دانتوں اور منہ کی بیماریوں میں علاج سے لاپرواہی جسمانی صحت اورخوبصورتی کا زوال ہے۔لہٰذا ہر شخص کو اس طرف توجہ دینی چاہیے۔
جسمانی صحت اور دانت
دانت صحت کے محافظ
دانتوں کی حفاظت انسانی صحت کی ضامن ہے۔ کیونکہ دانت اسکی صحت کے محافظ ہیں اور جسکے محافظ ہی بیمار ہوں وہ کیسے محفوظ رہے گا۔ آج سائنس اس مقولہ کو سچ ثابت کر رہی ہے۔ کہ ”اکثرالا مراض الاجسام من الامراض الاسنان“ جسم کی اکثر بیماریاں دانتوں کی بیماریوں کی وجہ سے پھیلتی ہیں
منہ -جراثیم کے لئے ساز گار ماحول
منہ دراصل ایک ایسا مقام ہے۔جہاں ہر وقت نمی،مناسب درجہ حرارت، نباتاتی اور غیر نباتاتی نمکیات موجود رہتے ہیں۔ جب کوئی جراثیم یہاں داخل ہوتاہے۔ تو خوشنما اور موافق ماحول پاکر بڑھنا شروع کردیتاہے۔ خاص کر دانتوں اور مسوڑھوں کے درمیان خلا جنہیں ”پاکٹس“کہتے ہیں۔ ان میں تو جراثیم بہت تیزی سے بڑھتے ہیں۔اور نتیجتاً بہت سی جسمانی امراض کاسبب بنتے ہیں۔ اور جوڑوں، دل، گردے، معدے، گلے کے غدود، تھائیر ائیڈ، ٹا نسلز اور جلد کی بیماریوں کے علاوہ ضعف بصارت جیسے عارضوں میں جہاں اور بے شمار وجوہات ہوتی ہیں۔ان میں ایک وجہ یہ بھی ہے۔
صفائی میں کوتاہی کا انجام
اگرچہ اللہ تعالیٰ نے انسانی منہ کے اندر”میوکوسا“(Mucosa)کی ایک ایسی تہہ رکھی ہے۔ جس پر جراثیم کا اثر نہیں ہوتا۔ لیکن جب صفائی میں کوتاہی ہو تو قوت مدافعت کم ہو کر یہ بھی بیماریوں کا شکار ہو جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے منہ سے بد بو آتی ہے۔ اور معاشرے میں لوگ ایسے فردکی قربت سے اجتناب کر تے ہیں۔ایسے افراد کے منہ کا ذائقہ بھی ٹھیک نہیں رہتا۔ اور بمطابق حدیث شریف ایسی عورتوں کے مرد اور ایسے مردوں کی عورتیں زنا کی طرف راغب ہو تے ہیں۔ نتیجتاً صحت میں ابتری کے علاوہ معاشرے میں ابتری کا باعث بنتے ہیں۔
دانتوں اور مسوڑھوں کی بیماریوں کا دیگر بیماریوں سے تعلق:۔
۔ شوگرکے ساتھ
آجکل مسوڑھوں کی بیماریوں کا ذیابیطس (شوگر) جیسے مرض کیساتھ خاص تعلق ثابت ہو چکاہے۔ انٹرنیشنل ایسو سی ایشن فار ڈینٹل ریسرچ نے اپنی تحقیق سے ثابت کیا ہے۔کہ ذیابیطس کے مریضوں میں جب خراب مسوڑھوں کا علاج کیا جاتا ہے توذیابیطس کی شدت میں کمی آجاتی ہے۔ اور شوگر کافی حد تک کنٹرول ہو جاتی ہے۔
۔ خون کے ساتھ
منہ کے اندر یہ جراثیم اتنے خطرناک ہوتے ہیں۔ کہ بعض اوقات دانت نکالتے وقت ذرا سی بے احتیاطی سے یہ جراثیم اگر خون کے اندر چلے جائیں۔ تو”Septicemia“یعنی خون جراثیم آلودہ ہو کر آدمی کی موت کاسبب بن جاتاہے۔
حکیم کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ آج اقوام عالم نے منہ اور دانتوں کے بارے میں اسلامی فرامین کی ان حکمتوں کو تلاش کیا۔ بابا گور و نانک اس اسلامی تعلیم سے اتنے متاثر تھے کہ ہاتھ میں ہمیشہ مسواک رکھتے اور دانتوں پر استعمال کرتے اور فرماتے کہ یہ لکڑی لے لو یا پھر بیماری لے لو۔
۔گلے، ہاضمے اور دیگر بیماریوں کے ساتھ
ہمارے ہاں لوگ خراب دانتوں کے علاج میں اتنی غفلت برتتے ہیں کہ جب تک درد کی کیفیت پیدا نہ ہوتو”دانت“ ڈاکٹر کو دکھانا تو درکنار شیشے میں اپنے آپ کو بھی نہیں دکھاتے۔ نتیجتاًبعض دانت بو سید گی کا باعث بننے کے ساتھ منہ سے بد بو، گلے اور ہا ضمے کی بیماریوں کی وجہ بھی بن جاتے ہیں۔

۔ چہرے کا ناسور
ہم نے کئی ایسے مریضوں کو بھی دیکھا ہے۔ جو اپنے چہرے پر ناسور جیسے زخموں کے ساتھ(جو دانتوں کی وجہ سے بن جاتے ہیں) برسوں گزار ہ کررہے ہوتے ہیں۔ اور علاج کروانے کی زحمت گوارہ نہیں کرتے۔
۔ایکطرف سے کھانے کا انجام
اکثر ہمارے ہسپتال میں ایسے مریض بھی آتے ہیں۔ جو مد تو ں
ایک طرف سے خوراک کسی وجہ سے استعمال نہیں کرتے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے۔ کہ اس طرف کے پٹھے کمزور ہو کر پیچید گی کا سبب بنتے ہیں۔
۔ کینسر
کئی ایسے مریضوں کیبارے میں ہمارے پاس معلومات موجود ہیں۔ جو اپنی انہی غفلتوں کی وجہ سے کینسر جیسے مو ذی امراض میں مبتلا ہو کر اذیت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ یاپھر دنیا سے گزر چکے ہیں۔

خوبصورتی اوردانت
اللہ تعالیٰ نے انسان کو ”احسن التقویم“ پر پیدا کیا ہے۔ اور دانت بھی اسی کا مظہر ہیں۔ جو انسانی چہرے کے حسن کو دوبالا کر رہے ہوتے ہیں۔
دانت نکلوانے سے چہرے پر جھریا
دانتوں نے چہرے کے پٹھوں کو سہارا دیا ہوا ہوتاہے۔ دانت نکل جانے کی صورت میں ان پٹھوں کی قدرتی ٹون ختم ہو جاتی ہے۔ اور اچھا بھلا چہر ہ پچک کر رہ جاتاہے۔ اور منہ پر جھر یاں پڑ جاتی ہیں۔
دانتوں کی چہرے سے مشابہت
صحت کے علاوہ خوبصورتی میں دانتوں کا کتنا کردار ہے۔ اس سے ہر ذی شعور اچھی طرح با خبر ہے۔ کیونکہ انسانی چہرے میں اللہ تعالیٰ نے دانتوں کا جو مقام بنایا ہے۔ اور اسکے ساتھ جو فضیلت دی ہے اس بارے اگر آپ غور کریں تو آپ پر یہ بات واضح ہو جائے گی۔ کہ اگر سامنے والے دانتوں کی آؤٹ لائن لیکر الٹی کی جائے تو چہرہ کی آؤٹ لائن بن جاتی ہے۔ اسطرح ہر چہرے کی مناسبت سے دانتوں کی شکل علیحدہ علیحدہ ہو گی۔
دانتوں کا رنگ
اسی طرح دانتوں کی ر نگت میں تبدیلی جیسے حبشیوں میں سفید تر دانت اور انگریزوں میں پیلے یہ سب قدرت کی رنگینوں کے حسین شاہکار ہیں۔ گویا دانتوں کی رنگت اور انسانی جلد کی رنگت کے تضاد (Contrast)
سے ایک حسن پیدا ہو جاتا ہے۔
چہرے میں دانتوں کا توازن
اسی طرح ایک طرف کے دانتوں کی شکل و شباہت دوسرے طرف کے دانتوں کے مطابق ایک عظیم (Symmetry)توازن کا اظہار ہے۔ اب اگر کوئی چیز بھی

قدرت کے ان مقررکردہ خطوط سے ہٹی ہوئی ہو تو عجیب بد نمائی کا احساس ہوتاہے۔
چہرہ -انسان کی پہچان
چہرہ انسانی جسم کا وہ حصہ ہے۔ جو اسکی پہچان کا باعث ہوتاہے۔ اسی سے اسکی سختی، نرمی،خوبصورتی اور بد صورتی کا پتہ چلتا ہے۔
دانت اورقیافہ شناسی
بعض قیا فہ شناس کسی شخص کے دانتوں کی ہیئت سے اسکے مزاج کے بارے میں بھی بتا دیتے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق زیادہ تر وہ لوگ جنکے چہرے میں نچلا جبڑا اوپر والے جبڑے سے آگے پایا گیا ہے۔ جسے ہم ڈینٹسٹری میں کلا س تھری (Class III)کہتے ہیں۔ ایسا شخص عموماً مار دھاڑ اور جرائم کو زیادہ پسند کرتا ہے۔
اگر چہ یہ کلیہ ہر شخص پر نافذ نہیں ہوتااور ہم نے تو کئی ایسے اشخاس کو انتہائی با کردار دیکھا ہے۔ لیکن اس میں اکثریت کی بات کو ظاہر کیا گیا ہے۔
بعض قیافہ شناس درمیانی دانت کے فاصلے کو خوش قسمت ثابت کرتے ہیں۔

گندے اور ٹیٹرھے دانت شخصیت کی تباہی
گندے دانت یہ بتا دیتے ہیں۔ کہ یہ شخص سستی اور غفلت کا شکار ہے۔ ایک شخص جسکے دانت خراب ہوں وہ اپنے آپکو چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔
خاص کر عورتوں کیلئے ”ٹیڑھے دانت“ ان کیلئے طعنہ بن جاتے ہیں۔ اور بعض اوقات چہرے کی بناوٹ بھلا کتنی خوبصورت ہی کیوں نہ ہوں۔ دانتوں کی وجہ سے انکی صلاحیتیں دب جاتی ہیں۔

دانتوں کی خرابیوں اورضیاع سے عمر میں بڑا لگنا
اسی طرح مسوڑھوں اور دانتوں کی بیماریوں کی وجہ سے انسان اپنی عمر سے بڑا نظر آتا ہے۔ لمبے دانتوں کے ساتھ ایک شخص اپنی عمر کے خوبصورت دانتوں والوں سے پانچ دس سال بڑا نظر آئے گا۔
جس طرح ایک گنجا شخص اپنے ہم عمر گھنے بالوں والے سے عمر میں بڑا نظرا ٓتا ہے۔
دانتوں میں فاصلے کی وجہ سے چہرے پر اثر
اگر سامنے والے دانتوں میں فاصلہ زیادہ ہوتو انسانی چہرہ بطخ نما لگے گا۔

کینائن دانتوں کے لمبا ہونے سے چہرے میں تبدیلی
اسی طرح اگر (Canine)کینائن دانت ذرا لمبے ہوجائیں تو انسان کسی درندے کی جھلک دیناشروع کردیتا ہے۔بلکہ عموماً ڈراموں میں انہی دانتوں کو لمبا کر کے ڈریکولا کی شکل دی جاتی ہے۔

گوشت خور جانوروں میں کینائن دانت
(Carnivorous)گوشت خور جانوروں میں یہ دانت بہت لمبے ہوتے ہیں۔
سبزی خور جانوروں میں کینائن دانت
سبزی خور جانوروں میں یہ دوسرے دانتوں کے برابر ہوتے ہیں۔

سبزی اور گوشت دونوں کھانے والوں میں کینائن دانت
انسان چونکہ سبزی اور گوشت (Omini Vorous)دونوں چیزیں کھاتاہے۔ اسلئے اس کے یہ دانت سبزی خوروں سے ذرا زیادہ لمبے لیکن گوشت خوروں سے کم لمبے ہوتے ہیں۔ عموماً ان دانتوں کا سائز کسی چہرے کی خوبصورتی میں بڑانمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔

دانت اور الفاظ کی ادائیگی
چہرے کی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ دانتوں کا باتوں کی خوبصورتی میں کتنا کردار ہے اس کا احساس یقینا اُس شخص کو اچھی طرح ہوتا ہے۔جس کے سامنے کے دانت نکل چکے ہوں۔ ت،تھ،وغیرہ جیسے الفاظ کی ادائیگی میں سامنے کے دانتوں کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ اسی لیے قراء حضرات ان دانتوں کی غیر موجودگی میں صحیح طور پر قرا ء ت نہیں کر سکتے۔
خوبصورتی اور صحت کے اہم جز و پر غصہ
(ایک لطیفہ)
یہی وجہ ہے کہ جب کوئی کسی پر غصے کا اظہار کرتا ہے تو اسکی خوبصورتی اور صحت کے لیے اہم کر دار ادا کرنے والے حصے یعنی دانتوں پر اپنی بھڑاس نکالتا ہے۔ اور عموماً سننے میں آتا ہے۔ کہ مکامار کر سارے دانت نکال دونگا۔ اس سلسلہ میں مجھے لطیفہ یاد آگیا کہ دو آدمیوں میں لڑائی ہورہی تھی تو ایک نے دوسرے سے کہا کہ میں مکا مار کر تمہارے چونتیس دانت باہر نکال دونگا۔ پاس ایک آدمی کھڑا تھا کہنے لگا کہ دانت تو بتیس ہوتے ہیں۔ اس نے جواب دیا کہ مجھے پتہ ہے۔میں نے دو تمہارے بھی شامل کیے ہوئے ہیں کیونکہ مجھے پتہ تھا کہ تم لازماً دخل اندازی کرو گے۔
کسی دوسرے کے ہاتھوں دانتوں کے ضیاع پر قانونی گرفت
عموماً ہسپتال میں لڑائی جھگڑے کے کیسز میں زیادہ تر ڈاکٹرز کے پاس ٹوٹے دانت ہی آتے ہیں۔ بعض کے جبڑے بھی ٹوٹ جاتے ہیں۔ جب کسی کا دانت ٹوٹ جائے تو ارش کے ساتھ سزا بھی ہوتی کیونکہ اس سے اتلاف صلاحیت عضو ہو جاتا ہے۔ جبکہ اگر ساتھ دانت کی جڑ کی ہڈی یا جبڑے کی ہڈی ٹوٹ جائے تو اتلاف عضو کی سز ا دی جاتی ہے۔ بہر حال اسکی تفصیل بیان کرنا تضیع اوقات ہے۔ کیونکہ یہ قانونی موشگافیاں میرے خیال میں عام قاری کے لیے مفید نہیں۔ انکویہاں صرف یہ اہمیت بار آور کروانا مقصود ہے کہ وہ دانت جنہیں ہم اپنے ہاتھوں سے نکلوا دیتے ہیں۔ کسی دوسرے کے ہاتھوں نقصان سے اس پرکتنی سزا ہے۔ اس سے اسکی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
المختصر دانتوں کی حفاظت اور خوبصورتی نہ صرف انسان کی صحت اور خوبصورتی کا مظہر ہے۔ بلکہ اس کی صحت کا ضامن ہے۔ کیونکہ دانت اسکے محافظ ہیں۔ اور ظاہرہے کہ جسکے محافظ ہی بیمارہوں تو وہ کس طرح ٹھیک رہے گا۔
دانت——-اقوالِ زرّیں کی روشنی میں
بعض مفکرین کے دانتوں کے متعلق اقوال آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں جو قارئین کی خاطرطبع کے لئے پیش ہیں۔
۱۔ دانت ایک خوبصورت موتیوں کی مالا کے مانند ہیں۔ جس میں سے ایک دانہ بھی ضائع ہو جائے تو خوبصورتی ختم ہو جاتی ہے۔
۲۔ دانت وہ پھول ہیں کہ جن کے حسن سے چمن کی آبادی کا نشان ملتا ہے۔
۳۔ ایک اچھے دانتوں والا شخص جب مسکراتا ہے تو موتی جھلملاتے ہیں۔ جب کے ناصاف،گندے،پیلے، اورمیلے دانت انسان کے لب پر معاصی اورزبان کی ستیاناسی کے درمیاں عیاں ہوتے ہیں۔

۴۔ دانت نہ صرف کھانے کے لئے ہوتے ہیں۔ بلکہ ہنسنے، بولنے اور مسکرانے کے کا م بھی آتے ہیں۔
۴۔ مسکراہٹ دل کی شادمانی کے لئے ایک نعمت سے کم نہیں لیکن جب یہی مسکراہٹ نفرت اور کراہت کا سبب بن جائے تو پھر دانتوں کی اہمیت کا احساس ہوتا ہے۔
۵۔ اچھی مسکراہٹ اچھے دانتوں سے ہی ممکن ہے۔
۶۔ مسلمان کے لئے تو اچھی مسکراہٹ حضورﷺ کی سنت پر عمل ہے۔ کیونکہ حضورﷺ کے چہرہ انور پر ہر وقت مسکراہٹ کے موتی تیرتے رہتے۔ اور آپ ﷺ نے فرمایا۔
بہترین مسلمان وہ ہے جس کے چہرے پر مسکراہٹ ہو۔
اسی طرح ایک جگہ فرمایا کہ مسکر ا کر ملنا بھی صدقہ ہے۔
آپ ﷺ کو مسکراہٹ اتنی پسند تھی کہ اپنے صحابی حضرت سعد ؓ کو دشمنوں پر تیر چلا کر مسکراتے دیکھا تو فرمایا
اضحک اللہ سنک
”اللہ تیرے دانتوں کو مسکراتا رکھے“
حضورﷺ کے اسی دعائیہ کلمہ کو ہم نے اپنا Sloganسلوگن رکھا ہواہے۔























