اسلام میں منہ اور دانتوں کی صفائی کا مقام

اسلام نے منہ اور دانتو ں کی صفاأی پر بہت زور دیا ہے۔ اس سلسلہ میں بے شما راحادیث بنو یؐ گواہ ہیں۔ نبی کریم ؐ نے اپنے افعال واقوال سے اس کی اہمیت کو دین کا حصہ بنا دیا ۔ اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین اور بزرگان دین نے حضورؐ کی سنت پر عمل کرتے ہو”ے مزید تاکیدات ارشاد فرماأیں تاکہ مسلمان کسی حالت میں منہ کی صفاأی اور پاکیزگی سے غافل نہ رہیں ۔

قارئین کرام اگران افعال واقوال کا جاأزہ لیں تو حیرت و استعجاب کے سمندر میں ڈوب جاأیں کہ دین کے اتنے اہم حصہ سے ہمارا برتاأو کیسا ہے۔ اس جاأز ے کے بعد مجھے امید ہے کہ اۤپ منہ اور دانتوں کی صحت کے حصول کیلئے اس کتاب کے مطالعہ کو نہ صرف حصول معلومات کا ذریعہ بلکہ حصول ثواب کا ذریعہ بھی سمجھیں گے ۔

حضورؐ کے افعال مبارکہ :

۔    حضور ؐ رات سونے سے پہلے اور بیدار ی کے بعد مسواک فرماتے تھے۔

۔    حضور ؐ جب رات تہجد کے لئے کھڑے ہوتے تو دھن مبارک کو مسواک سے رگڑتے اور صاف فرماتے ۔

۔    حضور ؐ گھر میں داخل ہونے کے بعدپہلا کام مسواک فرماتے

۔    حضور ؐ نے زندگی کے اۤخر ی ایام اور اۤخری وقت میں مسواک فرمایا۔

۔    حضورؐ کھانے سے پہلے ہاتھ دھوتے اور کھانے کے بعد کلی کرتے ۔

حضورؐ کے اقوال مبارکہ :

۔    جبرئیل علیہ السلام نے مجھے ہمیشہ مسواک کاکہا۔ یہاں تک کہ مجھے خوف ہوا کہ کہیں مجھ پر اور میری امت پر فرض نہ ہو جاأے ۔

۔    مسواک کرنا فطرت ہے۔

۔    مسواک سے منہ پاک اور خدا راضی ہوتا ہے۔

۔     دو رکعتیں مسواک سے پڑھنا اُن ستررکعتوں سے افضل ہیں جو بغیر مسواک کے پڑھی جاأیں۔

۔    اگر مجھے اپنی امت کی تکلیف کا خیال نہ ہوتا تو میں ہر نماز میں مسواک کو لازم کر دیتا۔

۔    مسواک کے ستر فاأدے ہیں۔ جن میں سے ایک یہ ہے کہ مرتے وقت کلمہ شہادت نصیب ہوتا ہے۔

۔    تم اپنے کپڑوں کو دھو”و اور بالوںکی اصلا ح کروا ور مسواک کر کے نفاست اور زینت حاصل کرو ۔ کیونکہ بنی اسراأیل ان چیزوں کا اہتمام نہیں کرتے تھے ۔ اسی لیے ان کی عورتوں نے کثرت سے زنا کیا۔ (مطلب یہ کہ تمہاری عورتیں تم سے نفرت کر کے غیروں کی طرف ماأل نہ ہوں اسی طرح عورتوں کو بھی مسواک کی تاکید کی گئی تاکہ اُن کے مرد بھی دوسری عورتوں کی طرف ماأل نہ ہوں اور زنا سے بچ جاأیں۔)معلوم ہوا مسواک زنا سے بچانے کا بھی ذریعہ ہے ۔

۔    بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین سے حضورؐ نے فرمایا کہ تم میرے پاس اۤتے ہو اور تمہارے دانت زرد ہوتے ہیں۔ تم مسواک کیا کرو۔

    ان اللّٰہ نظیف یحب النظافہ

۔    جو شخص مسواک سے احتراز اور بے رغبتی کرے گا۔ وہ ہم میں سے نہیں ۔

۔    جمعہ کے دن غسل کرو خوشبو لگاأو اور تم پر مسواک کرنا ضروری ہے۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین اور بزرگانِ دین کے اقوال :

۔    حضرت عامر بن ربیع رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کسی صحابی سے نقل کیا کہ میں نے نبی کریمؐ کو روزے کی حالت میں کثرت سے مسواک کرتے ہو”ے دیکھا۔

۔    حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ مسواک قوت حافظہ بڑھاتی ہے اور بلغم دور کرتی ہے۔

۔    حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ: ” تمہارے منہ قراۤن کے راستے ہیں۔ اس لئے ان کو مسواک کے ذریعے خوب صاف کیا کرو۔

۔    حضرت عبداللہ بن مبارک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اگر کسی شہر کے باشندے مسواک سے انکار کر یں توامام ان سے مرتدین کی طرح قتال کر ے (خانیہ )

۔    حضرت ابو ہر یرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ مسواک انسان کی فصاحت کو زیادہ کرتی ہے۔

۔    مسواک سنت ہے۔ بس جس وقت چاہے مسواک کرو۔

منہ اور دانتوں کی صفاأی کے بارے میں حضورؐ کی تعلیمات صرف مسواک کی حد تک محدود نہیں بلکہ فرمایا :

من اکل فَلیتحلل ( سننن الدارمی)

یعنی جو شخص کھانا کھا چکے ۔ اُسے چاہیئے کہ خلال کر ے

اۤج کے جدید معاشرے میں ہوٹل ہو یا گھر تمام جگہوں میں کھانے کے بعد لکٹر ی کے خلال پیش کئے جاتے ہیں۔ یہ سب اۤقاو مولا ؐ کا دیا ہو ا عظیم طریقہ ہے۔ کیونکہ کھانے کے بعد جو غذاأی اجزاأ دانتوں اور مسوڑھوں کے درمیان پھنس جاتے ہیں اگر ان کو خلال کے ذریعے نہ نکالا جاأے۔ تو یہ جر ا ثیموں کی اۤماجگاہ بن کر مسوڑھو ں کی سوزش اور دباأو دے کر ہڈی گلانے ، ماسخورہ، معدے کے السر اور تیزابیت کا سبب بنتے ہیں۔

بعض علماأ نے حدیث کے حوالے سے یہ بات بھی نقل کی ہے۔ کہ جو غذا کا ذرہ بغیر خلال کے دانتو ں سے نکلے اسے نگل یا کھا سکتے ہیں۔ اور جو غذا کا ذرہ بذریعہ خلال نکلے اسے پھینک دیں۔ اور جب اۤج کے دور میں ان دونوں قسم کے ذرات کا تجزیہ کیا گیا ۔تو خلا ل کے ساتھ نکلے ہو”ے ذروں کو جرا ثیموں سے اۤلودہ پایا گیا۔

اسی طرحــ ” کلی کرنا” جسے اۤج کی ساأنس ”ماأو تھ واش” کا نام دیتی ہے۔ کرنے سے قبل مسواک کا حکم دیا گیا ۔ اور ہر نماز کے ساتھ ساتھ ہر کھانے کے بعد کلی کرنا اۤقا و مولا ؐکی سنت ٹھہری۔اۤج ساأنس نے اس بات کا اعتراف کیا کہ گلے میں بار بار پانی پہنچانا گلے کے کینسر سے بچاتا ہے۔

    اسی طرح دانتوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ غذا چبانے کا طریقہ بھی تعلیم فرمایا ۔ ارشاد گرامی ہے چھوٹے چھوٹے لقمے لیے جاأےں اور ان کو خوب چبا کر کھایا جاأے ۔

     اکثر لو گ یہ نہیں جانتے کہ خوراک کے ہضم ہونے کا عمل منہ سے ہی شروع ہوجاتا ہے۔ دانت خوراک کو باریک ٹکڑوں میں تبدیل کر کے اۤگے بھیجتے ہیں۔ اور ساتھ تھوک میں موجود انیزاأمز ہا ضمے کا عمل شروع کردیتے ہیں۔ خوراک کو جتنا چباکر کھا یا جاأے صحت اتنی ہی بہتر رہتی ہے۔ اور معدے پر زیادہ بوجھ بھی نہیں پڑتا۔

میڈیکل ساأنس حیران ہوجاتی ہے۔ کہ امریکہ میں فلیچرنامی ایک شخص جو ہا ضمے کی پیچیدہ بیماریوں کا شکار تھا اور ڈاکٹروںنے اسے لا علاج کر دیا تھا۔ دانتوں سے کام لینا شروع کردیا اور خو ب چبا چبا کر خوراک کھاأی چند ہی دنوں میں اس کی صحت اتنی اچھی ہوگئی کہ سارے ڈاکٹر ز حیران ہو گئے اور انہوں نے علا ج میں دانتوں کے استعمال کا نام ہی ”فلیچرازم” رکھ دیا۔ اور یہ امر مسلم ہے کہ جن لوگوں کے دانت گر جاتے ہیں۔ ان کے ہضم کے عمل میں ضر ور فرق پڑجاتا ہے۔

فلیجر کو دنیا سے گزرے تقریبا ً دو سو سال کا عرصہ ہو ا ہو گا ۔ جبکہ اۤقا و مولا ؐ نے تقریباً پندرہ سو سال پہلے یہ تھیوری اُمت کو تعلیم فرماأی ہو”ی ہے۔ گویا حضورؐ نے جو طریقہ اُمت کو بتا یا وہی ساأنس کا ترقی یافتہ دور بھی بتا رہا ہے۔اس تعلیم کابنیادی مقصد یہ ہے کہ اسلام کا ہر فرد صحت مند ہو کیونکہ کسی بھی ملت کے لئے صحت مند افراد ہی بنیادی طاقت ہوتے ہیں۔

دنیا میں جتنے بھی مذاہب اۤ ءے اُن میں سے اکثر نے معاشرتی حقوق کو اہمیت دی ۔ لیکن اسلام کی شان امتیازی ہے کہ معاشرے کے ساتھ ساتھ خود اپنی جان کے حقوق سے بھی اۤشنا کروایا ۔ کہیں فرمایا تیری جان کا تجھ پر حق ہے۔ اورکہیں فرمایا کہ تیرے بدن کا بھی تجھ پر حق ہے۔ کہیں ارشاد فرمایا کہ تیری اۤنکھوں کا بھی تجھ پر حق ہے۔ اسلام کا اندازِ فکر یہ ہے کہ نفس کے تمام حقوق ادا کیے جاأےں اسے مارا نہ جاأے بلکہ زندہ اور کار اۤمد رکھا جاأے ۔منہ کے حقوق میں بار بار ارشاد فرمایا

طھروافواہکم

اپنے منہ کو صاف ستھرا رکھو۔

حضورؐ کا فرمان ہی رب کی رضا اور منشا ہے۔ اسی لیے شریعت نے ناپاک چیزوںکے استعمال کو منع قرار دیا ہے۔ یہاں تک کہ اُن جانوروں کے گوشت کو بھی حرام قرار دیا جو چیرنے پھاڑنے اور گند گی کھانے والے ہیں۔ گویا اسلام امن و سلامتی اور پاکی کا درس دیتا ہے۔ منہ کی پاکی کے حوالے سے کسی بزرگ کی یہ بات مجھے بہت پسند اۤءی(نکتہ) کہ اللہ کریم نے ماں کے پیٹ میں بچے کی خوراک کا انتظام ناف کے ذریعے رکھا تاکہ حیض کانا پاک خون منہ کے راستے داخل نہ ہو کیونکہ اس منہ کو رب اپنی تسبیح اور اپنے محبوب ؐ کی تعریف کے لیے پاک رکھنا چاہتا ہے۔

حکیم کا کو”ی فعل حکمت سے خالی نہیں ہوتا لیکن افسوس کہ ہم نے اس طر ف توجہ نہ دی وہ تحقیق جو مسلمانوں کاطرہئ امتیاز تھی اور جسکے لئے جابجا قراۤن و حدیث میں زور دیا گیا ہے۔ اور جس تحقیق کے لئے تجربات پر اعتماد کرنا مسلمانوں نے دنیا کوسکھا یا تھا۔اب معدوم ہو چکی ہے۔ بڑے بڑے ساأنسدان محسوسات اور تجربہ سے اس قدر بیگانہ تھے۔ کہ ارسطو دوبیویوں کا شوہر ہونے کے باو جود لکھتا ہے کہ

” عورت کے منہ میں دانت ہوتے ہیں اور مرد کے منہ میں دانت”

وہ بنیادیں جو اسلام نے فراہم کیں غیر اقوام نے ان پر تحقیق کی اور ثابت کیا کہ جسم کی اکثر و بیشتر بیماریاں دانتوں اورمنہ کی بیماریوں سے ہی پھیلتی ہےں۔یہی وجہ ہے کہ ترقی یا فتہ ممالک میں اولین توجہ دانتوں پر دی جاتی ہے۔جن سے ہم ایک سال میں کلو گرام کے قریب خوراک چباتے ہیں۔

اۤج کی ماڈرن ساأنس مسواک کی جگہ انوا ع واقسام کے ٹوتھ برش اور ٹوتھ پیسٹس، خلال کے لئے فلاسس اور کلیوں کے لئے ماأوتھ واشنر تشکیل دے کر انہی بنیادی مقاصد کی تکمیل کے لئے کام کر رہی ہے۔ جس مقصد کے حصول کو ہمارے نبی کریم ؐ نے دین کا اہم جزو قرار دیا ہے۔ گویا ساأنس اقرار کر رہی ہے۔

ارسطو کی حکمت ہے یثرب کی لونڈی

افلاطون بھی ہے طفل دبستان محمدؐ

الغرض دانتوں اور منہ کی صفاأی کے متعلق اسلام کی تعلیمات اور جدید ترین ساأنس کی تحقیقات ثابت کرتی ہیںکہ اس طرف ازحد توجہ دی جاأے ۔لیکن ہمارے ہاں معاملہ بالکل برعکس ہے۔ ہم دانتوں کو دوسرے اعضاأ سے اتنا کم درجہ دیتے ہیں۔ کہ معمولی سی تکلیف میںبھی اس کو نکلوا دینا ہی اس کا علاج سمجھتے ہیں۔ حالانکہ جسم کے کسی اور عضو کو درد کی صورت میں کٹوانے کے لئے تیارنہیں ہوتے ہیں۔ اوراۤپ ایساکرنے کے لئے اس وقت تیار ہوں گے۔ جب اۤپ کو یقین ہوجاأے گاکہ ایسا کرنے سے ہی جان بچتی ہے۔

حدیث نبویؐ ہے کہ” اۤدمی کے جسم کا اُس پر حق ہے۔ اگر وہ اپنے جسم کے حق نہ اد ا کر ے گا توگنہگار ہو گا۔”

دانت قدرت کا ایسا انمول عطیہ ہے کہ اگر اسکا تھوڑا سا حق بھی ادا کیا جاأے تو یہ قبر تک اۤپکا ساتھ دیتے ہیں۔ اسکی اہمیت وافادیت تو اظہر من الشمس ہے کہ دانتوں کااۤپ کی خو بصورتی اور صحت میںنمایاں کر دار ہے۔