اورل اونکالوجی منہ کی بافتوں کے کینسر میں جدید ترین علاج کی سہولت

۔  دانت کے نیچے پھوڑ ے کا بننا (Dental Abcess)

علامات

عموماً بعض مریضوں کا منہ خراب دانت والی ساأید پر سو ج جاتاہے۔ یا دانت کے نیچے جڑ کے پاس ایک زخم سا بن کے مسلسل پیپ رستی رہتی ہے۔

 

وجو ہات 

بعض لوگ اس پھوڑے کو مسوڑھے کی خرابی سمجھتے ہیں۔ حالانکہ اصل مسئلہ دانت کی خرابی ہوتاہے جو باہر کی سطح سے چلتی ہو”ی اندرونی سطح تک پہنچ کر جڑ کے نیچے پھوڑے کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔

علاج

اۤجکل سرجری کے ذریعے ایک اۤپریشن جسے ایپی سیکٹومی(Apicaectomy)کہتے ہیں کر کے دانت کو بچایا جا تاہے۔ جس میں مسوڑھے کو اُٹھا کر دانت کے نیچے سے سسٹ Cyst یا رسولی کو صاف کر کے جڑ کی طرف سے بھراأی کر دی جاتی ہے۔

علاج میں نا کامی کی وجوہات

بعض لوگ صرف وقتی دواأ کھاتے ہیں۔ اور باہرکی پیپ (infection)ختم ہو جانے پر لا پرواہ ہو جاتے ہیں۔ جب تک دانت کے اندر سے پیپ کی اۤماجگاہ کو ختم نہ کیا جاأے۔ تو علاج نا کام رہتا ہے۔

علاج نہ کروانے کے نتاأج 

٭    پیپ بار بار پڑنے سے جڑوں کو سہارا دینے والی ہڈیاں گل جاتی ہےں۔

٭     بعض لوگوں میں مزید تاخیر کینسر جیسے موذی مرض کے درجہ تک پہنچا دیتی ہے۔

احتیاطی تدابیر

1۔     مریض کو فوراً مستند ڈاکٹر سے رجو ع کر نا چاہیے۔ اور اپنے طور پر دواأیاں استعمال کرنے سے پرہیز کر نا چاہیے۔

  باہر سے ٹکور دینا ایک غلط طریقہ

بعض مریض دانت کے نیچے پھوڑے کی صورت میں باہر سے

گرم ٹکور دیتے ہیں۔ جسکی وجہ سے پھوڑا باہر کی طرف پھٹ جاتا ہے۔ اور اچھا بھلا چہرہ داغدار ہو جاتا ہے۔

 

احتیاط:     یادرکھیئے اس صورت میں ہمیشہ باہر کی طرف سے ٹھنڈی ٹکور اور منہ کے اندر نیم گرم پانی میں نمک ڈال کر کلیاں کریں۔ تاکہ باہر سے جلد موٹی ہو۔ اور پھوڑا باہر کی طرف سے نہ پھٹے بلکہ منہ کے اندر کی طرف پھٹے ۔

3۔     ہر چھ ماہ بعد اپنے معالج سے معاأنہ کروالینااورابتداأی خرابی میں ہی علاج کر لینا انتہاأی دانش مندی ہے۔

3۔    بیماری کو ابتداأ میں(Control) کنٹرول کرنا انتہاأی اۤسان ہوتاہے۔ اس لئے احتیاط اسی میں ہے کہ علاج میں کو تاہی نہ کی جاأے

ڈینٹل سرجن عرف عام دانت نکالنے والا ڈاکٹر 

ایک ادبی بات 

ہمارے ہاںعموماًڈینٹل سرجن Dental Surgeonکو دانت نکالنے والے ڈاکٹر سے تعبیر کیا جاتاہے۔ اگرچہ دانت نکالنااچھی بات ہے۔ اگر کسی خوشی کے موقع پر نکالے جاأےں لیکن اچھے بھلے دانت کو نکلوالینا کو”ی دانش مندی کی بات نہیں۔

اُردوزبان میں کئی الفاظ ذو معنی ہوتے ہیں۔ میرے ایک دوست ماہر امراض چشم (Eye Specialist)ہےں۔ وہ ایک دن مجھ سے کہنے لگے کہ ہمارے پاس جو مریض اۤتا ہے۔ وہ ہمیں” اۤنکھیں دکھاتا ”ہے۔( اس کا مطلب غصہ کرنا بھی ہوتا ہے)اور اۤپ کے پاس جواۤتا ہے۔ اۤپکو ”دانت دکھاتا”ہے۔(یعنی ہنستا ہے) ۔ میں نے جواباًکہا ۔کہ ہر عمل کا ردِ عمل ہوتا ہے۔ اۤپ اۤنکھوں میں سو”یاں مارتے رہتے ہو۔اسلئے لوگ اۤپکو اۤنکھیں دکھاتے ہیں۔اور ہم دانت نکالتے رہتے ہیں۔(دانت نکالنا خوش ہونے کی بھی علامت ہے ) اسلئے لوگ ہمیں دانت دکھاتے ہیں۔

اچھے ڈینٹل سرجن کا سلوگن 

اۤجکل ”علاج دنداں اخراج دنداں” اور پشتو کی مشہور مثل کہ ــ”غاخ رنزور شو علاج زمبورشو” دانت بیمار ہو تو اس کا علاج صرف نکلوانا ہی ہے غلط ثابت ہو چکاہے۔ بلکہ کسی بھی اچھے ڈینٹل سرجن کا اولین سلوگن ” دانت بچاأیے ”ہوتا ہے۔ اگرچہ اب بھی بعض ڈینٹل سرجنز معمولی سی تکلیف میں بھی بجاأے دانت بچانے کی کوشش کرنے کے دانت نکلوانے کا مشورہ دے دیتے ہیں۔

لوگوںکا دانتوں کے ساتھ رویہ 

اسی طرح بعض مریض جو علاج کیلئے مالی وساأل نہیں رکھتے یا ان کی نظر میں دانتوں کی وہ اہمیت نہیں ہوتی جو ہونی چاہئے ۔ فوراً دانت نکلوانے پر بضد ہو جاتے ہیں۔ میںنے اپنی سرکاری نوکری کے دوران دیکھا کہ لوگ لاأنوں میں بیٹھے قدرت کے اس عظیم عطیہ کو ضاأع کرنے کے لئے بے چینی سے انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔ جونہی کو”ی کرسی خالی ہو”ی اگلا مریض بھاگم بھاگ کرسی پر بیٹھا اور دانت نکلوانے کے لئے منہ کھول دیا ۔

ایک لطیفہ

اس سلسلے میں مجھے ایک واقع پیش اۤیا جو کسی لطیفہ سے کم نہیں۔ کہ جو نہی کرسی خالی ہو”ی ایک اۤدمی کرسی پر بیٹھ گیا۔ میرے اسسٹنٹ نے اسے کہا کہ منہ کھولواوربتاأو کون سا دانت نکلوانا چاہتے ہو۔اُس نے منہ کھولا اور کہنے لگا دانت میں نے نہیں نکلوانا باہر میری بیٹی بیٹھی ہو”ی ہے۔ اُس نے نکلوانا ہے۔ تو کہنے کا مقصد یہی ہے۔ کہ کسی بھی سرکاری سینٹر پر چلے جاأےںپچاس ساٹھ لوگ ۔ لاأنوں میں کھڑے اس عطیہ کی بے قدری کر رہے ہوتے ہیں۔

ہاں اگرخدانخواستہ

ایسی صورت حال پیدا ہو جاأے کہ

٭     دانت کے اردگرد کی ہڈی بالکل تباہ ہو چکی ہو

٭     یا دانت کے نیچے رسولی کا کینسر جیسی بیماری میں بدلنے کا خدشہ ہو ۔

تو پھر دانت نکلوادینا ہی دانش مندی ہوتاہے۔ بعض ایسے دانت جنہیںجبڑے کی ہڈی سے نکلنے کا موقع نہیں مل رہا ہوتا۔ اُس کو سرجری سے نکال دینا کسی بھی سرجن کی مہارت کا امتحان ہوتاہے۔

 سمپل دانت نکلوانا

(Simple Extraction of Tooth)

دانت نکلوانے سے پہلے کی ہدایات

ایک اچھا ڈینٹل سرجن

ایک اچھا ڈینٹل سرجن ہمیشہ منہ اور دانتوں کے معاأنے سے پہلے مریض کی میڈیکل ہسٹری لیتا ہے۔ کیونکہ بعض دفعہ مریض کسی متعدی بیماری کا شکار ہوتا ہے۔

اور ایسی بیماری کا ایک سے دوسرے فرد کو منتقل ہونے کے بہت سے امکانات ہوتے ہیں۔ دانتوں کے علاج کے دوران بیماری کے منتقلی کے امکانات ہونے والے علاج کی نوعیت پر منحصر ہوتے ہیں۔

ایسے مریض جو اپنی بیماریوں سے بے خبر ہوں ان کے لئے احتیاطی تدابیر 

بعض اوقات مریض خود بھی اپنے مرض سے لاعلم ہوتا ہے۔ مثلاً ایک سروے کے مطابق پاکستان میں ہر چودھواں اۤدمی ہیپاٹاأٹس جیسے موذی مرض کا شکار ہے۔ اور ابتداأی درجات میں اسکے واأرس یعنی جراثیم بغیر کسی علامت کے مریض کے اندر موجود ہوتے ہیں۔ اسلئے ایک اچھا کلینک ہر مریض کو متعدی مرض کا شکار تصور کرتے ہو”ے استعمال ہونے والے اوزاروں کی مکمل سٹرلاأزیشن کا انتظام کرتا ہے۔

سٹرلاأزیشن کا معیار 

تشخیص شدہ متعدی بیماری کے ا فراد میں عموماً ان اوزاروں کو استعمال کے بعد ضاأع کر دیا جاتا ہے۔ کیونکہ بعض واأرس عام سٹرلاأزیشن کی مشینوں سے ختم نہیں ہوتے ۔ اور انکے لئے خصوصاً مہنگی قسم کے جدید ترین سٹرلاأز ز درکار ہوتے ہیں۔

جنہیں خریدنے کے لئے عام دیہات وغیرہ یا بنیادی سطح پر جو کلینکس ہوتے ہیںانکے مالی وساأل اسکی اجازت نہیں دیتے

 

ایک سستا اور معیار ی طریقہ 

ایسے کلینکس کے لئے ایک سستا اور معیاری طریقہ جسے W.H.Oنے تسلیم کیا ہے۔ کہ ایک حصہ بلیچنگ پاأوڈر میں سات حصے پانی ڈالکر ایک محلول تیار کر لیں اور 15منٹ تک استعمال شدہ اوزاروں کو دھو کر اس میںپڑا رہنے دیں۔ رپورٹس کے مطابق ہیپا ٹاأٹس ، ایڈ ز اور دیگر تمام جراثیم اس میں ہلاک ہو جاتے ہیں۔ 15منٹ سے زیادہ اس سلوشن میں اوزار رکھنے سے انکی رنگت کالی ہو جاتی ہے۔ یہی طریقہ عوام الناس جنکے گھروں میں ہیپاٹاأٹس وغیرہ کے مریض ہوں ۔انکی استعمال شدہ اشیاأ جنکے ساتھ خون کی اۤلاأش ہو کو سٹرلاأز کرنے کے لئے استعمال کر سکتے ہیں۔

بہر حال اسکے ساتھ اگر کلینکس میں جدید ترین مشینری میسر ہو تو یہ تو بہت ہی بہتر ہے۔ کیونکہ علاج وہی اچھا ہے۔ جس سے مریض اور ڈاکٹر دیگر متعدی امراض سے یکسر محفوظ رہیں۔

بیماری سے باخبر مریضوں کا اپنے ڈاکٹر کو مطلع کر دینے کے فواأد 

جو مریض اپنی بیماری سے باخبر ہوں۔ علاج سے پہلے ڈاکٹر کواس سے مطلع کرنا انکا اخلاقی فرض ہے۔

٭    اس سے نہ صرف دوسرے افراد کوبیماری کابچاأوکا موقع ملتا ہے۔

٭    بلکہ خود مریض کے لئے بھی ڈاکٹر دواأیں تجویز کرتے وقت محتاط رہتا ہے۔ کہ کہیں وہ دواأیں اسمیں موجود بیماری کے بڑھنے کا مزید سبب نہ بنیں۔

٭     اسی طرح کئی بیماریاں جیسے اۤتشک ،سوزاک وغیرہ کی بعض علامات منہ میں ظاہر ہوتی ہیں۔ جو عام ڈینٹل سرجن کو بیماری کی تشخیص میں پریشان کر سکتی ہےں۔

اسلئے مریض کو اپنی میڈیکل ہسٹری دینے میں کبھی بھی ہچکچاہٹ نہیں کرنی چاہئے تاکہ وہ اور ڈاکٹر دونوں مل کر پیدا شدہ خرابی کا کو”ی حل نکال سکیں

۔4۔ دیگر بیماریوں اور دواأوں کے استعمال کے دوران علاج دندان کے مساأل

 میڈیکل ہسٹری ڈاکٹر کو بتانے کا فاأد

متعدی امراض کے علاوہ اکثر دانتوں کے مریض جسم کی دیگر امراض کا مثلاً شوگر ، معدے ، گردے ، جوڑوں، ذہن، دل اور خون وغیرہ وغیرہ کی امراض کے لئے دواأیں استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔

ان سب کے متعلق علاج سے پہلے ڈاکٹر کو مطلع کر دینا نہ صرف علاج کی کامیابی کی ضمانت ہوتا ہے۔ بلکہ مریض کئی قسم کی پیچیدگیوں سے بچ جاتا ہے۔

اگرچہ اسکے بیان کے لئے بہت تفصیل درکار ہے۔ لیکن طوالت کے خوف سے صرف اشارتاً چند معلومات پر اکتفا کرتا ہوں۔ اسلئے کہ یہ تفصیلی طور پر جاننا معالج کا کام ہوتا ہے۔ مریض کا نہیں اور یہ کتاب صر ف مریضوں کو ایک جہت دینے کے لئے لکھی گئی ہے۔

 معدہ کے مریض

اگر دانتوں کے علاج کے لیے اۤنے والا شخص معدے کا مریض ہے۔ تو اسکے علم میں ہونا چاہئے کہ ڈاکٹر ز عموماً درد کے لئے جو دواأیں لکھتے ہیں۔ انکو اصطلاح میں(NSAIDS)نسیڈزکہا جاتا ہے۔ انکا اثر معدے پر بہت سخت ہوتاہے۔ اگر مریض پہلے ہی معدے کے السر کا شکار ہے۔ تو یہ

دواأیں اۤگ پر مزید تیل ڈالنے کے مترادف ہوتی ہےں۔ ہمارے ہاں عموماً اگر کسی گولی سے ایک مریض کے درد میں افاقہ ہوا تو وہ وہی گولی سب کو تجویز کر رہے ہوتے ہیں۔ حالانکہ ہر فرد کی حالت کے مطابق ڈاکٹرز دوا تجویز کرتے ہیں۔ یہ اپنی طرف سے دوا کا استعمال (Self Medication)کے ہاتھوں ہم نے مریضوں کے معدے میں سوراخ تک ہوتے دیکھے ہیں۔

 حا ملہ مریضہ

حاملہ مریضہ کے لئے تو دواأوں کے لکھتے وقت نہ صرف اس عورت بلکہ اُسکے اندر نوزاأیدہ روح کا بھی خیال رکھا جاتا ہے۔ اس کی تفصیل حاملہ عورتوں کے مساأل کے عنوان میں تفصیل سے دے دی گئی ہے۔ اسی طرح دوا دودھ پلانے والی ماأوں کے ذریعے دوا انکے بچے میں جا کر نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اسکی تفصیل بھی اُسی باب میں ملاحظہ فرماأیں۔

شوگر کے مریض 

خون میں شوگر کے مریض کو کو”ی بھی سرجری کا کام کروانے سے پہلے اپنے خون میں شوگر کے لیول کے بارے میں تسلی کر لینی چاہیے۔ کیونکہ شوگر کی بلند سطح زخم مند مل ہونے میں خرابی پیدا کرتی ہے۔ اسی طرح دوران سرجری شوگر کی کم سطح بھی بے شمار حادثات کو جنم دیتی ہے شوگر کے مریضوں کو خود بھی وہ علامات پتہ ہونی چاہیں۔ کہ جسم میں شوگر کی کمی اور زیادتی کی کیا علامات ہوتی ہیں۔ تاکہ وہ خود اپنے حالات سے متنبہ ہو کر حفاظتی اقدامات کر سکیں

   شوگر کم یا زیادہ ہونے کی علامات

ذیل میں ہم صرف ایک دو اشارات مریضوں کے فاأدہ کے لئے لکھ دیتے ہیںخون میںشوگر کی مقداراگرنارمل مقدارسے زیادہ ہو یا کم ہو تو دونوں صورتیں نقصان دہ ہیں۔اورانکی اپنی مخصوص علامات ہوتی ہےں۔شوگر کے مریضوں کو پتہ ہونا چاہیے۔ کہ اگراُنکے خون میں شوگر کی مقدارخطرناک حد تک کم ہو گی۔ تو زبان اورجلدگیلی محسوس ہوگی۔ سانس اوربلڈپریشرنارمل رہے گا۔دل گھٹتا ہوا محسوس ہوگا۔ایسی صورت میں انہیںفوراً گلو کوز یا چینی کھا کر مقدار کوپورا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔جبکہ خون میں اگر شوگر کی مقدار خطرناک حدتک زیادہ ہوجاأے۔ تواس میںجلدخشک ہوتی ہے۔ بلڈ پریشرکم ہو جاتاہے۔اور سانس بھی اۤہستہ ہو جاتا ہے۔

ہر شوگر کے مریض کو چاہیے کہ اس بیماری کے متعلق زیادہ سے زیادہ اپنے ڈاکٹر سے معلومات لے۔ترقی یافتہ ممالک میں تو شوگر کے مریض خصوصاً کارڈ جیب میں رکھتے ہیں۔ تاکہ کسی حادثے کی صورت میں طبی امداددینے والوں کو مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

 جگر کے مریض

جگر کے مرض میں مبتلا مریضوں کے علم میں ہونا چاہیے کہ انسانی جسم میں جگرکی مثال ایک کیمسٹ کی ہے۔ جو لی گئی دواأوں کو اجزاأ میں تقسیم کرکے خون میں شامل کرتاہے۔ اسلئے اگر اۤپ اپنی بیماری کی اطلاع ڈاکٹر کو نہیں دیتے ۔ تو بعض دواأوں کے اجزاأ بیمار جگر کے لیے سم قاتل کی حیثیت رکھتے ہیں۔

 گردے کے مریض 

گردے کے مریض اس بات سے بخوبی اۤگاہ ہو ں گے۔ کہ انسانی جسم کے ضاأع شدہ اور فاضل مادوں کو ضاأع کرنے کے لئے گردوں کو کام کرنا پڑتا ہے۔ اگر گردے پہلے ہی خراب ہوں۔ تو ایسی دواأیں تجویز کی جاتی ہیں ۔تاکہ گردوں پر زیادہ دباأو نہ پڑے۔

 خون کی بیماریوں میں مبتلا ہونا 

خون کی بیماریوں میں مبتلا مریضوں میں عموماً خون جمنے اور خون بہنے کا وقت نارمل نہیں ہوتا ۔ظاہر ہے کہ یہ حالت ایسے مریض کی سرجری میں انتہاأی احتیاطوں کی متقاضی ہوتی ہے۔

 بلڈ پریشر کے مریض

بلڈ پریشر کے مریض میں اگر اس پہلو کا خیال نہ رکھا جاأے تو زخم سے خون کا نہ رکنا ایک فطری بات ہے۔

 دل کے مریض

دل کے مرض میں مبتلا مریض مثلاً اینجاأنا، دل کے دورے والے، اسی طرح دل کے والوز کی خرابی وغیرہ وغیرہ کے مریضوں میں عموماً خون پتلا کرنے والی دواأیں استعمال ہو رہی ہوتی ہےں۔ جسکی وجہ سے ڈاکٹرز کو دانتوں کی سرجری کے درمیان کچھ عرصہ کےلئے ان دواأوں کو روکنا پڑتا ہے۔

 دل کے والوں یا جوڑ میں تبدیلی کرانے کے بعد مریض

جن مریضوں نے دل کے اۤپریشن کرواأے ہو”ے ہوتے ہیں۔ یا جوڑوغیرہ تبدیل یا دل کے والو یاپیس میکرلگواأے ہوتے ہیں۔ انکے علاج سے پہلے اینٹی بایو ٹکس کی مخصوص خوراک لازمی طور پر تجویز کی جاتی ہے۔ ورنہ منہ سے جراثیم خون میں جا کر مذکورہ جگہوں پر انفیکشن کا سبب بن جاتے ہیں۔ اور دل کی بیرونی جھلیوں یا ان اندرونی اعضاأ کی سوزش کا سامان پیدا کر کے مریض کی زندگی کو خطرہ لاحق کر دیتی ہیں۔

ذہنی امراض میں مبتلا مریض

ذہنی امراض مثلا مرگی وغیرہ میں مبتلا افراد کے لئے کام کرتے وقت اوزاروں اور کرسی کی حالت کو خاص پوزیشن میں رکھا جاتا ہے۔ تاکہ کسی ایمر جنسی سے باطریق احسن نمٹا جا سکے۔

۔مخصوص دواأوں سے الرجی

جن مریضوں کو کسی خاص دوا سے الرجی ہو انہیں لازما ًاس دوا کا نام یاد رکھنا چاہیے۔ ترقی یافتہ ممالک میں تو انکے کارڈز پر اُس دوا کا نام واضح لکھ دیا جاتا ہے۔ تاکہ اگر کسی سٹیج پر مریض ہوش میں نہ ہو تو اس دوا سے پرہیز رکھی جا سکے ۔ لیکن ہمارے ہاں عموماً لوگ دوا کا نام بتانے کے بجاأے اُسکا رنگ بتاتے ہیں۔ اور بعض تو یہ بتانے کی بھی زحمت نہیں کرتے ۔

بیماری میں استعمال ہونے والی ادویات اور علاج دندان کے دوران مستعمل ادویات کا ایک دوسرے پر اثرات 

جس طرح یہ امراض بذات خود دانتوں کے علاج کے درمیان مساأل پیدا کر تے ہیں۔ اسی طرح انکے علاج کے لئے استعمال ہونے والی ادویات بھی منہ میں اپنے اثرات چھوڑتی ہیں۔ جسکی وجہ سے دانتوں کی اپنی بیماریاں اور ان ادویات سے ہونے والے اثرات مل جل کر مریض کی صورت حال کو مزید بگاڑ دیتی ہیں۔

٭    اسی طرح بعض دواأیں ایک دوسرے کے اثرات کو زیادہ یا کم کر سکتی ہےں۔ بلکہ بعض دفعہ ایک دوا دوسری دوا کی صورت میں سخت نقصان دہ ہو جاتی ہے۔

٭     بلڈپریشر کی اور دل کی بیماریوں کی دیگر ادویات عموماً تھوک پیدا کرنے والے غدود پر اثر انداز ہوتی ہےں۔ اور خشک منہ میں مسوڑھوں کے امراض اور کیڑالگنے کا عمل بہت جلدی شروع ہو جاتا ہے۔

٭     اسی طرح دافع سوزش ادویات اور انٹی بایوٹکس بعض دفعہ منہ کے اندر چھالے پیدا کرنے کا سبب بن جاتے ہیں۔

٭    عموماً ادویات سے منہ کے ذاأقہ میں تبدیلی کی شکایت سننے کو ملتی ہےں۔

سٹیراأیڈز کا بے تحاشہ استعمال اوراس کے نقصانات

دواأوں کے استعمال میں ایک بڑا المیہ سٹیرا ءیڈز کا بے محابہ استعمال ہے۔

 عطاأی لوگوں کے ہاتھوں 

عموماً عطاأی لوگ بیماری کے خلاف جسم کو طاقت دینے کے لئے ان کا بے دریغ استعمال کراتے ہیں۔ اورفوری نتاأج سے اپنی وقتی واہ واہ کروالیتے ہیں۔ لیکن انکے دیرپا اثرات سے وہ خودبھی با خبر نہیں ہوتے ۔کیونکہ جسم کو جب باہر سے کثیر تعداد میں سٹراأیڈز ملنا شروع ہو جاأےں تو اسکے اپنے سٹیراأیڈ پیدا کرنے والے غدود کام چھوڑ جاتے ہیں۔ اور اسطرح مریضوں کو پوری زندگی کے لئے سٹریر اأیڈز کا محتاج بنا دیا جاتا ہے۔ کو”ی بھی کوالیفاأیڈ ڈاکٹر سٹیر اأیڈز استعمال کروانے کے بعد اس کو اۤہستہ اۤہستہ کم کرتا ہے۔ تاکہ اُسکے جسمانی غدود دوبارہ فعال ہو کر اپنا نظام سنبھال سکیں۔

 غذاأی اجناس کے ہاتھوں 

ہماری بدقسمتی ہے کہ ادویات توایک طرف اۤجکل غذاأی اجناس کی کاردکردگی بڑھانے کے لئے بھی عوام کو سیٹراأیڈز کا عادی بنایا جا رہا ہے۔ صرف ایک مثال ہی لیجئے پولٹری کی صنعت میں چوزوں کو سٹیر اأیڈ زکے انجکشنز لگا کر اور خوراک میں سیٹراأیڈز ڈالکراُن کا وزن بڑھایا جاتا ہے۔ تاکہ زیادہ سے زیادہ پیسے کماأے جاسکیں۔ اب مجھے بتایئے کہ کون سا ہوٹل ہے کون سی دعوت ہے جہاں فارمی مرغ نہیں پک رہا ہوتا ہے اور عوام الناس اس حقیقت سے نا اۤشنا سٹیر اأیڈز اپنے جسم میں اتار کر اپنے قدرتی نظام کو تباہ کر رہے ہوتے ہیں۔

یہ تو ایک مثال ہے۔ اۤجکل میڈیا کا دورہے اکثر یت عوام ان حقاأق سے با خبر ہوگی یہاں تو بقول

پنبہ کجا کجا مے نہد جسم من تار تار شود

کہ کہاں کہاں رو”ی رکھوں میرے تو ساراجسم تار تار ہے۔

سٹیراأیڈ کھانے والے مریض کے لئے خصوصی احتیاط

جب سٹیراأیڈز استعمال کرنے والامریض ڈاکٹر کے پاس اۤتا ہے۔ تو اُسے اس معمول کی خوراک سے ڈبل سٹیراأیڈ زکھا کر اۤنے کا کہا جاتا ہے۔ تاکہ سرجری وغیرہ کے عمل کے دوران جسم کو سٹیراأیڈز کی جو اضافی مقدار درکار ہو وہ پہلے سے پوری ہو اور دوران علاج کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔اسواسطے اپنے معالج کو اپنی میڈیکل ہسٹری اور استعمال کرنے والی ادویات کے نسخہ جات لازماً دکھاأیں۔ تاکہ دانتوں اور منہ کی حالت کو مقامی خرابیوں کے ساتھ ساتھ مریض کی میڈیکل ہسٹری اور مستعمل ادویات کے تناظر میں معاأنہ کیا جا سکے۔

دوران علاج احتیاطیں 

سو”ی اوزاروں اور خون سے نہ ڈریں

بعض مریض دانت نکلوانے کے دوران یا پہلے ہی اوزاراور ٹیکہ دیکھ کر دل چھوڑ بیٹھتے ہیں۔ اور بلڈ پر یشر گر جانے کی وجہ سے بے ہو ش ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح بعض لوگ ذرا سا خون دیکھ کر گھبر ا جاتے ہیں۔ اۤجکل سرنج کی شکل سلیوز کے ذریعے بدل کر اس ڈر کو کم کیا جا رہا ہے۔

مختلف ڈاکٹرز کا مختلف طریقہ

ہر ڈاکٹر کا اپنا اپنا طریقہ ہوتاہے۔ بعض ڈاکٹرز مریض کے لواحقین کو باہر بیٹھا دیتے ہیں۔ اور بعض مریض کے لواحقین کواسکے سامنے بیٹھا دیتے ہیں۔ لیکن کئی دفعہ لواحقین ہی ایمرجنسی پیدا کر دیتے ہیں۔ بار بار مریض سے پوچھتے ہیں۔ کہ درد تو نہیں ہو رہا اور انکی پریشانی کو دیکھ کر مریض اور بھی پریشان ہو جاتاہے۔

خوف نہ رکھیں ۔ ۔۔۔ایک واقعہ 

میں ایک بچے کا دانت نکال رہا تھا اور ساتھ ہی اُسکا والد کھڑا تھا۔ بچہ تو پورے عمل کے دوران صحیح رہا لیکن اسکا والداپنے بچے کے نکلے ہو”ے دانت اور بہتے ہو”ے خون کو دیکھ کر بے ہوش ہو گیا۔ اس واسطے چاہیے کہ مریض کو حوصلہ دینے والے خود بھی حوصلہ مند ہوں۔ جو ساتھ بیٹھنے کی خواہش کا اظہار کریں۔بہرحال اۤجکل دانت نکالنے کا سارا عمل بغیر کسی تکلیف کے ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ سو”ی کے چبھنے کے احساس کو بھی ختم کیا جاسکتا ہے۔

  جگہ سن ہونےکے دوران احتیاط

بعض مریض جب دانت سن کرنے والا ٹیکہ لگتا ہے۔وہ منہ سوجا سوجا محسوس کرتے ہیں۔ یہ ایک قدرتی بات ہے۔ جس طرح کبھی پاأوں سن ہوجاأے تو وہ سوجا ہوا محسوس ہوتا ہے۔سن کرنے والے ٹیکہ کا اثر اۤدھے گھنٹے سے لے کردو گھنٹے تک رہتا ہے۔ اسلئے ڈاکٹر عموماً ٹیکہ لگنے کے دو ، تین گھنٹے تک زیادہ کھانے یا چبانے سے منع کرتے ہیں۔ کہ کہیں اپنے گالوں یا ہونٹوں کو چبا کر زخمی نہ کر دیں۔

دانت نکلوانے کے بعد احتیاطی تدابیر 

دانت نکلوانے کے بعد مریض کو درجہ ذیل احتیاطوں پر سختی سے عمل کرنا چاہئے۔

٭    مریض کے منہ میں دوا لگی رو”ی رکھ دی جاتی ہے۔ اسکو اۤدھے یا پونے گھنٹے بعد نکال دینا چاہیے۔

٭    بار بار منہ میں رکھی گئی رو”ی نہ بدلےں۔

٭    اسکے بعد تجویزکردہ دواٹھنڈے پانی سے لیں اوراگلے چوبیس گھنٹے ٹھنڈی نرم غذا کھاأیں۔

٭    سن کرنے والے ٹیکہ کا اثر جب تک رہے کھانے اور چبانے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ ورنہ گال اور ہونٹ دانتوں میں اۤکر زخمی ہو سکتے ہیں۔

٭    چوبیس گھنٹوں تک تھوکنے زخم کو چوسنے ، سگریٹ نوشی ، زیادہ کلیاں کرنے ، زخم کو زبان لگانے سے پرہیز کریں۔

٭    منہ زیادہ ہلانے سے پرہیز کریں۔ اور پانی سٹرا کے ساتھ پئیں ۔

٭    چوبیس گھنٹے بعد اگلے چار پانچ دن نیم گرم پانی میں نمک ڈال کر کلیاں کریں۔

٭    تین دنوں تک کو”ی ماأوتھ واش استعمال نہ کریں۔

٭    دانت نکلی جگہ پر برش نہ کریں البتہ باقی دانتوں اور زبان پر برش کر سکتے ہیں۔

٭    پہلے 48گھنٹے تھوڑا بہت خون نکلنا ، سوجن اور معمولی درد عام سا معمول ہے۔ بہر حال کسی بھی چیز میں زیادتی کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

سرجری سے دانت نکلوانا

(Surgical Extraction )

ہر دانت کو نکالنے کا طریقہ ایک جیسا نہیں ہوتا 

اسلئے ایسے دانت کو عام دانتوں کی طرح نہیں نکالا جاتا۔ بلکہ اردگرد کی ہڈی کو کاٹ کر دانت کو نکالا جاتا ہے۔ جسکے لئے ڈینٹل سرجن کی مہارت اور تجربہ بنیادی حیثیت رکھتے ہےں۔

عام لوگ ہر دانت کو ایک جیسا سمجھتے ہیں۔ اورعموماً مثال دیتے ہیں۔ کہ میں نے پہلے تو ایک دانت نکلوایا تھا۔ وہ تواۤسانی سے نکل گیا تھا۔ حالانکہ مریض کو نہیں پتہ ہوتاکہ کون سا دانت کس پوزیشن پر پڑا ہے۔ بعض دانت جسے مریض بہت مشکل سمجھ رہا ہوتا ہے۔ وہ ڈاکٹر کے لئے بہت اۤسان ہوتا ہے اور بعض دانت جسے مریض اۤسان سمجھ رہا ہوتا ہے۔ ڈاکٹر کو نکالنے سے پہلے کافی پہلو”وں پر سوچنا پڑتا ہے۔ جسے عموماً مریض سمجھتا ہے کہ اوپر والا دانت نکالنا بڑا مشکل ہوتا ہے۔ اور نیچے والا اۤسان ۔ حالانکہ اوپر جبڑے کی ہڈی نچلے جبڑے سے بہت نرم ہو تی ہے۔ تو ظاہر ہے کہ نرم ہڈی سے دانت کو بنسبت اۤسانی سے نکالا جا سکے گا ۔ اسی طرح کو”ی دانت جسے اوپر سے پکڑنے کے لئے کو”ی جگہ ہی نہیں وہ ایسے دانت کی طرح کیسے نکل سکتا ہے۔ جسکے اوپر پوری طرح اوزار سے پکڑنے کے لئے جگہ موجود ہو۔

درج ذیل اقسام کے دانتوں کو نکالنے کے لئے عموماً ڈاکٹر ز کو سرجری کا سہارا لینا پڑتا ہے۔

  بہت زیادہ تباہ شدہ دانت 

درج ذیل اقسام کے دانتوں کو نکالنے کے لئے عموماً ڈاکٹرز کو سرجری کا سہارا لینا پڑتا ہے۔کیونکہ ایسے دانتوں میں اوپر سے پکڑنے کی جگہ نہیں ہوتی لہذا ہڈی کو کاٹ کر دانت نکالا جاتا ہے

 دانتوں کا جبڑوںکی ہڈی سے جڑاہونا

بعض دانتوں کی جڑیں ہڈی کے ساتھ جڑی ہوتی ہیں۔

 جڑوں کا ٹیڑھا پن :

بعض دانتوں کی جڑیں ہڈی کے اندر پھیلی ہوتی ہیں۔اور بعض کی جڑیں انتہاأی ٹیڑھی ہوتی ہیں۔

 جڑوں کالمباہونا

بعض لوگوں کی دانتوں کی جڑیں بہت لمبی ہوتی ہیں۔

اور اپنی پریکٹس کے دورانمیں نے یہ ڈیٹا اکھٹا کیا کہ وہ لوگ جو زیادہ گوشت خور ہوتے ہیں۔ جیسے پٹھان وغیرہ انکی دانتوں کی جڑوں کو بہت لمبا پایا۔اسی طرح بعض خاندانوں میں جیسے اعوان وغیرہ انکی جڑوں کی لمباأی بھی بہت زیادہ پاأی۔

بعض لمبی جڑوںکااوپر والے جبڑے کی ہڈی کے خلاأوں میں ہونا

بعض لوگوں میں اوپر کے دانتوں کی جڑیں اتنی لمبی ہوتی ہیں۔ کہ جبڑے کے خلاأ کے اندر تک گئی ہوتی ہےں۔ جس میں ذرا سی بے احتیاطی منہ اور خلا کے درمیان راستے کو کھول دیتی ہے۔ اور مریض جو چیز کھاتا ہے۔ ناک کے راستے باہر اۤجاتی ہے۔

اسے میڈیکل اصطلاح میں اورواینٹرل فسچولاOroantral Fistulaکہتے ہیں۔ جسے بند کرنے کے لئے خصوصی قسم کے اقدامات اُٹھاأے جاتے ہیں۔

 روٹ کینال علاج والے دانت 

شدید درد کی صورت میں بھی اۤجکل دانت کو روٹ کینال علاج کے ذریعے محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ لیکن اس علاج کا مکمل فاأدہ اسی صورت میں ممکن ہوتا ہے۔ جب اس علاج کے بعد دانت پر کور یعنی کراأون چڑھالیا جاأے۔ ورنہ کچھ عرصہ بعد ایسے دانت کو ٹوٹنے کے امکانات بہت زیادہ ہو جاتے ہیں۔ اور جب دانت ٹوٹ جاأے تو پھر نکلوادینے کے علاوہ کو”ی چارہ کار نہیں رہتاہے۔

ایسا دانت نکالنا کسی بھی ڈینٹل سرجن کی مہارت کا اظہار ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ دانت رو”ی کے سوکھے ٹکڑے کی طرح ٹوٹتا جاتا ہے۔ اور عموماً ایسے دانت کو نکالنے کے لئے سرجری کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ جس میں دانت کے ساتھ والی ہڈی کو کاٹ کر اسے نکالا جاتا ہے۔

 جڑوں کے پاس سے دانتوں کا کیڑا لگا ہو ا ہونا 

ایسے دانت بھی عموماً نکالتے وقت کیڑا لگے مقام سے ٹوٹ جاتے ہیں ۔اور علیحدہ علیحدہ جڑیں نکالنی پڑتی ہےں۔

۔دانتوں کی جڑوں کے ساتھ رسولیوں کا بنا ہونا

ایسے دانت کو بھی نکالنے کے ساتھ نیچے رسولیوں کو مکمل صاف کرنا پڑتا ہے۔ ورنہ بعد میں یہی خرابیا ں خطرنا ک صورت پیدا کرتی ہےں۔

 بعض دانتوں کی جڑوں کا اۤپس میں جڑا ہونا

ایسے دانتوںکو نکالنے کے لئے بھی سرجری کے سوا چار ہ کار نہیں ہوتا ۔ ایسے دانتوں کا پتہ اسوقت چلتا ہے۔جب وہ سرجن کو زور لگانے کے باوجود نہیں ہلتے یاساتھ دوسرا دانت بھی ہلتا ہے۔ ایکسر ے کر کے صحیح صورت واضح ہوجاتی ہے۔ ذیل تصویر میں اۤپ ایک ایسا دانت اور اسکا ایکسرے ملا خطہ فرما سکتے ہیں۔

 کسی دانت کی رہ گئی جڑوں کا اردگرد کے دانتوں میں پھنس جانا

بعض دفعہ دانت کا اوپر حصہ یعنی کراوئن تباہ ہو کر ٹوٹ جاتا ہے۔ا ور اگلے پچھلے دانت اس جگہ کو بند کرنے کی کوشش میں قریب اۤجاتے ہیں۔ اور جب یہ تباہ شدہ دانت پھنس جاتا ہے۔

 پھنسے ہو”ے دانتوںکی وجوہات

 غذاأی تبدیلیاں

جدید تحقیق کے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان کی غذا کے اندر بے شمار تبدیلیاں اۤگئیں ہیں۔ نرم غذاأوں کے استعمال نے بچوں کے پکے دانتوں کے نکلنے میں تاخیر کا مسئلہ پیدا کر دیا ہے۔

 جبڑوں کا مناسب ساأز تک نہ بڑھنا

انہی بے قاعدگیوں نے جبڑے کی ہڈیوں کو بھی مناسب ساأز تک بڑھنے سے روک دیا ۔جبکہ دانتوں کا ساأز وہی رہا۔اب جس وقت دانتوں اور جبڑے کی ہڈیوں کے تناسب میں فرق پڑا ۔ تو عموماً جو ان اۤدمیوں میں پھنسے دانتوں کی شکایت ملتی ہے۔ کیونکہ جبڑے کا ساأز کم ہونے کی وجہ سے ایسے دانتوں کو نکلنے کے لیے مناسب جگہ نہیں ملتی ۔

۔بچوں میں دودھ کے دانت کا وقت سے پہلے ضیاع

اسی طرح بچوں میں بعض دفعہ دودھ کے دانت اپنے وقت سے پہلے ضاأع ہو جاتے ہیں۔ اور اسطرح پچھلے دانت اۤگے اۤکر ضاأع ہو نے والے دودھ کے دانت کے نیچے پکے دانت کو نکلنے سے روک دیتے ہیں۔

پھنسے دانتوں کے نقصانات

یہ پھنسے ہو”ے دانت جب قدرتی طاقتوں کی وجہ سے باہر نکلنے کے لئے زور لگا تے ہیں۔ تو اۤگے پڑے دانتوں کے اندر بے شمار خرابیاں پیدا کر دیتے ہیں۔

 ساتھ والے دانتوں کی جڑوںپر اثر 

پھنسے دانت عموماً ساتھ والے دانتوں کی جڑوں کو گلا دیتے ہیں۔

 ساتھ والے دانت میںسسٹ بن جانا

اسی طرح پھنسے دانت جب نکلنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس دباأو سے سسٹ یعنی ایک ماأع کی تھیلی بن جاتی ہے۔ جس سے جبڑے کی ہڈی گلنا شروع ہو جاتی ہے۔

 ٹیڑھی عقل ڈاڑھ

پھنسے دانتوں میں سب سے عام پاأی جانے والی حالت عقل ڈاڑھ کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔ چونکہ یہ دانت 18سے 25سال کے درمیانی عمر میں نکلتا ہے۔ اور یہی عمر شعور کی بہترین ارتقاأ کی ہوتی ہے۔ اس لئے اسے عرف عام میں عقل داڑھ کہتے ہیں۔ عقل داڑھ کا اس طرح مشکل سے نکلنا۔ سیانوں کے اس مقولے کو سچ ثابت کرتا ہے۔ کہ ”عقل بڑی مشکل سے اۤتی ہے ” اسلئے عقل داڑھ کو ایک علیحدہ عنوان سے تحریر کیا جا تا ہے۔

دانت نہ نکلنے کے نقصانات

 سخت درد

مریض کو اۤخری دانت کے قریب سخت درد محسوس ہوتا ہے۔

 سوجن

اور بعض دفعہ گلے کے پاس سوجن کی شکایت کرتا ہے۔

منہ بند ہو جانا

بعض مریضوں میںمنہ بھی تقریباً بند ہو جاتا ہے۔

اردگرد مسوڑھے کی سوزش 

بعض دانت ہڈی سے تو باہر اۤجاتے ہیں۔ لیکن انہیں مسوڑھا باہر نکلنے کے لئے جگہ نہیں دے رہا ہوتا۔ ایسی صورت میں مسوڑھے کو کاٹ کر دانت کی سطح کو سامنے لایا جاتا ہے۔ کیونکہ عموماً ایسے مسوڑھوں میں پاکٹ بن کر خوراک کے باریک ذروں کو پھنسے کی جگہ فراہم کرتی ہے۔ جس میں خوراک کے ذرے گل سڑ کر پیپ پیدا کرتے ہیں۔

 منہ میں بد بو 

ایسے مریض کے منہ سے سخت قسم کی بو اۤتی ہے۔

 بخار

بننے والی پیپ نیچے گلے کے پاس اکھٹی ہو کر بخار درد اور سوجن کاموجب بنتی ہے۔ اکثر مریضوں میں منہ بند ہو جاتاہے۔ اور کھانے پینے میںانتہاأی دشواری کا سامنا کرنا پڑتاہے۔ بعض دفعہ اۤخری دانتوں کی لاأن سے باہر کی طرف نکلتا ہے۔ اور چباتے وقت گال وغیرہ کے پٹھوں کو زخمی کر دیتا ہے۔

بعض دفعہ اۤخری دانتوں کے مدمقابل دانت نہ ہونے کی وجہ سے یہ دانت دوسرے دانتوں کی سطح سے اوپر نکل اۤتاہے۔ اور مساأل کا سبب بنتا ہے۔

اگلے دانت پر کیڑا لگ جانا

ٹیڑھے دانت اور اگلے دانت کے درمیان خوراک پھنس کر اگلے دانت میں کیڑا لاگا دیتی ہے

ایکسرے ۔۔۔۔صحیح تشخیص

پھنسے ہو”ے دانت کی نوعیت دیکھنے کے لئے ایکسرے کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ کیونکہ دانت کے ٹیڑھے پن اور پھنسی ہو”ی پوزیشن کونوعیت کے مطابق مختلف کلاسز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اور ہر کلاس کی نوعیت کے مطابق ڈاکٹر سرجری کے عمل کی تیاری کرتا ہے۔ ذیل میں تصاویر کے ذریعے ان اقسام کی وضاحت کی جاتی ہے۔

سرجری کروانے کیلئے احتیاطیں

سرجری کسی مستند اور تجربہ کار ڈینٹل سرجن سے کروانی چاہیے۔ کیونکہ اناڑی ڈاکٹرز بعض دفعہ ہڈی کاٹتے کاٹتے ساتھ اردگرد پڑی اعصابی تاریں بھی کاٹ دیتے ہیں۔ جس سے وہ ساری جگہ سن ہو جاتی ہے۔ جس حصے میں اعصابی تارجارہی ہوتی ہے۔

سرجری سے پہلے احتیاطی تدابیر 

سرجری کروانے سے پہلے اوربعد میں ان تمام تدابیر پر جو کسی بھی دانت کو نکلواتے وقت پیش نظر رکھنی چاہیں خیال رکھیں اور اپنی مکمل میڈیکل ٹیسٹ رپورٹس ساتھ رکھیں۔ کئی مریضوں کو دوران سرجری مختلف مساأل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ درج ذیل معلومات سے وہ اس مسئلہ کی حقیقت جان کر پریشانی سے بچے سکتے ہیں۔

سرجری کے دوران مساأل 

 جگہ کا سن نہ ہونا 

ویسے تو جگہ سن نہ ہونے کی بہت سی وجوہات ہیں۔لیکن عمومی وجوہات جو مریض کے علم کے لئے فاأدہ مند ہیں۔ وہ درج ذیل ہیں۔

دانت کے نیچے انیفکشن کا زیادہ ہونا 

اگر کسی دانت کے نیچے زیادہ پیپ پڑی ہو تو وہ سن کرنے والے ٹیکے کے اثر کو زاأل کر دیتی ہے۔ اور اسکے نیچے اعصابی تاروں تک نہیں پہنچنے دیتی ۔ اسطرح اردگر د کی باقی جگہ سن ہو جاتی ہے۔ جبکہ متاثرہ دانت اُسی طرح ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں ڈاکٹرز کے پاس کئی طریقے ہوتے ہیں۔ اور ان طریقوں کو اۤزمایا جاتاہے۔

بہر حال انجکشن ڈاأریکٹ پیپ میں نہیں لگایا جاتا کیونکہ اسطرح اسکے پھیلنے کا خدشہ ہوتا ہے۔ اسطرح اگر سارے طریقے ناکام ہو جاأیں تو پھر ڈاکٹر پیپ خشک کرنے کے لئے دواأیں لکھ کر دے دیتے ہیں۔ تاکہ انفیکشن کے خاتمہ کے بعد ٹیکہ صحیح طریقے پر اثر کر سکے ۔

مریض کا زیادہ حساس ہونا

اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو برداشت کی ایک طاقت دی ہے۔ بعض لوگ بڑی چوٹ کے بھی درد کو اۤسانی سے رداشت کر لیتے ہیں۔ جبکہ بعض معمولی سے درد پر بھی بلبلا اُٹھتے ہیں۔ اسطرح بعض ایسے مریض ہوتے ہیں۔ جو کہ جگہ سن ہونے کے بعد بھی پریشان رہتے ہیں۔ اور ذرا سے دباأو کے احساس پر بھی شور مچاتے نظر اۤتے ہیں۔ ایسے مریضوںکو علاج سے پہلے عموماً ریلیکس کرنے کی دواأیں کھلاأی جاتی ہیں۔ لیکن بعض دفعہ اُنکے بھی نتاأج خاطر خواہ نہیں ہوتے ۔

مریض کا نشے میں مبتلا ہونا

عموماً نشہ کرنے والے لوگوں کا اعصابی نظام کافی ڈھیٹ ہو چکا ہوتا ہے۔ اسلئے معمولی انجکشنز ان کی جگہ کو سن کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔

اۤجکل ریلیٹیو اینلجیسا کے ساتھ ایسے مریضوں کا تسلی بخش علاج ممکن ہے۔ جس میں گیس کے ذریعے وہ کسی ذہنی تناأو میں نہیں رہتے ۔

یعنی خوفزدہ اۤتے ہیں اور ہنستے مسکراتے علاج کروا کر کلینک سے جا رہے ہوتے ہیں۔

یوں تو دوران علاج بے شمار قسم کی پیجید گیاں پیدا ہو سکتی ہےں۔ اور ان سے نمٹنے کے لئے ڈینٹل سرجنز کو خصوصیٹرئینگ دی جاتی ہے۔ لیکن عام حالت جو سرجری کےبغیر بھی مریضوں میں پیش اۤتی ہے۔ وہ عموماً دوران علاج بے ہو ش ہو جانے کی کیفیت ہے۔

 بے ہوش ہو جانا 

اللہ تعالیٰ نے انسانی جسم میں دل اور دماغ شہنشاہ بناأے ہیں۔ جسوقت انکے کام میں فرق پیدا ہو جاأے تو بے شمار مساأل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ قیمتی جان بھی ضاأع ہو سکتی ہے۔

وجوہات

مریض کا زیادہ خوف زدہ ہونا 

بہت زیادہ خوفزدہ مریض کے ساتھ عموماً یہ کیفیت پاأی جاتی ہے۔ کیونکہ خوف کی وجہ سے انسانی جسم ایسے ہارمونز خارج کرتا ہے۔ کہ اُسکی خون کی نالیوںکے اندر پھیل جاتی ہے۔ ۔ اب خون کی جو مقدار عام خون کی رگوں کے اندر تھی نالیاں پھیلجانے کی وجہ سے جسم ایک دم خون کی کمی کا شکار ہو جاتا ہے۔

چونکہ دانت کا کام یونٹ پر اسطرح ہو رہا ہوتا ہے۔ کہ سر باقی جسم سے اونچا ہوتا ہے۔ تو ساراخون نچلے دھڑ کی طرف چلا جاتا ہے۔ اور اوپر والا حصہ خون کی کمی کے باعث اس کیفیت سے دوچار ہو جاتا ہے۔ جب دل خون پوری طرح سپلاأی کرنے کے قابل نہیںرہتا تو زورزور سے دھڑکتا ہے۔ اور پھر اۤہستہ اۤہستہ اسکی حرکت کی شدت میں کمی اۤجاتی ہے۔ اس طرح دماغ کو پوری طرح خون نہ ملنے کی وجہ سے چکر اۤنا اور بے ہوش ہو جانے کی کیفیت سامنے اۤتی ہے۔

عمومی زندگی میں بعض افراد کا بے ہوش ہوجانا

کچھ یہی کیفیات عام زندگی میں بھی پیش اۤتی ہےں۔ کہ عموماً رش میں یا کو”ی خبر سُن کر صدمے سے یا کسی خوف سے مریض میں خون کا دباأو کم ہو جاتا ہے۔اور دل اور دماغ میںخون کی پوری مقدار نہ پہنچ سکنے سے وہ شخص بے ہوش ہو جاتا ہے۔

عوام الناس کا غلط رویہ

میں نے عموماً دیکھا کہ عوام الناس ایسے بے ہوش شخص کا سر اُٹھا کر جھولی میں رکھ لیتے ہیں۔ اور اوپر سے پانی کے چھینٹے مارتے ہیں۔ بعض ہاتھ پاأوں ملنا شروع کر دیتے ہیں۔ اگر چہ پانی کے چھینٹے مارنا اور ہاتھ پاأوںملنے کی ایک منظقی وجہ ہو سکتی ہے۔ کہ ٹھنڈا پانی لگنے سے مریض کی رگیں دوبارہ سکڑتی ہے۔اور اس طرح ہاتھ پاأوں ملنے سے جو گرمی پیدا ہوتی ہے۔ خون کی حرکت رگوں میں تیز ہو جاتی ہے۔ جس سے مریض کے ہوش میں اۤنے کے امکانات پیدا ہو جاتے ہیں۔

لیکن سر کو اوپر اُٹھا لینا انتہاأی بے و قوفی کا رویہ ہے۔ کیونکہ سرمیں دماغ کے سیل کچھ دیر خون نہ ملنے سے مردہ بھی ہو سکتے ہیں۔

صحیح طریقہ 

اسلئے بے ہوش مریض کو ہوش میںلانے کابہترین طریقہ یہ ہوتا ہے کہ اُسکی ٹانگوں کو اوپر اُٹھا یا جاأے ۔ تاکہ خون کی سپلاأی دل اوردماغ کی طرف بحال ہو سکے۔ اسطرح مریض منٹوں میں صحیح ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹر ز اسکے ساتھ خون کی حرکت کو تیز کرنے کے لئے سپر ٹ امونیاسونگھایا جاتا ہے اورساتھ دیگر ٹیکے لگاتے ہیں۔

بہر حال تمام بے ہوشی کی کیفیات ایک جیسی نہیں ہوتیں ۔ اور انہیں سمجھنا ایک مستند ڈاکٹر کا ہی کام ہے۔ اگر بے ہوش مریض ایک یا دو منٹ تک ہوش میںنہ اۤءے توڈاکٹر اسے ”عمومی بے ہوشی” کے زمرے سے نکال کر دوسری وجوہات کی طرف توجہ کرتے ہیں۔

سرجری نکلے دانت کے لئے اضافی احتیاطی تدابیر

صرف سرجری کے ساتھ نکلے دانت میں جو اضافی تدابیر اختیار کی جاتی ہےں۔ وہ حسب ذیل ہیں۔

ہدایات

سرجیکل طریقے سے نکالے ہو”ے دانت میں مندرجہ ذیل ہدایات پر عمل کریں۔

٭    ایسا دانت چونکہ ہڈی کاٹ کر نکالا گیاہوتا ہے۔ اسلئے اگلے دو دن سوجن سے نہ گھبراأیں کیونکہ یہ قدرتی بات ہے۔

٭    اگر درد اور سوجن محسوس کریںتو چہرے کے باہر کی طرف ٹھنڈی ٹکور دیں۔

٭    جو ٹانکے لگاأے گئے ہوں ان کو نہ چھڑیں۔ زخم کو اۤءینے میں دیکھنے کی کوشش نہ کریں۔ جو دواتجویز کی گئی ہے۔ اس سے لازماً کلیاں کریں۔

٭     پانچ دنوں بعد ٹانکے نکلوادیں۔

دانت نکلوانے کے بعد عمومی پیچیدگیاں

۔ خون زیادہ بہنا

اگردوران سرجری زیادہ خون نکلے تو اسکو کنٹرول کرنا ڈاکٹر کاکام ہوتاہے۔ لیکن بعض مریض دانت نکلوانے کے بعد گھر جا کر زخم سے زیادہ خون بہنے کی کیفیت سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ جسکی عموماً وجوہات مندرجہ ذیل ہوتی ہےں۔

۔    مریض کے خون میں جمنے کی خرابیاں اور دیگر امراض

۔    زخم کا زیادہ بڑا ہونا

۔    خراب مسوڑھوں سے دانت کو نکلوانا

۔    مریض کی غلط فہمی

مریض کے خون میں جمنے کی خرابیاں اور دیگر امراض

بعض دفعہ مریض اپنی کئی بیماریوں سے بے خبر ہوتا ہے اور جب یہ سرجری کے عمل سے گزرتا ہے۔ تو پھر خون کے ٹیسٹ سے اس کے علم میں اۤتا ہے کہ وہ اس بیماری کا شکار ہے۔ جسکے علاج کے لئے اُسے متعلقہ فیلڈ کے ڈاکٹر کے پاس جانا پڑتا ہے۔اسطرح اگر مریض بلڈ پریشر کا شکار ہو توخون بلند فشار کی وجہ سے زیادہ بہتا ہے۔

اسی طرح دیگر بیماریاں جن میں خون جمنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے اوراسی طرح بعض دواأیں بھی خون کے جمنے میں رکاوٹ پیدا کرتی ہےں۔ انکا ذکر سرجری سے پہلے کی احتیاطوں میں کر دیا گیا ہے۔

۔زخم کا زیادہ بڑا ہونا

بعض دفعہ ناتجربہ کار ڈاکٹر ایک ساتھ کافی تعداد میں دانت نکال کر زخم کو جوڑنے کے لئے ٹانکے نہیں لگاتے جسکی وجہ سے بڑے زخم سے زیادہ خون کا اۤنا فطری سی بات ہے۔

خراب مسوڑھوں سے دانت کو نکلوانا

بعض دفعہ مسوڑھے خراب ہوتے ہیں۔ اور دانت ہل رہا ہوتا ہے۔ خراب مسوڑھوں میں چونکہ دوران خون بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اسلئے ایسا دانت نکالنے سے زیادہ خون بہنے کی شکایت عام ہوتی ہے۔

 مریض کی غلط فہمی

ٍ بعض دفعہ مریض تھوڑے سے خون بہنے کو بھی ایک مسئلہ بنا لیتے ہیں۔ حالانکہ چوبیس گھنٹے تک زخم سے معمولی خون اۤنا ایک معمول کی بات ہوتی ہے۔ اس کے لئے یہ معیار سمجھ لیں کہ اگر تھوک خون سے زیادہ ہو تو سمجھ لیں کہ یہ نارمل ہے ہاں اگر خون تھوک سے بہت زیادہ دکھاأی دے تو پھر ڈاکٹر سے رجوع کر نا دانشمندی ہے۔

علاج

پہلے وقتوں میں عموماً دانت نکلوانے کے بعد گرم حلوہ کھایا جاتا تھا۔ اور اسکی کو”ی منطقی وجہ نہیں تھی۔ اسلئے اب ڈاکٹرز

٭    سرجری کے بعد ٹھنڈی چیز کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ تاکہ زخم سکٹر جاأے اور خون زیادہ نہ بہے۔

٭    اللہ تعالیٰ نے انسانی خون کے اندر جمنے کی طاقت رکھی ہے۔ اسلئے منہ کے اندر جو پٹی رکھی جاتی ہے۔ اسکے اندر جذب شدہ خون ہی باقی خون کو جمانے کا سبب بنتا ہے۔

اسکی مثال اۤپ اسطرح سمجھ سکتے ہیں۔ کہ اگر اۤپکی کسی اُنگلی سے خون نکلے اور اۤپ اسے صاف کرتے رہیں۔ تواسکے رکنے کا عمل بہت لیٹ ہو جاأے گا۔ ہاں اگر اۤپ اسکے اوپرپٹی باندھ لیں تو اس پٹی کے اندر جذب شدہ خون نکلنے والے خون کو زیادہ بہنے سے روک دے گا۔

اس بات کی وضاحت میں اس لئے ضروری سمجھتا ہوں کہ دانت نکلوانے کے بعد عموماً مریض منہ سے خون والی پٹی نکال کر نئی رکھوانے پر اصرار کر رہے ہوتے ہیں۔ جو ایک غلط روش ہے۔ مریض کو چاہیے کہ ڈاکٹر کے بتاأے ہو”ے طریقہ پر عمل کر ے اور زخم پر اۤدھا گھنٹے سے ایک گھنٹہ تک پٹی کودانت ملا کر پڑا رہنے دے۔

ہاں اگرپھر بھی زیادہ خون کا مسئلہ درپیش ہو تو اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں اور اس دوران

۔    زخم پر صاف ململ کی پٹی رکھ کر مخالف دانتوں سے دباأیں

۔    ٹھنڈی چیزوں کا استعمال کریں

۔    چاأے کی پتی کسی صاف ململ کی پٹی میں رکھ کر زخم پر رکھیں ۔ اسکے اندر موجود ٹینک ایسڈ زخم کو سکیڑ کر خون کے بہاأو کو روکنے میں مدد گار ہوتا ہے۔

۔ دانت نکلوادینے کے بعد سخت درد کا شکار ہو جانا

بعض مریض دانت نکلوانے کے تین چاردن بعد سخت درد کی کیفیت میں اۤتے ہیں۔ اور جو دانت نکلوا دیا ہوتا ہے۔ اسکی جگہ سخت درد کی شکایت کر رہے ہوتے ہیں۔

اس کی عمومی طور پر دو وجوہات دیکھنے میں اۤتی ہےں۔

کسی ساتھ والے دانت کا درد 

بعض دفعہ ایسے ہوتا ہے۔ کہ جو متاثرہ دانت نکال دیا جاتا ہے۔ اسکے ساتھ والا دانت بھی خراب ہوتا ہے۔ اور چند دنوں بعد جب دوسرا دانت درد شروع کرتا ہے۔ تو مریض سمجھتا ہے کہ نکلواأے ہو”ے دانت کی جگہ درد ہے۔

علاج

ڈاکٹر صحیح تشخیص سے مریض کو اس صورتحال سے با خبر کر دیتا ہے۔ اور متعلقہ درد کرنے والے دانت کا علاج کرتا ہے۔

زخم کا ٹھیک نہ ہو نا 

وجوہات

بعض دفعہ بعضمریض دانت نکلوانے کے بعد کی احتیاطوں پر عمل نہیں کرتے اوربار بار زخم کو زبان سے چھیڑتے رہتے ہیں یااس طرح بعض مریضوں میں دواأی کے صحیح استعمال نہ کرنے کی وجہ سے بھی زخم خراب ہو جاتا ہے۔

٭    کئی اناڑی اور نا تجربہ کار معالج دانت کو بے دردی سے نکالتے وقت اردگرد کے حصے کو بھی زخمی کر دیتے ہیں۔ یا دانت کے اردگرد کی ہڈی کے ٹوٹے ذرات کو اندر چھوڑ دیتے ہیں۔ اسطرح زخم خراب ہوجاتاہے۔

۔مختلف دیگر دواأوں کے استعمال اور احتیاطوں پر نہ عمل کرنے سے 

بعض دفعہ مریض کئی ایسی دواأیاں استعمال کر رہا ہوتا ہے۔مثلاً عورتیں منصوبہ بندی کے لئے جو دواأیں استعمال کرتی ہےں۔ ایسے مریضوں میں عموماً زخم میں خون کا لوتھڑا نہیں ٹھہرتا ۔ اور یہ نکل جاتا ہے۔ جسکے نیتجے میں دانت کی نکلی ہو”ی جگہ خشک ہونے کے ساتھ سیاہ رنگ کی دکھاأی دیتی ہے۔ اورمریض منہ سے بد بو کے علاوہ سخت درد کا شکار ہوجاتا ہے۔اسے اصطلاح میں ڈراأی ساکٹ کہا جاتاہے۔

علاج

مریض کے منہ میں ڈاکٹر باقاعدہ تشخیص کے بعد ہی علاج کے لئے اقدامات اُٹھا سکتاہے۔

وقتی طور پر مریض کوچاہیے کہ نیم گرم پانی میںتھوڑا سانمک ڈالکر اس سے بار بار کلیاں کرے۔ عموماً وقتی طور پر اس سے افاقہ محسوس ہوتا۔

صحیح تشخیص کے لئے ڈینٹل سرجن کو دکھانے میں کوتاہی نہ کریں۔

  سو”ی لگنے والی جگہ چھالا بن جانا

بعض مریضوں میں جس جگہ سن کرنے والا ٹیکہ لگتا ہے۔ تو سو”ی کے چھبن والی جگہ چھالا سا بن جاتا ہے۔ جو معمولی سا ہاتھ لگانے سے درد کرتا ہے۔

تو ڈاکٹرز اسکے لئے چند دواأیں تجویز کرتے ہیں۔ اور یہ چھالے ٹھیک ہو جاتے ہیں۔

دانت نکالتے وقت اعصابی تارکا زخمی ہو جانا Nerve Demage

بعض اوقات کچھ اناڑی ڈاکٹرز یاتجرہ کار ڈاکٹر ز کی غفلت سے مریض کا دانت نکالتے ہو”ے اعصابی تاروں کو نقصان پہنچ جاتا ہے عموماً یہ حادثہ پھنسی ہو”ی عقل ڈاڑھ کو نکالتے ہو”ے پیش اۤ سکتا ہے۔

اعصابی تار کو نقصان پہنچنے کہ بعد مریض منہ کا کچھ حصہ سُن محسوس کرتا ہے۔ یا کچھ مریض اس حصے میں جھنجھلاہٹ محسوس کرتے ہےں۔

علاج

اس قسم کی حالت میں کسی قسم کی علاج کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ قدرت نے جسم کے اندر یہ نظام رکھا ہے کہ خرابی خود بخود ٹھیک ہو جاتی ہے ہا ں ٹھیک ہونے کی مدت کا انحصار اعصابی زخم Nerve Injuryکی شدت پر ہے۔ ظاہری بات ہے اگر نقصان زیادہ گہرا ہو تو اعصابی تاریں دوبارہ جڑنے اور اپنی جگہ لینے میں کافی وقت لگا دیتی ہے۔

عموماً اسکو ٹھیک ہونے میں چھ ہفتے ، چھ ماہ، یا چھ سال تک لگ سکتے ہیں۔

دانت نکلوانے کے بعد خوراک پانی کاناک کے رستے باہر اۤنا

Oroantral Fislula

قدرت نے انسانی کھوپڑی اور چہرے کی ہڈیوں میں وزن ہلکا کرنے اور اۤواز کو توازن دینے کے لئے جگہ جگہ کچھ خلا رکھے ہیں۔ اوپر والے جبڑا میں دونوں طرف ایک ایک خلا ہوتا ہے۔ جسے Maxillary Sinusesکہتے ہیں۔ اوپر والے پچھلے دانتوں کی جڑیں عموماً ان خلاوں کے اندر تک گئی ہوتی ہےں۔ خلا اور دانتوں کی جڑوںکے درمیان ایک باریک سی جھلی اور ہڈی کا پردہ ہوتا ہے۔ جیسے جیسے مریض کی عمر بڑھتی ہے یہ خلا بڑھتا جاتا ہے۔

اگر ان مخصوص دانتوں کو نکالتے وقت ان کا ایکسرے کر کے خلاأوں کا خیال نہ رکھا جاأے تو ذراسی بے احتیاطی سے جبڑے کے خلا اور منہ کے اندریہ پردہ ٹوٹ کر ایک راستہ بن جاتا ہے۔ اور مریض جو کچھ کھاتا پیتا ہے وہ ناک کے راستے سے باہر اۤجاتا ہے۔

ایسی صورت میں فوراً ڈاکٹر سے رجو ع کرنا چاہیے۔ تاکہ ڈاکٹر اس راستے کو بند کرنے کے اقدامات کرے۔ ورنہ یہ راستہ وقت کے ساتھ ساتھ پیجیدگی اختیار کر لیتا ہے۔ اور پھر اس راستے کو بند کرنے کے لیے بھی لمبے طریقہ کار استعمال کرنے پڑتے ہیں۔

 

 

رسولیاں سسٹس اور کینسر Granuloma, Cysts & Cancer

رسولی اور اسکی وجوہات

جب دانت خراب ہو جاأے اور پیپ اُسکی اندرونی سطح میں پیدا ہو کر جڑ کے ذریعے اردگرد کی ہڈی میں پہنچ جاأے۔ تو جسم اس پیپ کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرتا ہے۔ جسم کے سیلز بڑھنا شروع کر دیتے ہیں۔ جو عام حالات میں رسولی کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں۔

احتیاط

(.5)یعنی اۤدھا ملی میٹر سے کم حجم کی رسولیاں دانتوں کی روٹ کینال علاج سے ٹھیک ہو جاتی ہے۔

سسٹ اوراس کی وجوہات

جب مریض کی لاپرواہی والی روش بر قرار رہے۔ تو بعض دفعہ غلط پریشر وغیرہ سے سسٹ پیدا ہو جاتی ہے۔ اگر چہ سسٹس کی بے شمار اقسام ہیں۔ جو دانتوں کی بیماریوں سے متعلق ہیں۔ لیکن سسٹ کو”ی بھی ہو عام قاری کے علم کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ یہ پانی کی طرح ماأع کی بنی ایک تھیلی ہوتی ہے۔ تھیلی کی جھلی میں قدرت نے یہ خاصیت رکھی ہے کہ اگر سسٹس کو صاف کرتے وقت تھوڑی سی بھی جھلی رہ جاأے تو اس تھیلی کے دوبارہ بننے کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔

اگر سسٹ کو صاف نہ کروایا جاأے تو اس تھیلی کے اندر پانی بڑھ کر ہڈی پر دباأو ڈالتا رہتا ہے۔ اور اسطرح ہڈی گلنا اور جذب ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ بعض دفعہ ہڈی اتنی گل جاتی ہے۔ کہ اچانک کھاناکھاتے کھاتے ٹوٹ جاتی ہےں۔

احتیاط

خرابی کے ابتدا ہی میں علاج کروانا دانشمندی ہے۔لیکن اکثر لوگ جب تک شدید درد کی کیفیت پیدا نہ ہو کسی خرابی کی طرف توجہ نہیں دیتے ۔ جسکے نتیجے میں بعض اوقات بیماری اس درجہ تک پہنچ جاتی ہے کہ علاج بھی مشکل ہو جاتا ہے۔

کینسر اور اسکی وجوہات

انسانی جسم میں بار بار ہونے والی خرابیوں کی وجہ سے قدرتی مدافعت بعض دفعہ ایسی حالت میں چلی جاتی ہے۔ کہ سیلز بے تحاشہ بڑھنے شروع ہو جاتے ہیں۔ اس حالت کو کینسر سے تعبیرکیا جاتا ہے۔

کینسر کی وجوہات

کینسر کی وجوہات میں دانتوں کی بیماریوں کے علاوہ اور بھی کئی وجوہات ہےں۔ جن میں شراب نوشی ، تمباکو نوشی ، نسوار اور پان وغیرہ سر فہرست ہےں۔

منہ کے کینسر ۔۔۔مقامات

مریضوں کی سب سے زیادہ تعداد زبان، ہونٹ ، اسکے بعد خوراک کی نالی، ٹانسلز ، گلے، تھوک پیدا کرنے والے غدود اور تیسرے نمبر پر نچلا ہونٹ ، زبان منہ کا فرش اور گال کے کینسر میں مبتلا ہوتی ہیں۔

کینسر کے ٹھیک ہونے کے امکانات

اورل کینسریعنی منہ کا کینسر جتنا جلدی پکڑا جاأے علاج اتنا ہی کامیاب ہو تا ہے۔ اگر کینسر کا ساأز 1/2یعنی اۤدھے انچ سے کم ہو ۔ تو علاج کی کامیابی کے چانسز60%تک ہوتے ہیں۔اور اگرکینسر ایک انچ تک پھیل جاأے تو یہی کامیابی 15%کے لیول تک چلی جاتی ہے۔ علاج کی کامیابی کے لیے سرجری کے بعد شعاأوں اورکیموتھیراپی کا لازماً سہارا دیا جاتا ہے۔ تاکہ کینسر کا کو”ی سیل بچا نہ رہ سکے ۔ اگر چہ شعاأوں اور کیمو تھراپی کی اپنی بھی کافی پیجیدگیاں ہوتی ہیں۔

احتیاطیں

منہ کے کینسرے حوالے سے چند احتیاط تدابیر حسب ذیل ہےں۔

٭    جب کبھی بھی اپنے منہ میں کو”ی چیز نارمل سے ہٹ کر دیکھیں تو درد کا انتظار مت کریں۔بلکہ فوراً ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔

٭    اگر منہ میں کو”ی زخم یا چھالا دو ہفتے تک ٹھیک نہیں ہوتا اور اس سے خون رس رہاہو تو یہ چیز فوری توجہ کا طلبگار ہے۔

٭    منہ میں کسی جگہ زبان یا تالو پر کو”ی چیز ابھری نظراۤءے تو ڈاکٹر سے مشورہ کر لینا بہت مفید رہتا ہے۔

٭    اگر منہ کا کو”ی حصہ سن ہو جاأے تو لاپرواہی کرنا خطرناک ہو سکتا ہے ۔ اسی طرح

<    اگر منہ میں سرخ یا سفید رنگ کے نشانات نظراۤءیں۔

<    خوراک نگلنے اور چبانے میں مشکل ہو

ِ <    منہ کا کچھ حصہ پکڑا پکڑا محسوس ہو۔

توفوری طور پر ڈاکٹرسے مشورہ کریں۔

بایوپسی(Biopsy)

کیونکہ کسی بھی مشکوک صورت حال میں متاثرہ حصہ کاا یک ٹکڑا کاٹ کر لیبارٹری ٹیسٹ کے لئے بھیجا جاتا ہے۔ جسے (Biopsy)بایو پسی کہتے ہیں۔ تاکہ صحیح نتیجہ سامنے اۤنے پر مناسب علاج تجویز کیا جا سکے۔ اگرچہ تجربہ کارڈاکٹر ٹشو کی ظاہر ی حالت دیکھ کر بھی فیصلہ کر دیتے ہیں۔ کیونکہ کینسر کی مختلف اقسام میں انکی ایک خاص ظاہری حالت ہوتی ہے۔ ذیل میں کینسر کی مختلف تصاویر ملا خطہ فرما سکتے ہیں۔

(Torus) ہڈیوں کے اُبھار

یہ ایک طرح کی اضافی ہڈی ہے جو کہ نچلے جبڑے یا تالو میں دیکھی جا تی ہے۔

بعض اوقات مریض ڈر جاتا ہے کہ یہ کیا پھوڑا نما سخت سی چیز ہے مگر درحقیقت یہ بالکل بے ضرر ہے۔

اسکا واحد نقصان یہ ہے کہ یہ مریض کے مصنوعی دانت Dentureپہننے میں مشکل پیدا کرتے ہیں۔ اور اکثر مصنوعی دانت پہنے والے مریض پہلے سرجری کے ذریعے ان کو ختم کر واتے ہیں۔

ان کی دو اقسام ہیں۔

نچلے جبڑے کے ابھار Mandibular Torusجو کہ نچلے جبڑے کے اندرونی حصے میں بنتا ہے۔

اوپر والے جبڑے میں ابھار Palatinus Torus یہ تالو کے درمیانی حصے میں پایا جاتا ہے۔ ساأز میں 2cmیا زیادہ ہو سکتا ہے۔

یوں تو ان کو سرجری سے نکال کر الگ کر دیا جا سکتا ہے۔ مگر یہ یہ بے ضرر ہوتی ہیں۔

مسوڑھے کی رسولی (ایپولس ) Epulis

اس مرض میں مسوڑھے کے ساتھ ایک خطرنا ک شکل کی رسولی بن جاتی ہے۔ جس کی بے ترتیب شکل کافی حدتک کینسر والی رسولی سے مشابہت رکھتی ہے۔ عموماً اس میں درد نہیں ہوتا ۔ صرف مریض منہ میں ایک بوجھ کی وجہ سے تنگی محسوس کرتا ہے۔

بعض دفعہ کھانے کے درمیان دانتوں سے ٹکرا کر اس سے خون بہنے کا عمل جاری ہو جاتا ہے۔ یہ رسولی عموماً ان مریضوں میں ہوتی ہے۔ جو اپنے دانتوں اور مسوڑھوں کی صفاأی سے غفلت برتتے ہےں۔ یہاں بھی جب رسولی کافی بڑھ جاتی ہے۔ اور کھانے میں رکاوٹ ڈالتی ہے۔ تو انہیں اسطرف توجہ دینے کا تب خیال اۤتا ہے۔

اسکی بہت سے وجوہات میں سے عمومی وجہ مسوڑھے کے نیچے کریڑے کا تیز چھبنے والا حصہ ہوتا ہے۔ یا مصنوعی دانتوں یا اسکی چھبنے والی تاروں کی وجہ سے مسوڑھوں کے اندر اس حصہ میں سوزش پیدا ہو جاتی ہے۔ اور اس حصے میں سیلز بڑھ کر ایک رسولی کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ جو دیکھنے میں ایک اضافی گوشت کی شکل میں نظر اۤتی ہے۔

ہارمونل تبدیلیوں سے بھی یہ رسولی بن سکتی ہے۔ اگر اسکے علاج میں تاخیر کی جاأے تو یہ بے ضرر رسولی Benign tumor

ضرررساں یعنی کینسر کے اندر تبدیل ہو سکتا ہے۔

اسلئے ایسی رسولی کو کٹوا کر لیبارٹری سے ٹیسٹ کروالینا چاہیے۔

علاج

ڈاکٹر اس رسولی کو کاٹ کر نیچے سے اسکی جڑ تک کو صاف کر دیتے ہیں۔ تاکہ دوبارہ اسکے بننے کے امکانات نہ رہیں۔ چونکہ اس رسولی میں سوزش کی وجہ سے خون کا بہاأو زیادہ ہوتا ہے۔ لہٰذہ اۤجکل لیزر کے ذریعے بغیر خون بہے اور بغیر درد کے اس رسولی ہٹا دیا جاتاہے۔

رسولی کو ہٹا کر اسکی اصل وجہ یعنی سورش پیدا کرنے والے سبب کو درو کر دیا جاتا ہے تاکہ دوبارہ یہ رسولی پیدا نہ ہو سکے ۔

ہونٹوں پر پانی کی تھیلی (میوکوسیل) Mococele

اللہ تعالیٰ نے انسان کے ہونٹوں میں بہت باریک تھوک کے غدودرکھے ہوتے ہیں۔ جو عموماً ان کو تررکھتے ہیں۔ بعض دفعہ کسی غدود کے سوراخ میں کو ءی روکاوٹ بن جاأے تو یہ تھوک جمع ہو کر ایک تھیلی سی بن جاتی ہے۔ اکثر دس سال سے پچیس سال کے عمر کے افراد میں یہ شکایت پاأی جاتی ہے۔ یہ دیکھنے میں ابھری ہو”ی اور نرم اورکبھی کبھارنیلے رنگ کی بھی ہو سکتی ہے

عموماًیہ سسٹ یعنی پانی والی تھیلی جب تھوڑی سی بڑھ جاتی ہے۔ تو کھانے کے عمل میں دانتوں سے ٹکر ا کر پھٹ جاتی ہے۔ اورمریض کچھ ٹاأم کے لیے بے غم ہو جاتا ہے۔

اسکا صحیح علاج تھیلی کو اسکی اندرونی سطح سمیت دورکرنا ہے۔ اۤج کل لیزرکے ذریعے بغیر درد اور خون بہے اسکا کامیابی سے علاج کیا جاتاہے۔

کٹے ہونٹ اور کٹے تالو

رحم میں ہونٹوںاورتالو کے بننے کا ٹاأم 

ہونٹ عموماً حمل کے دوران چھٹے ہفتے میں بننا شروع ہوتے ہیں۔ جبکہ تالو ساتویں سے بارہویں ہفتے کے دوران بنتے ہیں۔ اس واسطے ان میں جو بھی خرابی پیدا ہوتی ہے۔ وہ اسی عرصہ کے دوران ہوتی ہے۔ اور الٹرا ساأونڈ سے اسکا بخوبی پتہ چلا یاجا سکتا ہے۔ لیکن عام طور پرجب بچہ پیدا ہوتا ہے۔ تو والدین یہ صورت حال دیکھ کر پریشان ہو جاتے ہیں۔

اس تکلیف کے نقصانات

کٹے ہونٹوں اورتالوں والے بچوں کو بے شمار مساأل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چہرے کی بد صورتی کے علاوہ ۔بولنے ۔ سانس لینے ۔ اور کھانے پینے کے سینکڑوںمساأل درپیش ہو جاتے ہیں۔ اورانکے لئے اۤجکل خصوصی فیڈرزکے ذریعے خاص پوزیشن پر رکھ کر خوراک دی جاتی ہے۔ کٹے ہونٹ کا بچہ تو پھر بھی ماں کا دود ھ پی لیتا ہے۔ جبکہ کٹے تالو والے بچے کے لئے یہ ناممکن ہوتا ہے۔ ایسے بچوں میں بولنے کی رفتار بھی دوسرے بچوں کی نسبت دیر سے ہوتی ہے۔ ایسے بچوں میں عموماً درمیانی کان کی سوزش کی شکایت پیدا ہو جاتی ہے۔

 

 

اس تکلیف کی بنیادی وجوہات

دوران حمل غلط دواأوں کا استعمال

اس خرابی کی ایک بڑی وجہ دوران حمل ماں کا دواأوں کے استعمال میں احتیاط نہ کرنا ہوتا ہے۔ کیونکہ بعض دواأوں کے(Teratogenic Effects)یعنی حمل کے دوران بچے پرپڑنے والے اثرات بہت زیادہہوتے ہیں۔

جسم میں مختلف اہم عناصر کی کمی

اسی طرح بعض عناصر کی جسم میںکمی بھی یہ خرابی پیدا کر سکتی ہےں۔ مثلاً تحقیق سے ثابت ہو چکا ہے۔ کہ جن عورتوں میں دوران حمل فولک ایسڈ کی کمی واقع ہو جاأے۔ انکے بچے عموماًکٹے ہونٹ اور کٹے تالوکے پیدا ہو تے ہیں ذرا سی غفلت بچے کی صحت کے ساتھ ساتھ ماں ، باپ کے امتحان کا باعث بن جاتی ہے۔

علاج

بہر حال اگر ٹاأم پر علاج کی طرف توجہ دی جاأے تو اۤجکل ایسے کیسز کا شافی علاج موجود ہے۔ عموماً اس علاج کے لئے پلاسٹک سرجن، ناک کان، گلے کے ماہر، اۤرتھوڈونٹسٹ اور میگنر لو فیشیل سرجن کی پوری ٹیم درکار ہوتی ہے۔

علاج کا بہترین ٹاأم

کٹے ہونٹوں کے لئے دو ہفتے سے پانچ ماہ کے دوران اور کٹے تالو کے لئے(6)چھ ماہ سے 24ماہ یعنی دوسال کی عمر کے دوران علاج کروالینے سے کامیابی کے 100%امکانات ہوتے ہیں۔

 جبڑ ے کی ہڈیوں کا ٹوٹنا

(Fracture of Jaws)

وجوہات

عموماً ٹریفک حادثات ، لڑاأیوں یا غلط چوٹ چہرے پر لگنے سے اوپر یا نیچے جبڑے کی ہڈیاں ٹوٹ جاتی ہیں۔ مریض کھانے پینے سے معذور ہو جاتا ہے۔

جوڑنے کے دو لوازمات

جسطرح کو”ی برتن ٹوٹے تو اسے اُسی لیول پر جوڑ کر اۤپ میجک یا کو”ی جوڑنے والا سلوشن لگا دیتے ہیں۔ ہڈیوں کو جوڑنے کا قدرت نے جسم کے اندر ہی نظام رکھا ہوتا ہے۔لیکن اسکے لئے دو چیزوں کا خیال رکھنا بہت ضروری ہو تا ہے۔

کو اۤپٹیشن 

ٹوٹی ہڈیوں کو دوبارہ اُسی پوزیشن میں لانا ضروری ہوتاہے۔ جیسے ٹوٹنے سے پہلے تھیں۔ میڈیکل کی اصطلاع میں اس عمل کو Coaptationکہتے ہیں۔

ام موبلٹی 

اس کے بعد ان ٹوٹے حصوں کی حرکت کو روکنے کے لئے پلستر کر دیا جاتا ہے۔ ۔اسے(Immobility)غیر متحرککہتے ہیں۔ کیونکہ منہ میںپلستر نہیں کیا جا سکتاتو ڈاکٹر اوپر اور نیچے جبڑوں میں ٹوٹنے والی جگہ کے مطابق طریقہ اختیار کر تے ہیں۔ اور حرکت روکنے کے لئے دانتوں کو نارمل ملاپ پر باندھ دیتے ہیں۔ بعض دفعہ ہڈی کئی جگہ سے ٹوٹ جاتی ہے۔ تو ایسی صورت میں ہڈی کو ننگا کر کے ٹوٹے حصوں کو پلیٹوں سے جوڑ دیا جاتاہے۔

بغیر دانتوں والے مریضوں کومشکلات

جن لوگوں کے دانت نہیں ہوتے اُنکے چہرے کے باہر سے پلیٹ لگا کر ٹوٹے حصوںکی حرکت کو روکا جاتا ہے۔اسطرح بغیر دانت کے مریض کو بہت سی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اورایسی ایمرجنسی کے حل میں دانتوں کی اہمیت کا بہت زیادہ احساس ہوتاہے۔

فریکچر ٹھیک ہونے کا عرصہ

اگر ان لوازمات کا خیال رکھا جاأے تو ٹوٹی ہو”ی ہڈیا ں عموماًچھ ہفتے تک جڑ جاتی ہےں۔

ایک عام غلط فہمی 

بعض دفعہ مریض دوبارہ ایکسرے کروا کر دیکھتا ہے۔ تو اُسے لاأن سی نظر اۤتی ہے۔ مریض پریشان ہو جاتا ہے کہ شاید ہڈی نہیں جڑی۔ حالانکہ یہ نشان چھ( 6)ماہ سے زیادہ عرصہ تک رہتا ہے۔ کیونکہ ابھی تک ہڈی جڑنے کے بعد جالا سا بنا ہوتا ہے۔ اوراۤہستہ اۤہستہ اسکے اندر کیلشیم جمع ہوتی ہے۔ جب ہڈی کے ٹوٹے حصے کے اندر کیلشیم اچھی طرح جذب ہو جاتی ہے۔ تو پھر یہ لاأن نظر نہیں اۤتی ۔ یہ تفصیل قارئین کی تسلی کے لئے اس لئے لکھ دی گئی کہ دوران پریکٹس اکثر اوقات مجھے اس سوال کا سامنا کرنا پڑا ۔

جبڑوں کے وہ مقامات جنکے زیادہ ٹوٹنے کے امکانات ہوتے ہیں

ذیل میں اوپر اور نیچے کے جبڑوں میں زیادہ تر ٹوٹنے والے مقامات کو دکھایا گیا ہے۔

    Dentistryمیں سرجری کا شعبہ صرف انہی چند عوامل پر مشتمل نہیں ہے۔ بلکہ بے شمار پیچیدگیوںمیں سرجری کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ جنہیں کتاب کی ضخامت کے ڈر کی وجہ سے چھوڑا جا رہا ہے۔ البتہ قارئین کی معلومات کیلئے اتنا عرض ہے کہ منہ اورجبڑوں میں سرجری کا علا ج ڈینٹل اینڈ اورل سرجری کے شعبہ سے ہی متعلقہ ہیں۔ جبکہ ہم نے اکثر مریضوں کو ان بیماریوں میں جنرل سرجنز کے پاس جاتے ہو”ے دیکھا ہے۔

جس طرح دانتوں کی ساخت منہ کی صحت میں اہم مقام رکھتی ہے۔ اسی طرح مسوڑھوں کی صحت جس نے دانتوں کو اپنے اندر سمویا ہوتاہے۔ ان کا صحت مند ہونا بھی اہم مقام رکھتا ہے۔ بلکہ یوں سمجھ لیجئے کہ دانت وہ درخت ہیں جن کی جڑیں مسوڑھوں کی زمین میں قاأم ہیں۔ درخت کا سوکھ جانا،ٹوٹ جانا یا زمین کا اتنا کمزور ہوجاناکہ ہوا کے ایک جھونکے سے ہی زمین سے جڑیں باہر اۤجاأیں۔ دونوں صورتیں قابل توجہ ہےں۔

پاکستان میں ایک سروے کے مطابق 80%افراد مسوڑھوں کی بیماریوں میں کسی نہ کسی وجہ سے مبتلا ہےں۔ اسلئے ہر با شعور اۤدمی کواپنی صحت کی بحالی کیلئے اسطرف بھی توجہ دینی چاہیے ۔ کیونکہ بیماراور کمزور مسوڑھوں میں اچھے دانت غیر محفوظ ہوتے ہیں۔ اور مضبوط مسوڑھوں میں کمزور دانت بھی محفوظ رہتے ہیں۔