جانے سے دانتوں کی تباہی کا عمل جلدی شروع ہو جاتاہے۔
خراٹے لینا
ایسے افراد میں نرم تالو نیچے لٹک جانے کی وجہ سے منہ کے راستے سانس لینے میں بھی دشواری شروع ہو جاتی ہے۔ اور مریض سوتے وقت خراٹے لیناشروع ہو جاتاہے۔
اگرچہ عام لوگ” خراٹے لینے ”کو گہری نیند کی علامت سمجھتے ہیں۔ لیکن طبی نکتہ نگاہ سے ایسا شخص صحیح نیند نہیں سو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ خراٹے لینے والا شخص نیند کے بعد بھی اپنے اۤپکو تھکا تھکا محسوس کرتا ہے۔ کیونکہ سانس لینے میں یہ دشواری اسکے اعصابی نظام کو مسلسل تناأو کا شکار بناأے رکھتی ہے۔
خراٹوں کا علاج
اۤجکل خراٹے لینے والے مریض کے لئے ڈینٹل سرجن منہ میں لگانے کے لیے خصوصی پلیٹس بناتے ہیں۔ جسکی وجہ سے جبڑوں کی پوزیشن سوتے وقت ایسے ہو جاتی ہے۔ کہ نرم تالو لٹک نہیں سکتا۔ اور اسطرح مریض کی خراٹوں سے جان چھوٹ جاتی ہے۔ اور خود گہری نیند سونے کے ساتھ دوسروں کی بھی بے اۤرامی کا باعث بھی نہیں بنتا ۔
انسانی چہرے کا توازن
قدرت نے انسانی دانتوں کو ایک ترتیب سے بنایا ہے۔ جسطرح انسان کا چہرہ دونوںطرف سے ایک جیساہوتاہے۔ایک اۤنکھ دوسرے اۤنکھ کے مطابق ایک کان دوسرے کان کے مطابق ، دونوں بھنویں ایک جیسی۔ اگر ذرا سا بھی فرق ہو تو انسانی چہرہ ٹیڑھا نظراۤتاہے۔
دانتوںکے ٹیڑھا پن کی اقسام
سنٹرلاأن کا اپنی جگہ سے اۤءوٹ ہونا
بعض افراد میں دانت ایک طرف کو ہوتے ہیں۔ یعنی سنٹرلاأن اپنی جگہ سے ہٹ کر داأیں یا باأیں پھری ہوتی ہے۔ جسکی وجہ سے ہنستے وقت مریض کا چہرہ ٹیڑھا دکھاأی دیتا ہے۔
نچلے دانتوں کااوپر تالو میں لگنا
بعض مریضوں کے دانت اس انداز سے ٹیڑھے ہوتے ہیں۔ کہ نیچے والے دانت اوپر جبڑے کے اندر جا کر لگ رہے ہوتے ہیں۔ یادانت ملاتے وقت نچلے دانت اوپر والے دانتوں کے پیچھے چھپ جاتے ہیں۔اسطرح کھانے کے دوران جبڑوں کی ہڈیوں میں فاصلہ کم ہونے کی وجہ سے پٹھے زیادہ زور لگاتے ہیں۔ اور لمبے عرصہ کے بعد 90%سے زیادہ لوگ کنپٹی کے پاس جوڑ کے درد کا شکار ہو جاتے ہیں۔
اس کے علاوہ ٹیرھے پن کی اقسام کی تفصیل کتاب کی ضخامت کے ڈرسے نہیں لکھ رہے صرف اُن کے نام لکھنے پر اکتفاأ کیا جاتا ہے۔
کراس باأٹ نچلے اور اوپر والے جبڑے کے دانتوں کا ایک دوسرے سے اۤگے پیچھے ہو کر ملنا
قدرتی طور پر جب نچلے اور اوپر والے دانت اۤپس میں ملتے ہیں۔ تو اوپر والے دانت نچلے دانتوں سے 1.2ملی میٹر باہر ہوتے ہیں۔ اسطرح جب خوراک چباتے وقت نچلا جبڑا حرکت کرتا ہے۔ تو اسکی افقی حرکت کو اوپر کے کیناأن دانت ایک حد تک محدودرکھتے ہیں۔ تاکہ کنپٹی کے پاس جوڑ پر کو”ی مضر اثرات نہ پڑیں ۔ اس عمل کو کیناأن گاأیڈنس کہتے ہیں۔ جسکا تفصیلی ذکر دانت کی ساخت والے باب میں کیا جا چکا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب کیناأن دانت لاأن سے باہر ہوں۔ تو ڈاکٹراسکو بچانے کے لئے بہت زور دیتے ہیں۔ جبکہ مریضوں کا اصرار ہوتا ہے۔ کہ اس دانت کو نکال دیا جاأے۔
بعض دفعہ اوپر اور نچلے دانت کھانا کھاتے وقت اۤگے پیچھے ملتے ہیں۔ اور اسطرح پھر نچلے جبڑے کی افقی حرکت محدود ہو جاتی ہے۔ جوکہ کافی عرصہ بعد کنپٹی کے پاس جوڑ پر اثر اندا ز ہو کر درد کا باعث بنتی ہے۔ اسلئے ڈاکٹرز ایسی حالت کو فوری طور پر بریسز کے ذریعے علاج تجویز کرتے ہیں۔ تاکہ جبڑوں کنپٹی والے جوڑ کی صحت متاثر نہ ہو ۔
۔ سامنے کے دانتوں کا اۤپس میں نہ ملنا
۔ سامنے دانتوںکا ایک دوسرے پر چڑھے ہو”ے ہونا
۔ کیناأن دانتوں کا لاأن سے باہر ہونا
۔ دانتوں کے درمیان خلا ہونا
۔ منہ دانتوں کی وجہ سے بھرا ہوا لگنا اورہونٹوں کاصحیح طریقے سے نہ مل پانا
۔ اوپر والے دانتوں کا بہت باہر ہونا
اگرچہ دانتوں کے ٹیڑھے پن کی اور بھی بے شمار اقسام ہےں۔ جن میں عمومی پاأی جانے والی اقسام کی تصاویر اۤپ ملا حظہ فرما سکتے ہیں۔
اسی لیے دانتوںکے ٹیڑھے پن کو مختلف کلاسز میں تقسیم کیا جاتاہے۔ اور باقاعدہ CEPHسیف اور اوپی جی OPGایکسرے کرکےعلاج کا لاأحہ عمل طے کیا جاتا ہے۔
دانت سیدھا کرنے والا ڈاکٹر۔۔۔ اۤرتھو ڈونٹسٹ
کیونکہ دانتوں کے ٹیڑھے پن کی کسی نوعیت کا علاج اسوقت تک خاطر خواہ فاأدہ نہیں دے سکتا۔ جب تک بیماری کی نوعیت اور بنیادی وجوہات کو نہ سمجھا جاأے۔ اسی لئے ٹیڑھے دانتوں کو صحیح کرنے کے لئے ڈاکٹر کو بی ڈی ایس کے بعد باقاعدہ دوسال کا کورس کرنا پڑتا ہے۔ اور اۤرتھوڈونٹسٹ باقاعدہ ڈپلومہ ہولڈر ہوتاہے۔ اور مریض میں دانتوں کے ٹیڑھے پن کی بنیادی وجوہات کی باقاعدہ تشخیص کر کے اس بنیادی مسئلہ کا حل نکالتا ہے۔
دانتوں میں ٹیڑھا پن کی وجوہات
جبڑوں کے ساأز کا چھوٹا ہونا
بعض بچوں میں قدرتی طورپر جبڑوں کا ساأز چھوٹا ہوتاہے۔ جبکہ دانتوں کا ساأز بڑا ہوتا ہے۔ نتیجتاً دانتوں کو نکلنے کے لئے مناسب جگہ نہیں ملتی اور یہ اۤگے پیچھے اُگ اۤتے ہیں۔
ڈاکٹر کم اہمیت والے دانتوں کو نکال کر اہم دانتوں کو نکلنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ اس طرح دانت سیدھے نکلتے ہیں۔
بچوں میں دیگر قدرتی خرابیاں
٭ فالتو دانت کا اُگ اۤنا۔
٭ اُگنے والے دانتوں کی شکل کا بے قاعدہونا جیسے بہت باریک ہونا یا بہت چوڑا ہونا
٭ بعض مریضوں میں قدرتی طور پر چند پکے دانتوں کی کلیاں ہی موجود نہیں ہوتیں۔
٭ بعض بچے پیدا ہی کٹے ہونٹوں اور کٹے تالو کے ساتھ ہوتے ہیں۔
ان سب حالات میں دانت ٹیڑھے پن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ الحمد للّلہ کہ اۤج کی جدید ڈینٹسڑی نے ان تمام مساأل کا بہترین علاج دریافت کر لیا ہے۔
بچوں میں بری عادات
بعض بچوں میں کئی ایسی بری عادات پاأی جاتی ہےں۔ جو کہ دانتوں کے ٹیڑھے پن کا باعث بنتے ہیں۔ جن میں
٭ انگلی یا انگوٹھا چوسنا
٭ چوسنی اور فیڈرکا استعمال
جوسنے سے اوپرجبڑے کے دانت باہرکی طرف اورنچلے جبڑے کے دانت اندرکی طرف چلے جاتے ہیں۔
٭ زبان باہر نکالنا
٭ دانت پیسنا
٭ ناخن کاٹنا
٭ ہونٹوں کی غیر معمولی حرکات
وغیرہ (جسکا ذکر بچوں کے مساأل والے باب میں کیا جا چکا ہے۔)سرفہرست ہیں۔
اگرچہ عموماً بچے ذرا شعور میں اۤکر یہ بد عادات چھوڑ دیتے ہیں۔ لیکن بعض بچے شعور کی منز ل پا کر بھی یہ عادت نہیں چھوڑتے بلکہ بچپن سے لڑکپن ، لڑکپن سے نوجوانی پھر جوانی میں بھی اپنی عادت کا شکار رہتے ہیں۔
اۤجکل ان تمام عادات کو چھڑانے کے لئے ڈاکٹرز مختلف قسم کی پلیٹس لگاتے ہیں۔ اور اسطرح عادت دور ہونے کے ساتھ دانت سیدھا کرنے میں اۤسانی پیدا ہو جاتی ہے۔
۔ دودھ کے دانتوں کا وقت سے پہلے ضاأع ہو جانا
(ایک اہم وجہ )
اۤجکل عموماً بچے میٹھی اوردانتوں سے چپکنے والی غذاأوں کا استعمال زیادہ کرتے ہیں۔ اس وجہ سے دودھ کے دانت جلد خراب ہو کر درد کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اور بچے چونکہ علاج میں تعاون نہیں کر پاتے ۔ دوسرا والدین بھی دودھ کے دانتوں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے اس لئے دانت نکلوادیتے ہیں۔ جسکی وجہ سے اسکے نیچے پکے دانت کی کلی اپنے وقت سے پہلے ہی اُگ اۤتی ہے۔ یا پچھلا دانت اۤگے جھکاأوکرکے نیچے نکلنے والے دانت کو جگہ فراہم نہیں کرتا۔ جس کی وجہ سے دانت اپنے مقام سے اۤگے پیچھے نکل کر ٹیڑھے پن کا باعث بنتا ہے۔
سپیس مینٹینر(Space Maintainer)
ڈاکٹر دودھ کے دانت کو اس وقت تک جو قدرت نے اُس کے منہ میں رہنے کے لئے مقرر کر رکھا ہے۔ بچانے پر زور دیتے ہیں۔ تاکہ دوسرے دانتوں کو اپنے مقام پر نکلنے کا موقع مل سکے۔ اور اگر فرض محال دانت نکلوانا پڑجاأے تو اس دانت کی جگہ کو قاأم رکھنے کے لئے باقاعدہ ساتھ والے دانت پرکور چڑھا کر ایک تار لگاأی جاتی ہے۔ جسے Space Maintainerکہا جاتاہے۔
۔ دودھ کا دانت خود نکالنا :
بعض اوقات دودھ کا دانت ہل رہا ہوتاہے۔ اور والدین اسے خود کھینچ کر نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جسکی وجہ سے بعض اوقات جڑ کا کو”ی حصہ اندر رہ جاتا ہے۔ اور مستقل دانتوں کے سیدھا نکلنے میں رکاوٹ ڈالتاہے۔
۔ نرم غذا اہم وجہ :
اب سے کچھ عرصہ پہلے تک بچے گنے ،کٹی گنڈیریاں، سوکھی روٹی ، چنے اور مکئی کے دانے کھاتے تھے ۔جب دود ھ کے دانتوں پر یہ دباأو پڑتا تو نیچےپکے دانتوں کی کلیاں بڑھنا شروع ہو جاتیتھیں۔ا ور دودھ کے دانتوں کی جڑوں کو گلا کر اپنے وقت پر منہ میں اُگ اۤتیں۔
لیکن جب سے بچوں میں نرم غذا کی عادات نے فروغ پایا ۔ پکے دانت کی کلیوں پر صحیح دباأو نہیں پڑتا ۔ اور ایک لمبے عرصہ تک دودھ کے دانت نہیں گرتے۔
٭ یا گر بھی جاأیں تو سخت مسوڑھے کی وجہ سے اور پکے دانت پر دباأو نہ ہونے کی وجہ سے اسے اپنے وقت پر باہر نکلنے کا موقع نہیں ملتا۔
٭ جن بچوں کے دودھ کے دانت وقت پر نہیں گرتے اور پکے دانتوں کے نکلنے میں رکاوٹ کا سبب بنتے ہیں۔ایسے بچوں کے دانت دودھ کے دانتوں کے اۤگے پیچھے نکلتے ہیں۔اسی طرح انبچوں میں پکے دانتوں کو اُگانے والی قدرتی قوتیں بچے کی نظر پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہےں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے دانتوں کو عموماً مسوڑھوں پر کٹ لگا کر یا اۤرتھو کے طریقوں کے ذریعے مسوڑھوں سے باہر اپنے مقام پر لایا جاتا ہے۔ اور اسطرح باقی دانت ٹیڑھے پن سے محفوظ ہو جاتے ہیں۔
۔ موروثی :(Hereditory)
ایک اہم وجہ جسکاذکر کرنا بے جا نہ ہو گاوہ موروثیت ہے۔ یعنی بعض دفعہ ماں باپ یا اُنکے اۤباأ کے اندر جبڑوں اور دانتوں میں تناسب نہ رہا ہو۔ تو اۤگے نسل میں یہ وراثت میں چلتاہے۔
اسلئے کئی والدین اپنی اولاد کو یہ مسئلہ وراثت میں منتقل کر دیتے ہیں۔ اسلئے انہی کا فرض ہے کہ جدید ساأنس سے فاأدہ اُٹھاتے ہو”ے بچے کے اس مسئلہ کے حل کے لئے بھی کوشش کریں۔
اگرچہ ٹیڑھے پن کی اور بھی بے شمار وجوہات ہیں۔ لیکن کتاب کی ضخامت کے ڈر سے انہی وجوہات کا ذکر کیا گیا ہے۔ جو کہ ایک عام اۤدمی اپنے بچے میں اۤسانی سے تلاش کر سکتا ہے۔ کیونکہ سب وجوہات کا ایک چھوٹی سی تحریر کے ذریعے احاطہ نہیں کیا جاسکتا۔
ایک سوال کہ علاج کب شروع کریں؟
والدین عموماً سوال کرتے ہیں۔ کہ بچوں میں دانتوں کے ٹیڑھے پن کا علاج کروانے کے لئے کون سا مناسب وقت ہے؟
یادرہے کہ علاج کا بنیادی مقصد یہ ہوتاہے۔ کہ بچوں میں دانتوں کو سیدھا نکلنے کا موقع فراہم کیا جاأے۔ اور اگر دانت ٹیڑھے نکل چکے ہیں۔ تو پھر اُنکو اپنی جگہ پر علاج کے ذریعے سیدھا کیا جاأے۔
پہلی صورت
٭ خود بخود ٹھیک ہونے والی خرابیا ں:
بعض حالتیں دانتوں کی ایسی ہوتی ہےں۔ جو خودبخود وقت کے ساتھ ٹھیک ہو جاتی ہےں۔ مثلاً دانتوںکا وہ ٹیڑھا پن جو بچے میں بری عادات کی وجہ سے پیدا ہو جاتا ہے۔ بری عادات کے چھوڑنے کے ساتھ ہی ٹھیک ہو جاتاہے۔
٭ دانتوں کے درمیان خلا :
عموماً بچوں میں دانتوں میں اۤٹھ سے دس سال کے درمیان سامنے والے دانتوں میں کافی خلا ہوتا ہے۔ جسے والدین خرابی تصور کر تے ہیں۔ حالانکہ یہ خلا اردگرد کے نوکدار دانتوں کے پیداہونے کے ساتھ خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔
احتیاطیں :
٭ اسلئے کوشش کرنی چاہئے کہ بچے میں وہ بری عادات جو دانت کے ٹیڑھے پن کا سبب بنتی ہےں ۔ اگر چھ سال کی عمر تک بچہ نہ چھوڑے تو فورا ڈاکٹر سے علاج کے لئے رابطہ کریں۔
٭ 10-6سال کے درمیان اگر جبڑے اور دانت کے ساأز میں تناسب نہ ہو تو کم اہمیت والے دانتوں کو نکال کر دوسرے دانتوں کو سیدھا نکلنے کا موقع فراہم کیا جاتاہے۔
٭ اگر بچے کے اوپر اور نیچے والے جبڑے کی ہڈی کے تناسب میں فرق ہو تو (Myofunctional Trainers)مایو فنکشنل ٹرینرز لگا کر اُن طاقتوں کو صحیح کیا جاتا ہے۔ جو بچے میں ٹیڑھے پن کا باعث بن رہی ہوتی ہیں۔
٭ 13-11سال کی عمر میں با قاعدہ (Myofunctional Appliance) مایو فنکشنل ایپلاأنسز لگا کر جبڑوں کے اۤپس میں تعلق کو نارمل بنایا جاتا ہے۔
٭ اسکے علاوہ اور بھی مختلف ذراأع چہرے اور دانتوں کے تناسب کےلئے اختیار کیے جاتے ہیں۔
٭ بعض بچوں میں اوپر والے ہونٹوں کا ساأز چھوٹا ہوتاہے۔ اسطرح ایسے بچوں کے مسکراٹے وقت مسوڑھے نظر اۤتے ہیں۔ ایسی مسکراہٹ کو گمی سماأل (Gummy Smile)کہتے ہیں۔ اگرچہ اۤجکل بڑوں میں بھی اسکا تسلی بخش علاج موجود ہے۔ لیکن بچوں میں اگر والدین یہ محسوس کریں تو فوری ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔ سرجن ان دانتوں کو باندھ کردانتوں کو لاأن کے نیچے مزید نکلنے سے روک دیتے ہیں۔ اوراسطرح بچے کی خوبصورت مسکراہٹ کا مستقبل محفوظ ہو جاتا ہے۔
دوسری صورت:
جب دانت منہ کے اندر ٹیڑھے اُگ اۤءیں۔ تو پھر تاروں کے ذریعے دانتوں کو سیدھا کیا جاتاہے۔ چونکہ دانت جبڑے کی ہڈی میں ریشوں کے ذریعے جڑے ہوتے ہیں۔ اسلئے اُن پر تاروں کے ذریعے جس طرف دباأو ڈالا جاتا ہے۔ تو دانت اُس طرف حرکت کرناشروع کر دیتے ہیں۔
اسی طرح بعض دانتوں کو مسوڑھوں سے نکلنے کا موقع نہیں ملتا۔تو ایسے دانتوں کو تاریں لگانے سے پہلے سرجری کے ذریعے سامنے لایا جاتا ہے۔ اور پھر تاروں کے ذریعے سیدھا کیا جاتا ہے۔
علاج کی مدت:
چونکہ ہر دانت کے اندر خون کی نالیاں ہوتی ہیں۔ اسلئے دانتوں پر دباأو ان نالیوں میں خون کے دباأو سے کم ڈالا جاتا ہے۔ اسطرح اۤہستہ اۤہستہ یہ حرکت دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عموماً کیسز میں دانتوں کو سیدھا کرنے کے لئے ایک سے تین سال کی مدت درکار ہوتی ہے۔
اتارنے چڑھانے والی تاریں اور فکسڈ بریسز :
کچھ عرصہ پہلے دانتوں کو سیدھا کرنے کے لئے اُتارنے چڑھانے والی تاریں لگاأی جاتی تھیں۔ جوکہ اب تقریباً متروک ہو چکی ہیں۔ کیونکہ ان میں ایک بڑی پلیٹ ساتھ کے تاروں کا جھنجٹ دوسرا اس کے ذریعے دانتوں کومخصوص حدتک سیدھا کیا جا سکتا تھا۔لیکن اۤجکل فکسڈ بریسز (Fixed braces) ٹیکنالوجی نے اس علاج میں ایک انقلاب برپا کر دیا ہے۔
فکسڈ بریسز کی ابتداأی مشکلات :
بعض مریضوں میں اسکے لگانے سے گال زبان اورہونٹ تھوڑے بہت سرخ ہو جاتے ہیں۔ اور مریض بے چینی محسوس کرتاہے۔ لیکن چند دنوں میں ہی مریض اسکا عادی ہو جاتاہے۔
اگر کو”ی بریکٹ ہک گال یا ہونٹوں کے اندر چبھے تو کو”ی بھی چیونگم لے کر اُس پر لگا دیں۔ یا ڈاکٹر ز عموماً ساتھ ویکس یعنی موم دے دیتے ہیں۔ جو ایسی جگہوں پر لگا دیتے ہیں۔ اور مریض کا مسئلہ وقتی طور پر حل ہو جاتا ہے۔ بعد میں ڈاکٹر اس مسئلہ کا مکمل حل نکالتا ہے۔ اور متعلقہ وجہ کو ٹھیک کرتا ہے۔
فکسڈ بریسز سے حیرت انگیز نتاأج:
اس علاج کے ذریعے کیسے حیرت انگیز نتاأج حاصل ہوتے ہیں۔ ذیل میں علاج سے پہلے اور بعد کی تصاویر سے اۤپ بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں۔ کہ یہ علاج کسی طرح بھی ایک نعمت سے کم نہیں۔
جمالیاتی حس کی تسکین :
اس علاج کی بڑھتی ہو”ی مقبولیت کے پیش نظر اب لگاأی جانے والی بریکٹس اور تاریں بھی مختلف میٹریل میں اۤرہی ہےں۔ تاکہ علاج کے ساتھ خوبصورتی کا عنصر بھی قاأم رہے۔
بعض بچیاں تو بریکٹس پر ربڑیں لباس کے رنگ کے مطابق لگو ا کر اپنی جمالیاتی حس کی تسکین کا سامان کرتی ہیں۔
بلکہ اۤجکل تو دانتوں کی اندرونی سطح جو زبان اور تالو کی طرف ہوتی ہے۔ وہاں پر بریکٹس لگاأی جاتی ہیں۔ تاکہ نظر بھی نہ اۤءیں اور ساتھ علاج بھی ہوتا رہے۔
فکس تاروں کے لگانے والے مریضوں کو مندرجہ ذیل ہدایات پر سختی سے عمل کرنا چاہئے۔
فکسڈ بریسز کے مریضو ں کے لئے ہدایات
٭ منہ میں لگی بریکٹس سے بعض مریضوں کے منہ میں خراش پید ا ہو سکتی ہے۔ اس صورت حالسے پریشان ہونے کی کو”ی ضرورت نہیں۔ ڈاکٹر عموماً ساتھ ویکس دے دیتے ہیں۔ اسے چبھنے والی جگہ پر لگا ءیں تقریباً چار پانچ روز میں یہ صورت حال خود بخود ٹھیک ہو جاتی ہے۔
٭ اگر کو”ی تار بریکٹ سے نکل جاأے یا چبھے تو خود ٹھیک کرنے کی بجاأے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ اۤپکی تاخیر سے زخم زیادہ ہو سکتا ہے۔
٭ ہر کھانے کے بعد برش کریں۔ اور اسکے ساتھ ماأوتھ واش بھی صفاأی کے لئے استعمال کریں۔ کیونکہ اۤرتھو کے علاج میں کامیابی کے لئے دانتوں کی صفاأی کا ہونااز حد ضروری ہے۔ ورنہ مسوڑھے خراب ہو کر علاج کی پیش رفت میں رکاوٹ ڈال دیتے ہیں۔
٭ عام برش سے بریکٹس کے کونوں کھدروں کی صفاأی ذرامشکل ہوتی ہے۔ اسلئے عام برش کے بالوں والے حصہ کو کاٹ کر چھوٹا کر لیں یا اۤجکل اۤرتھو بریکٹس کی صفاأی کے لئے اۤرتھو برش مارکیٹ میں دستیاب ہوتے ہیں۔ یہ بہتر انداز میں بریکٹس کی صفاأی کرتے ہیں۔ مریض کو خیال رکھنا چاہیے۔ کہ خوراک کا کو”ی ذرہ دانتوں یا بریکٹس کے ساتھ چمٹا نہ رہ جاأے
٭ مریض کو ایسی خوراک جس سے براہ راست بریکٹس پر دباأو پڑ رہا ہو جسے سیب کاٹنا ، مونگ پھلی ، چیونگم سپاری وغیرہ کھانے سے پرہیز کرنا چاہیں ۔ ہاں سیب وغیرہ کاٹ کر پچھلے دانتوں سے چبایا جا سکتا ہے۔ اسطرح بریکٹس ٹوٹنے کے امکانات بہت کم ہو جاتے ہیں۔
٭ اگر مریض کی لا پرواہی اور دی گئی ہدایات پر عمل نہ کرنے سے بریکٹس ٹوٹیں تو پھر مریض کے دانت سیدھا کرنے کے لئے جو ٹاأم درکار ہوتاہے اُس میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ساتھ ہی مریض کوبریکٹ دوبارہ بانڈ کرنے کے اضافی اخراجات کا بوجھ اُٹھانا پڑتا ہے۔
٭ اسی طرح بعض بچے بریکٹوں کو توڑ کر گم کر دیتے ہیں۔ ٹوٹی بریکٹ کو سنبھال کر رکھنا چاہیے۔ تاکہ نئی بریکٹ کے اضافی خرچہ سے بچے رہیں۔
٭ مریض کو ڈاکٹر کی دی ہو”ی اپواأنٹمنٹ پر بر وقت اۤنا چاہیے کیونکہ تاخیر سے دانتوں کی پوزیشن خراب ہو جاتی ہے۔ اور دوبارہ مطلوبہ پوزیشن پر لانے کے لئے اۤرتھو پیر یڈ سے زیادہ ٹاأم درکار ہوتا ہے۔
٭ جب دانت مطلوبہ پوزیشن پر چلے جاأےں۔ تو انکے اردگرد ہڈی مضبوط کرنے کے لئے ایک پلیٹ لگاأی جاتی ہے۔ جسے (Retainer) ریٹینر کہتے ہیں۔ بعض لوگ مطلوبہ پوزیشن پر دانت جانے کے بعد علاج کو خود بخود چھوڑ دیتے ہیں۔ اور بعض ریٹینر لگا کر ڈاکٹر کو دکھاأے بغیر ریٹینر لگانا چھوڑ دیتے ہیں۔ تو ایسے مریضوں میں عموماً دانت اپنی پرانی پوزیشن پر لوٹ جاتے ہیں۔ اور علاج میں ناکامی کا باعث بنتے ہیں۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ریٹینر کتنا عرصہ لگانا چاہیے؟
ریٹینز ابتدا میں دن رات لگایا جاتا ہے۔ تاکہ نئی حالت میں دانتوں کی پوزیشن مستحکم ہو سکے ۔ چونکہ دانتوں کے ساتھ مسوڑھوں کے ریشے جڑے ہو”ے ہوتے ہیں۔ اور اندر والی لچک دوبارہ دانتوں کو اپنی پرانی پوزیشن پر لے جاتے ہیں۔ اسلئے بعض دفعہ ایسے مسوڑھوں کو دانتوں سے علیحدہ کر کے نئی پوزیشن پر جڑنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ ریٹینز کی مثال اۤپ ایک وزن والی مشین کی طرح سمجھ لیں کہ جس طرح وزن گھٹانے کے بعد اۤپ کچھ عرصہ بعد ویٹ میشن پر وزن کرتے رہتے ہیں۔ اسی طرح رٹینیر دو ماہ دن رات لگانے کے بعد اۤپ صرف رات کو لگاتے ہیں۔ اور دیکھتے ہیں کہ ر یٹینز پر دباأو ہے یا نہیں ۔ دباأو بتا تا ہے کہ دانت ابھی نئی جگہ پر مستحکم نہ ہو”ے ہیں۔ اسلئے دن کو تھوڑا سا پرانی جگہ کی طرف حرکت کی۔ اگر ریٹینز پریشر نہ ڈالے تو پھر ایک رات بعد۔ پھر بھی نہ ڈالے تو ہفتے میں ایک دفعہ پھر مہینے میں دو دفعہ پھر ماہ میں ایک دفعہ اسطرح بعد میں چھ ماہ میں ایک دفعہ پھر سال بعد، یہ گویا اۤپکا فالو اپ ہوتا ہے یعنی نگرانی کرنا ہوتا ہے۔ کہ دانتوں میں پرانی پوزیشن پر جانے کا ابھی چانس ہے یا یہ نئی جگہ مستحکم ہو گئے ہیں۔
بعض دانت مختلف وجوہات کی بناأ پر ریٹینز کے باوجود اپنی پرانی پوزیشن کی طرف حرکت کرتے ہیں۔انکی اس حرکت کو روکنے کے لئے عموماً فکسڈ ریٹینز لگاأے جاتے ہیں۔ جن میں حرکت کرنے والے دانتوں کی پچھلی طرف بانڈنگ کر کے دانتوں کو مطلوبہ جگہ پر قاأم رکھا جاتا ہے۔
دانت سیدھا کرنے کے لئے جبڑوں کی سرجری
اۤرتھو گونیتھک سرجری
Ortho Gonathic Surgery
گذشتہ صفحات میں اۤپ نے دانتوں کے ٹیڑھا ہونے کے نقصانات ، وجوہات اور علاج کے بارے میں پڑھا ۔
عموماً اۤرتھو ڈونٹسٹ ڈاکٹر دانتوں کو سید ھا کرنے تک محدود ہوتا ہے۔ لیکن بعض دفعہ دانتوں کے ٹیڑھا پن کے ساتھ ساتھ جبڑوں کی ہڈیوں کے اندر اتنا زیادہ فرق ہوتا ہے کہ دانت سیدھا ہو جانے کے باوجود بھی چہرے کی ہیئت میں خاص فرق نہیں پڑتا۔
اۤرتھو گونیتھک سرجری کیا ہے ؟
اۤجکل جبڑوں کی سرجری کے ذریعے بڑے جبڑوں کو چھوٹا اور چھوٹے جبڑے کو بڑا کیا جاسکتا ہے۔ جسے orthogonathic Surgoryاۤرتھو گونیتھک سرجری کہتے ہیں ۔
اس اۤپریشن میں ڈاکٹروں کی ٹیم درکار ہوتی ہے۔ اور یہ سرجری سب سے زیادہ کامیاب 6سے 10سال کے درمیان رہتی ہے۔ اس طرح چہرے کی بدنماأی خوبصورتی میں تبدیل ہونے کے ساتھ ناک اورگلے کے بے شمار مساأل بھی ٹھیک ہو جاتے ہیں۔
پلاسٹک سرجن اور اۤرتھوگونیتھک سرجن میں فرق
اۤپریشن کے اۤٹھ دس ہفتے بعد مریض ٹھیک ہو جاتا ہے۔
عموماً لوگ سمجھتے ہیں۔ کہ یہ پلاسٹک سرجن کا کام ہے۔ حالانکہ پلاسٹک سرجن کاکام منہ کے باہر کی نرم ٹشوز ، اۤنکھ ، ناک اورکان کے اردگردکے حصوں کی مرمت کرنا اور سنوارنا ہوتا ہے۔
جبکہ جبڑوں اور اسکے ارد گرد منہ کے حصے کی سرجری کو اۤرتھو گونیتھک سرجن کرتا ہے۔
قدرت نے انسان کے اندر حسن سے محبت کا ایک عنصر رکھا ہے۔ اسلئے کہ
اللہ جمیل و بحب الجمال
اللہ تعالیٰ خود بھی خوبصورت ہے۔ا ور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے۔
اس لئے ہر وہ علاج جو شرعی تقاضوں سے متصادم نہ ہو۔ جمالیاتی حس کو تسکین پہنچانے کے لئے کیا جا سکتا ہے۔
چو نکہ دانتوں کا انسانی چہرے کی خوبصورتی میں ایک اہم مقام ہے۔ اسلئے جدید ڈینٹسڑی میں دانتوں کی خوبصورتی کے لئے (Cosmaetic Dentistry)جمالیاتی علاج براأے دندان کا شعبہ بہت ترقی کر رہا ہے۔