دانت کی اندرونی سطح پلپPulp کی بیماریاں
علامات
علاج یا مجبوری
جیسا کہ ہم نے ابتداء میں لکھا ہے کہ بعض لو گ دانتوں پر نشان لگتے ہی علاج کرواتے ہیں۔ اور بعض جس وقت دانت کی درمیانی سطح (Dentine)ڈینٹین متاثر ہوتی ہے۔ اور دانتوں کو ٹھنڈا گرم لگتا ہے۔ تو ڈاکٹر سے رجو ع کر تے ہیں اور علاج کرواکر مصیبت سے چھٹکارا پاتے ہیں
۔ لیکن بعض لوگ اس وقت ڈاکٹر کے پاس آتے ہیں۔ جب تیزاب دانتوں سے گزر کرپلپ (Pulp)کو تباہ کر دیتاہے۔اور مریض کے دانت میں سخت درد شروع ہو جاتا ہے۔ کئی مریضوں میں یہ درد دانت تک محدود رہتا ہے۔

لیکن اکثر میں یہ درد پوری اعصابی تار کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ اور اُس طرف کا پوراچہرہ، آنکھ کنپٹی درد سے پھٹی جا رہی ہوتی ہے بعض مریضوں میں دانت کے نیچے پیپ اکٹھی ہو جانے سے متاثرہ

دانت باقی دانتوں سے اونچا محسوس ہوتا ہے اور دبانے سے شدید درد کرتاہے۔نتیجتاً مریض کھانا چبانے سے محروم ہو جاتا ہے اور شدید درد کی حالت مریض کو ڈاکٹر کے پاس آنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ ایسی صورت میں دانت کی پیپ کو جڑوں تک خشک کر دیا جاتا ہے۔ اس علاج کوروٹ کینال علاج (Root Canal Treatment)کہتے ہیں۔بعض


صورتوں میں دانت اندر تک تباہ ہو جاتا ہے۔ اور پیپ منہ میں جاتی رہتی ہے۔ لیکن درد نہیں ہوتا۔

منہ کے اندردانت کی جڑوں کے قریب پیپ رسنے والا پھوڑا۔
(Dental Sinus)
یہ پھوڑا عموماً کسی دانت کے اندر پیپ کی وجہ سے بنتا ہے۔ جو دانت کے اندرسے نکل کر ہڈی تک پہنچتی ہے۔ اور پھر جہاں مزاحمت Resistanceکم ملتی ہے اس طرف حرکت کرتی ہے۔ اسطرح منہ کے اندر مسوڑھے پر ایک سوراخ بنا کر رستی رہتی ہے۔ اور اعصابی تاروں پر دباؤ نہ ہونے سے مریض کو درد نہیں ہوتا اور وہ پیپ جسم کے اندر جاتی رہتی ہے۔

اسکا علاج
بنیادی وجہ یعنی دانت کے اندر والی پیپ کو ختم کرنا ہوتاہے۔جب ہم روٹ کینال ٹریٹمنٹ سے دانت کے اندر پیپ خشک کر کے جڑوں تک بھرائی کر دیتے تو یہ پھوڑا خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔
RCTکیا ہے؟
یہ Root Canal Treatment کا مخفف ہے۔
روٹ کینال علاج کے لئے درکار وقت
دانت میں درد چونکہ اس میں پیپ پڑ جانے کی وجہ سے ہوتا

ہے۔لہٰذہ اس دانت میں فوراً بھرائی نہیں کی جاتی بلکہ مریض کو چار پانچ مرتبہ آنا پڑتا ہے۔ اس میں دانت کی جڑوں تک پیپ کو خشک کر کے بھرائی کی جاتی ہے۔
ایک دفعہ میں روٹ کینال علاج
اینڈوموٹر کے ذریعے
آجکل جدید ٹیکنالوجی کی بدولت (RCT)آر۔ سی۔ٹی ایک ہی سیٹنگSitting) (میں ممکن ہے۔جس میں دانت کی جڑتک ایک خاص مشین کے ذریعے صفائی کر دی جاتی ہے۔ اور صاف کرنے والی پنز (فائلز ریمرز وغیرہ) جڑ سے یا دانت کے باہر نہیں جاتے۔بلکہ اگر کبھی ایسی صورت پیدا ہو تو ٹی وی جیسی چھوٹی سکرین پر ایک بیپ یاسیٹی کے ذریعے ڈاکٹر باخبر ہو جاتا ہے۔ اورڈاکٹرجتنا جڑ کے اندرصفائی کے اوزار لے جاتاہے ساتھ ساتھ سکرین کے اوپر پتہ چلتا ہے اسکے ساتھ اب روٹ کینال علاج کے ناکامی کے امکانات تقریباً ختم ہو
گئے ہیں۔
لیزر کے ذریعے
ایسے دانت جن کی جڑیں پیچیدہ ہوں ان میں لیزر کی شعاؤ ں سے آجکل روٹ کینال علاج میں بہت سہولت پیدا ہو گئی ہے۔ جس میں شعاؤں کے ذریعے جڑ کی نالی میں تمام جراثیم اور انفیکشن ختم ہو جاتی ہے۔ یہاں تک کہ جڑ کے نیچے بنی ہوئی رسولیاں بھی بغیر ٓاپریشن کے ہٹ جاتی ہیں۔

علاج میں کامیابی
یہ علاج نعمت غیرمترقبہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ لیکن اس علاج کے بعد دانت پر کراؤن چڑھوانا بہت ضروری ہوتاہے۔ کیونکہ ایسے دانت کے چھ ما ہ یا سال کے بعد ٹوٹنے کے امکانا ت زیادہ ہوتے ہیں۔ کراؤن چاروں طرف سے ایسے دانت کو کور کر لیتاہے۔ اور دانت ضائع ہونے سے محفوظ ہو جاتاہے۔ لہٰذاآر۔سی۔ ٹی (RCT)کا پورا فائدہ اسی صورت میں ہوتا ہے۔ جب ایسے دانت پر کراؤن چڑھوا لیا جائے۔

علاج میں نا کامی کی وجوہات
1۔ کراؤن نہ چڑھوانا
بعض لوگ روٹ کینال علاج (RCT)کے بعد اُس پر کراؤن نہیں چڑھواتے۔ جسکی وجہ سے دانت ٹوٹ جاتاہے۔ اور نتیجتاًسارا علاج ناکا م چلا جاتاہے۔
2۔ جڑوں کی پیجیدہ ساخت
بعض دفعہ جڑوں کی ساخت انتہائی پیچیدہ ہوتی ہے۔ اور نتیجتاً
پوری طرح پیپ صاف نہیں ہوتی۔

۔ دانت کا اندر سے گل جانا
بعض دفعہ تیزابی مادے پلپ (pulp)سے نکل کر اندرتک دانت کی سطح کو گلا دیتے ہیں۔ اور وہاں سوراخ بن جاتاہے۔ اور(RCT)آر۔سی۔ٹی نا کام ہو جاتی ہے۔
۔ جبڑوں کے نیچے سٹس یا رسولی وغیرہ کا بن جانا:
بعض دفعہ دانت کے نیچے سسٹس یا رسولی بن جاتی ہے۔ جسکے لئے باقاعدہ سرجری کا سہار ا لینا پڑتا ہے۔

۔جڑ کے اندر پیپ نکالنے والی سوئیوں کا ٹوٹ جانا
بعض ڈاکٹر استعمال شدہ اور درمیان سے کمزور سوئیاں استعمال کرتے ہیں۔ جو عموماً نالیوں میں پھنس کرٹوٹ جاتی ہیں۔ اس سے بھی علاج ناکام ہو جاتا ہے۔

احتیاطی تدابیر
1۔ (RCT)روٹ کینال علاج مکمل کر نے کے بعد اس پر کراؤن لازمی چڑھوائیں۔
2۔ ہر چھ ماہ بعد پالشنگ ضرور کروائیں۔
3۔ دانتوں کی باقاعدہ صفائی کو ممکن بنائیں۔
بعض لوگ یہاں بھی لا پرواہی کی انتہاکر دیتے ہیں اور اس سٹیج پربھی ڈاکٹر سے رجو ع نہیں کرتے۔ بلکہ نام نہاد ڈاکٹر یا کیمسٹ سے دوائیاں لے کر استعمال کرتے ہیں۔ نتیجتاً تیزابی مادے اور پیپ جڑ سے نیچے پہنچ کر پھوڑے کی شکل میں ظاہر ہو جاتی ہے۔

جدید سائنس کی بدولت اس صورت میں بھی دانت کو سرجری کے ذریعے بچایا جا سکتاہے۔
آجکل ایسے دانتوں کی جڑ میں لیزر کی شعاؤں کی مدد سے نیچے پڑی رسولیاں اور سسٹس وغیرہ ختم ہو جاتی ہیں۔ اور سرجری کے عمل سے بچت ہو جاتی ہے۔














