اسلام اور عطائِیت

قدیم دور اور دانت کا درد :

دانت کا درد اور دانتو ں کی دیگر بیماریاں زمانہ قدیم سے ہی ایک مسئلہ رہا ہے۔ جسکے حل کیلئے لو گ مختلف قسم کے حیلے کرتے رہے ہیں۔ ہزاروں سال پرانی ملنے والی کھوپڑیوں پر بعض دانتوں کو سونے کی تاروں سے بندھا ہوا دیکھا گیا ہے۔ یقینا وہ لوگ مسوڑھوں کی بیماریوں کا شکار ہوتے ہوں گے۔ جسکا نتیجہ دانتوں کے ہلنے کی صورت میں ظاہر تھا۔

اسی طرح بعض کھوپڑیوں میں پتھر کے دانت لگے ہو”ے ملے۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ فن دندان سازی کی تاریخ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بھی پہلے کی ہے.

اۤج کا دور اور عطاأیت :

اۤج جبکہ دنیا بام عروج پر پہنچی ہو”ی ہے۔ ہمارے ہاں عطاأیت کیلئے کو”ی چیک اپ نہیں ہے۔ لو گ پیسہ بچانے کے چکر میں خود ساختہ نسخے استعمال کرتے ہو”ے نظر اۤتے ہیں۔ یا پھر عطاأیوں کے یا مجمع بازوں کے ہاتھوں اپنی صحت اور پیسہ برباد کر رہے ہوتے ہیں۔ عموماً لوگ باداموں کے چھلکے اخروٹ اوراسی طرح اینٹوںوغیرہ کو پیس کر اپنے دانتوں پر مل رہے ہوتے ہیں۔

 

کیونکہ ان اجزاأ میں دانت گھسانے کی قوت زیادہ ہوتی ہے۔ اور وقتی طور پر دانت صاف نظر اۤتے ہیں۔جبکہ دانت کی باہر کی سطح پر ماأکر و سکر یچز پڑ جاتی ہےں ۔اور وہ دوبارہ جلد میلے ہو جاتے ہیں۔ باہر سطح کمزور ہو جانے کی وجہ سے دانت حساس بھی ہوجاتے ہیں۔ اس طرح کے منجن بے شمارلوگ بسوں اور گلیوں میں بیچ رہے ہوتے ہیں۔

میں نے ایک جگہ دیکھا کہ” سویپ ”تیزاب جو کہ عموماً ٹاألٹ کی سیٹ کو صاف کرنے کے کام اۤتا ہے۔ اُسکے اندر پانی ملا کر چھوٹی چھوٹی بوتلیں بھری جارہی تھیں ۔ پوچھنے پر پتہ چلا کہ دانتوں کی صفاأی کے لئے دوا تیار ہو رہی ہے۔ چونکہ تیزاب کیلشیم کو ایک دم حل کرتا ہے۔ جسکی وجہ سے دانت کی سطح سفید اوربھربھری ہو جاتی ہے۔ مجمع باز ایسی دوا کو رو”ی پر لگا کر میلے دانتوں پر ملتے ہیں۔ اوروقتی طورپر تیزاب کے اس اثرکو ظاہر کر کے عوام کو بیوقوف بناتے ہیں۔ حالانکہ دانت کاانیمل تیزاب لگنے کی وجہ سے تباہ ہو جاتاہے۔ اسی طرح بعض مجمع بازایک منجن بیماردانت پر رگڑتے ہےں اور اُس میں سے کیڑا نکالتے ہےں۔ جو کہ تھوڑی بہت حرکت بھی کرتا ہے۔ حالانکہ اس کی حقیقت یہ ہے کہ عام پاأوڈر میں دانتوں کے ماپ لینے والاپاأوڈر ملا دیتے ہیں۔جب منہ میں اس کو رگڑتے ہیں۔ تو یہ چھوٹے چھوٹے حصوں میں اکٹھا ہوتا ہے۔ یہ پاأوڈر تھوڑی دیر بعد سخت ہو کر سکڑتا ہے مجمع بازاسکی اس حرکت کو کیڑوں کی حرکت قراردے کر عوام الناس کو بیوقوف بنارہے ہوتے ہیں۔

اس طرح کے بے شمار ٹوٹکہ جات اور شعبدہ بازیاں ہماری نظر میںہیں ۔ جنہیں کتاب کی ضخامت کے ڈر سے پابند تحریر نہیں کیا جا سکتا ۔

     یہ ہماری بد قسمتی ہے۔ کہ ترقی یافتہ ممالک میںکسی رجسٹرڈ کمپنی کی ایک گولی بھی بغیر نسخہ کے نہیں ملتی لیکن ہمارے ملک میں لوگ اپنی بناأی ہو”ی گولیاں بغیر رجسٹر ڈکراأے دھڑا دھڑ بیچ رہے ہوتے ہیں۔ علاج دندان میں عطاأیت صرف منجن سازی یا ٹوٹکہ جات تک محدود نہیں بلکہ فٹ پاتھ پر اور جنکے پاس تھوڑا پیسہ ہوکلینکس کھول کر بغیر کسی سند کے مکمل ڈینٹسٹری کو پریکٹس کی جاتی ہے۔ جس میں گندے اوزاروں سے دانتوں کی صفاأی ، اسٹرلاأزڈ اوزاروں سے دانتوں کو نکالنے سے لے کر مضر صحت میٹریلز سے مصنوعی دانت بنانے اور دانتوںکی بھراأی تک کا کام بلاروک و ٹوک کیا جا رہا ہے۔

 

مریض بے چارہ لا علمی میں چند روپے بچانے کی غرض سے ایسی جگہوں پر علاج کرواتے بے شمار پیچیدہ امراض جیسے ہیپاٹاأٹس اور ایڈز وغیرہ کا شکار ہو کر اپنی زندگی کو روگ لگا لیتا ہے۔

سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کا اتنا رش ہوتا ہے۔ کہ ان مریضوں کے علاج کے لئے مکمل سٹرلاأزڈ اوزاروں کی فراہمی نامکمن ہو جاتی ہے۔ اور نتیجتاً غیر سٹرلاأزڈ اوزاروں سے ہی مریضوں کا علاج کیا جا رہا ہوتا ہے۔ میں نے کئی جگہ ایک ہی سو”ی سے سب مریضوں کو ٹیکہ لگتے دیکھا ہے۔ جب سرکاری سطح پر اس عطاأیت کو کنٹرول نہ کیا جا سکے۔ تو پھر غیر سرکاری عطاأیت پر کیسے کنٹرول ہوگا۔ یہ سارے مساأل شعبہ صحت کے لئے لمحہ فکر یہ ہیں۔ صحت کے میدان میں عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹاجا رہا ہے۔ لہٰذا عوام اور حکومت دونوں کو اس طرف خصوصی توجہ دینی چاہیے۔

خصوصی علوم کے ساتھ ہمارا رویہ:

حضورؐ نے فرمایا کہ دو عُلوم علموں کے سردار ہےں۔

اَلعلم علمان ،علم الادیان و علم الابدان

خصوصی علم دو طرح کا ہے۔ ایک دین کا علم اورایک بد ن کا علم دین کے علم سے بندے کا ایمان بچتا ہے اور بدن کے علم سے بندے کی جان بچتی ہے۔ ہمارے ہاں اۤ ج ان دونوں میں کھلی چھٹی ہے۔ ان دونوں کے لیے کسی ڈگری کی ضرورت نہیں ۔ اخبار میں حکمت کی صرف ”رجسٹریشن کراأےے اور پریکٹس کا تحفظ بذمہ ادارہ” کا اشتہار ہمارے لیے درس عبرت ہے۔کسی صاحب ذوق نے طنزیہ کہا ہے۔

بن کے ناأی ”ماہر دندان” ہیلتھ کے بازار میں

پہلواں”جوڑوں کے ماہر” ہیلتھ کے بازار میں

خوب ہیں لعل و جواہر ہیلتھ کے بازار میں

کو”ی قد غن نہیں ان پہ ہیلتھ کے بازار میں

دوسری جگہ لکھتے ہیں کہ

ہو”ی ارزاں بہت انساں کی قیمت

کلینک کھل گیا ہر گھر میں بھاأی

کہیں ہیں شیخ نتھو ڈاکٹر جی

تو ہیں سرجن کہیں شیرو قصاأی

معالج جان لے لے دن دیہاڑے

پکڑ سکتا نہیں اسکو سپاہی

اسی طرح دین کے معاملے میں اۤپ چند تقریر یںیاد کرلیں اور خوش اۤوازی سے تقریر کر سکتے ہوں۔ تو علامہ اجل اور بے شمار خطبات سے اۤپ کو نواز دیا جاأے گا۔ اسی طرح انسان کی روح اور نفسیات سے کھیلنے کے لئے بے شمارجعلی عاملین بھی بیٹھے ہےں۔ اور لوگ ان سے لٹ رہے ہے۔ لیکن اخبارات یہ سب کچھ جاننے کے باوجود پیسوں کے لیے ان کے اشتہارات چھاپ رہے ہیں۔ جس طرح ٹی وی پر سگریٹ نوشی کے اشتہار چلا کر وزارت صحت کی طرف سے ایک چھوٹاسا اشتہاراس کے مضر ہونے کے بارے میں اۤتا ہے یہ ہماری منافقت نہیں تو کیا ہے۔ چونکہ یہ ایک قومی المیہ ہے اس لیے اس پرذرا زیادہ لکھ دیا ہے۔ لیکن میرا اصل مقصد لوگوںکودانتوں کے مساأل سے مکمل اۤگہی اور اُن کے صحیح علاج کے بارے میں بتانا ہے۔

معالجین کی رجسٹریشن کا سہرا عالم اسلام کے سر ہے:

دنیا میں سب سے پہلے ڈاکٹروں اور طبیبوں کے لئے امتحانات اور رجسٹریشن کا باقاعدہ نظام عباسی خلافت کے دور میں بغداد میںوضع ہوا۔ جسے بعد میں پورے عالم اسلام میں نافذ کیا گیا۔اور یہ نظام راأج کرنے کا سبب بھی ایک تاریخی واقعہ ہے جب ایک عطاأی کے ناقص علاج سے ایک مریض کی جان چلی گئی ۔ حادثے کی اطلاع حکومت کو ملی تو تحقیقات ہو”ی پتہ چلاکہ اُس جعلی طبیب نے باقاعدہ مروجہ کتب کا مطالعہ نہیں کیا تھا اور کسی حکیم کے پاس چند سال کام کرکے خوداپنامطب کھول لیا تھا۔ اس حادثے کے بعد حکومت نے باقاعدہ معالجین کی رجسٹریشن کے لئے ایک بورڈ بنایا ۔ سب سے پہلے بغداد میں اطباأ کا شمارکیا گیا ۔ پتہ چلا کُل اٹھارسو طبیب ہےں۔ باقاعدہ امتحان اور انٹرویو کے ذریعے سات سو معالجین کو پریکٹس کی اجازت دی گئی اور ناکام ہونے والے طبیبوں کو پریکٹس سے روک دیا گیا۔

دین اسلام نے حفظان صحت کے لئے اپنے سنہر ی اصول مرتب کیے ہیں۔ تاکہ لوگ زیادہ سے زیادہ بیماریوں سے بچے رہیں۔ اور اگر کو”ی بیمار ہو جاأے تو اسکا علاج با قاعدہ اُس بیماری کے معالج سے کروایا جاأے۔

عطاأیت اور حدیث مصطفےٰ ؐ:

اسلام نے عطاأیوں اور علم طب کے نہ جاننے والوں کو جہاں نہ صرف علاج سے منع کیا وہیں ایسے علاج کرنے والوں کےلئے سخت پابندیوں کا اظہار فرمایا اس سلسلے میں سنن ابن ماجہ میں ایک حدیث شریف اس طرح درج ہے۔

مَنْ تطبَّبَ ولم یعلم مِن الطب قبل ذالک فھوضامن (سنن ابن ماجہ)

ترجمہ:جس شخص نے علم طب سے نا اۤگہی کے با وجود طب کا پیشہ اختیار کیا تو اسکے مضر اثرات کی ذمہ داری اُس شخص پر ہو گی

اس حدیث شریف کے تحت اسلام کی اولیں صدیوں سے ہی جعل سازوں سے بچنے کیلئے میڈیکل کا باقاعدہ امتحانی نظام ترتیب دیا گیا۔ جسکی وجہ سے مسلمانوں میں بڑے بڑے ماہرین طب اور سرجنز پیدا ہو”ے۔ پھر امتحان کے بعد ایسے معالجین کو سب سے پہلے اسلامی حکومت نے ہی رجسٹریشن کا طریقہ کار سکھایا۔

پاکستان اور مستند معالج دندان :

پاکستان میں اۤبادی کے تناسب سے ڈینٹل سرجنز کی تعداد دیکھی جاأے تو اۤپ سر پکڑ کر بیٹھ جاأیں گے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ تمام اۤبادی کو ان ڈاکٹرز کی سہولیات میسر اۤسکیں گی۔امریکہ میںدو ہزار کی اۤبادی پر ایک ڈینٹل سرجن موجود ہے۔جبکہ کچھ عرصہ پہلے تک پاکستان میں پانچ(5) لاکھ کی اۤبادی کے لئے باقاعدہ ایک مستندڈینٹل سرجن میسر تھا۔جواب نئے سروے کے مطابق اتنے زیادہ ڈینٹل کالجزکھلنے کے باوجود ایک لاکھ کی اۤبادی پر ایک مستند ڈینٹل سرجن کی سہولت میسر ہو سکی ہے ۔ اس سے اۤپ خود اندازہ لگا سکتے ہےں۔ کہ ڈینٹل تعلیم کے لئے ابھی مزید کتنی محنت کی ضرورت ہے۔جبکہ اۤبادی کا تناسب بھی بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

ایک اہم راأے:

میرے خیال میں غیر مستند معالجین دندان جو کافی عرصہ سے کام کر رہے ہیں۔ اور جن کے اۤباو اجداد بھی اس پیشہ سے منسلک رہے ہیں۔ انکو ابتداأی ڈینٹسڑی کے بارے میں ٹریننگ دے کر باقاعدہ اجازت دینی چاہئے تاکہ وہ اۤزاد نہ اپنا محدود کام جاری رکھ سکیں۔ چونکہ اس ملک کے قوانین کے مطابق کسی ایسے معالج پر پابندی لگانا بہت مشکل کام ہے اۤپ کسی طریقہ علاج سے کچھ پیسے دے کر رجسٹرڈ ہو جاأےں ۔تو قانون بے بس ہو جاأےگا ۔ کو”ی بھی دوا بیچنا چاہیں۔ کسی طریقہ علاج والوںکو تھوڑے پیسے دے کر رجسٹرڈ کروایا جا سکتا ہے۔ لہٰذا محاذ اۤراأی کی کیفیت قاأم رکھے بغیر ایسے تمام غیر مستند معالجین کے لئے جو پانچ سال سے زیادہ کام کر رہے ہیں ۔انہیں خصوصی کورس کرواأے جاأےں۔ اُنکو دانتوں کے علاج سے پھیلنے والی بیماریوں ، سٹرلاأزیشن کے طریقوں اور ایمر جنسی میں فرسٹ ایڈ کے طریقوں سے متعارف کراویا جاأے تاکہ وہ معاشرے کا مفید فرد ثابت ہو سکےں ۔ ورنہ اسی گومگومیں لوگ ایسے معالجین کے ہاتھوں ہپاٹاأٹس ،ایڈز اور دیگر متعدی امراض کے ہاتھوں اپنی زندگیوں کو اجیرن بناتے رہےں گے ۔ مجھے امید ہے کہ ایک دفعہ جب وہ اچھے اوربُرے کی پہچان کر لےں گے تو پھر وہ لوگوں کی زندگیوں سے کبھی نہیں کھیلیں گے۔ کیونکہ وہ یہ کام جان بوجھ کر نہیںبلکہ لا علمی میں کر رہے ہیں۔

جس طرح علاج سے غفلت انتہاأی بے و قو فی ہے۔ اسی طرح غلط او رغیر سند یا فتہ افراد سے علاج کروانا بھی کسی طرح دانشمندی نہیں ہے۔لیکن ہمارے ہاں صرف اشتہار بازی اور شعبدہ بازی سے متاثر ہو کر ایسے لوگوں کے ہاں عوام الناس مجمع لگاأے بیٹھے ہوتے ہیں۔ بقول کسے۔

ہیں شکاری ہرطرف’ سہمے ہو”ے سارے مریض

شعبدہ بازی سے نکلیں کیسے یہ بیچارے مریض

ہر طرح کے نسخے ڈھونڈیں درد کے مارے مریض

دوڑ جاأیں اس طرف ،سن لیں جدھرنعرے مریض

ہمارے پاس بے شمار ایسے کیسز اۤتے ہیں۔ جو غلط ہاتھوں سے علاج کے ساتھ اپنی بیماریوں میں مزید اضافہ کر لیتے ہیں۔ کئی غیر سٹر لاأز شدہ اوزاروں کے استعمال سے ہپاٹاأٹس اور

(s HIV Aid)ایڈزجیسے موذی امراض کا شکار ہو جاتے ہیں۔

کئی لوگ غیر سند یافتہ افراد کے ہاتھوں بنے مصنوعی دانتوں سے برسوں بعد کنپٹی کے پاس جوڑ کی تکلیف میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ جن کا علاج کافی لمبا ہوتا ہے۔ اور نتیجتاً مریض زندگی سے بیزار نظر اۤتا ہے۔

اۤجکل عطاأیت کے خلاف کریک ڈاوئن

الحمداللہ یہ امر باعث اطمیناں ہے کہ حکومت نے عطاأیوں کے خلاف ایکشن لیتے ہو”ے ان کے کلینکس سیل کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے۔ لیکن غم اس بات کا ہے کہ حکو

مت کی گزشتہ ڈھیلی پالیسیوں کے نتیجہ میں جب عطاأیت اتنی پروان چڑ ھی ہے تو اب جو لوگ بیسیوں سالوں سے اس دھندے میں مصروف ہوں۔ بغیر انکو متبادل وساأل مہیا کئے انکو بے روز گار کر دینا قرین انصاف نہیں ہے۔ میں نے بے شمار بوڑھے عطاأیوں کو نان جو یں کا محتاج دیکھا ہے۔