ڈینٹل ایکسرے
ایکسر ے کے فائد ے
جب مریض کسی بیماری کے تحت ڈاکٹر کے پاس آتا ہے تو اُسکے دانتوں یا مسوڑھوں کے اندر کچھ خرابی تو نظر آرہی ہوتی ہے۔ اور کچھ خرابیاں جو سامنے نظر نہیں آتیں انکی کیفیت دیکھنے کے لئے ”ایکسرے“کے ذریعہ معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔ مثلاً کوئی دانت نہیں نکل رہا یا ٹیڑھاہوا پڑا ہے۔ کوئی دانت ٹوٹ گیا اسکی جڑوں کی پوزیشن دیکھنی ہو اسی طرح ایکسیڈنٹ میں جبڑوں کی ہڈی کے فریکچرز کو دیکھنے کے لئے، اور باندھنے کے بعد کے مقامات کی نشاندہی کرنے کے لئے۔آرتھو(Ortho)یعنی دانت سیدھا کرانے کے علاج سے پہلے کہ آیا ٹیڑھا پن ہڈی کی وجہسے ہے یا صرف دانتوں کی وجہ سے ہے وغیرہ وغیرہ یہ تمام معلومات ایکسرے کے ذریعہ آسانی سے مل سکتی ہیں۔
ایکسر ے کی اقسام
جدید میڈیکل علاج میں ایکسرے و ایک نمایاں حیثیت حاصل ہے اور مختلف زاویوں سے اور سائزوں سے ہونے والے ایکسریز مختلف ناموں سے پکارے جاتے ہیں۔جیسا کہ
(پیری اپیکل ویو) (PERIAPICAL VEIW)
اس کے ذریعے جڑ کے نیچے حصے کے اندر انفکشن کی تشخص کی جاتی ہے
(سیفیلومیٹرک ویو)
(CEPHLOMETRIC VEIW)
اس ایکسرے کے ذریعے دانتوں کو سیدھا کرنے والے ڈاکٹرز مختلف پیمائشوں سے اپنے علاج کے لائحہ عمل کو طے کرتے ہیں

(اینٹیریوپوسٹیریر) (ANTEROPOSTERIOR)
وغیرہ وغیرہ۔
بعض دفعہ مریض خود ہی ایکسرے پر اصرار کرتا ہے۔ حالانکہ ڈاکٹر بلا ضرورت ایکسرے شعاؤں سے مریضوں کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ خاص کر حاملہ

عورتیں میں یاوہ مریض جنہیں گلے کی بیماریاں ہوں لیڈ شیٹس یا اُس کا کالر لگا کر(Xray)ایکسرے کروانے چاہیں۔
ڈیجیٹل ایکسرے مریضوں کو 80-90فی صد شعاؤں سے
محفوظ رکھنے ولا طریقہ:
آجکل زیادہ شعاؤں سے بچنے کے لئے ڈیجیٹل ایکسریز (Digtal Xray)ایجاد ہو چکے ہیں۔ جس میں (X-Rays)ایکسر یزکی انتہائی کم مقدار(Doze)درکار ہوتی ہے۔ یہ 80سے 90فیصدتک (X-Ray)ایکسرے کی شعاؤں سے مریض کو بچاتا ہے۔ دوسراایکسرے(X-Ray)فلموں وغیرہ کی جھنجٹ سے چھٹکارا۔ تیسرا ٹائم کی بچت ایک (second) سیکنڈ میں نتیجہ) (viewسامنے۔چوتھا(Brightness)روشنی اور(Contrast)تقابل کے ذریعے(X-Ray)ایکسرے کے ویوز کو اور زیادہ صاف دیکھا جا سکتا ہے۔ اسی طرح آجکل بعض ایسے سافٹ وئیر آگئے ہیں۔ جن سے آپ ہڈی کی مضبوطی کا پتہ چلا سکتے ہیں۔ اورلاحق ہونے والی بیماریوں کے لئے دانتوں کے کمزور حصوں کا پہلے سے ہی پتہ چل سکتا ہے۔ مثلاً دانتوں کے نیچے رسولی، منہ کے کینسر، وغیرہ

ڈ یجیٹل ایکسریز
ایک ہی ایکسرے میں سب معلومات

OPGیا پینارامک ایکسرے:۔
عام طور پر منہ کے سب دانتوں کی چھپی ہوئی کیفیات دیکھنے

کے لئے 14 چھوٹے ایکسرے یا پھر ایک بڑا پینارامک (panaromic)ایکسریز جسے اوپی جی کہتے ہیں کروایا جاتاہے۔ جو ایک سپیشل ایکسرے یونٹ پر جو خود بخود سب دانتوں پر گھومتا ہے۔ اور اس سے تقریباً چہرے کی ساری

ساخت اور اوپر کے جبڑے کے خلا وغیرہ بھی واضح ہو جاتے ہیں۔

بائٹ ونگ ایکسر ے (Bitewing)
بعض دفعہ صرف دانتوں کے کراؤنز میں خرابی دیکھنے کے لئے (Bitewing)بائٹ ونگ ایکسرے کروائے جاتے
ہیں جس میں جڑیں نہیں آتیں صرف دانتوں کا اوپر والا حصہ نمایا ں نظر آتا ہے۔ اسطرح ایک ہی ایکسرے میں اوپر اور نیچے کراؤئنز کی خرابیوں کا پتہ چلایا جاسکتا ہے۔ الغرض (X-Ray)ایکسرے کسی بھی مرض کی تشخیص کے لئے نمایاں اہمیت کا حامل ہے۔

CVMسی۔وی۔ ایم ایکسرے۔ گردن کے مہروں کا ایکسرے
بعض بچوں میں دانتوں کے ٹیڑھا پن کے علاوہ نچلے اور اوپر والے جبڑے کی ہڈیوں کے تناسب میں بہت فرق ہوتا ہے۔ اور جب بچے کی ہڈیا ں بڑھوتی والی سٹیج پر ہوتی ہیں۔ تو ہڈیوں کے تناسب کو علاج کے ذریعہ ٹھیک کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اگر ہڈیوں کی مزید گروتھ یعنی بڑھاؤ رک گیا ہو تو ایسی صورت میں ایسے مریضوں کا علاج صرف سرجری کے ذریعہ ممکن ہوتا ہے۔ CVMایکسرے، گردن کے مہروں کی ساخت واضح کرتی ہے۔ کہ ابھی بچے نے مزید بڑھنا ہے یا اسکی بڑھوتی مکمل ہو چکی ہے۔

CBCTایکسرے
ایکسرے کی اس قسم کے سامنے آنے سے آسانیاں پیدا ہو چکی ہیں۔ اور وہ چیزیں جن کے لیے عام ایکسرے صحیح وضاحت نہ کر سکتے تھے۔ CBCTطول وعرض اور موٹائی تک کی سطح کی خامیوں کو واضح کرتا ہے۔ اور ہڈی یا چہرے کے جس حصے میں خرابی ہو اس ایکسرے کی مدد سے ڈاکٹر عین اسی حصے میں جا کر علاج کر سکتا ہے۔

(ٹومو گرافی)(TOMOGEAPHY)
(اینٹیریوپوسٹیریر) (ANTEROPOSTERIOR)۔
بعض دفعہ مریض خود ہی ایکسرے پر اصرار کرتا ہے۔ حالانکہ ڈاکٹر بلا ضرورت ایکسرے شعاؤں سے مریضوں کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ خاص کر حاملہ عورتیں میں یاوہ مریض جنہیں گلے کی بیماریاں ہوں لیڈ شیٹس یا اُس کا کالر لگا کر(Xray)ایکسرے کروانے چاہیں۔
ڈیجیٹل ایکسرے مریضوں کو 80-90فی صد شعاؤں سے
محفوظ رکھنے ولا طریقہ:
آجکل زیادہ شعاؤں سے بچنے کے لئے ڈیجیٹل ایکسریز (Digtal Xray)ایجاد ہو چکے ہیں۔ جس میں (X-Rays)ایکسر یزکی انتہائی کم مقدار(Doze)درکار ہوتی ہے۔ یہ 80سے 90فیصدتک (X-Ray)ایکسرے
ایکسر ے کے فائد ے:
جب مریض کسی بیماری کے تحت ڈاکٹر کے پاس آتا ہے تو اُسکے دانتوں یا مسوڑھوں کے اندر کچھ خرابی تو نظر آرہی ہوتی ہے۔ اور کچھ خرابیاں جو سامنے نظر نہیں آتیں انکی کیفیت دیکھنے کے لئے ”ایکسرے“کے ذریعہ معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔ مثلاً کوئی دانت نہیں نکل رہا یا ٹیڑھاہوا پڑا ہے۔ کوئی دانت ٹوٹ گیا اسکی جڑوں کی پوزیشن دیکھنی ہو اسی طرح ایکسیڈنٹ میں جبڑوں کی ہڈی کے فریکچرز کو دیکھنے کے لئے، اور باندھنے کے بعد کے مقامات کی نشاندہی کرنے کے لئے۔آرتھو(Ortho)یعنی دانت سیدھا کرانے کے علاج سے پہلے کہ آیا ٹیڑھا پن ہڈی کی وجہسے ہے یا صرف دانتوں کی وجہ سے ہے وغیرہ وغیرہ یہ تمام معلومات ایکسرے کے ذریعہ آسانی سے مل سکتی ہیں۔
ایکسر ے کی اقسام:
جدید میڈیکل علاج میں ایکسرے و ایک نمایاں حیثیت حاصل ہے اور مختلف زاویوں سے اور سائزوں سے ہونے والے ایکسریز مختلف ناموں سے پکارے جاتے ہیں۔جیسا کہ
(پیری اپیکل ویو) (PERIAPICAL VEIW)
اس کے ذریعے جڑ کے نیچے حصے کے اندر انفکشن کی تشخص کی جاتی ہے
(سیفیلومیٹرک ویو)
(CEPHLOMETRIC VEIW)
اس ایکسرے کے ذریعے دانتوں کو سیدھا کرنے والے ڈاکٹرز مختلف پیمائشوں سے اپنے علاج کے لائحہ عمل کو طے کرتے ہیں
(ٹومو گرافی)(TOMOGEAPHY)
(اینٹیریوپوسٹیریر) (ANTEROPOSTERIOR) وغیرہ وغیرہ۔
بعض دفعہ مریض خود ہی ایکسرے پر اصرار کرتا ہے۔ حالانکہ ڈاکٹر بلا ضرورت ایکسرے شعاؤں سے مریضوں کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ خاص کر حاملہ عورتیں میں یاوہ مریض جنہیں گلے کی بیماریاں ہوں لیڈ شیٹس یا اُس کا کالر لگا کر(Xray)ایکسرے کروانے چاہیں۔
ڈیجیٹل ایکسرے مریضوں کو 80-90فی صد شعاؤں سے
محفوظ رکھنے ولا طریقہ:
آجکل زیادہ شعاؤں سے بچنے کے لئے ڈیجیٹل ایکسریز (Digtal Xray)ایجاد ہو چکے ہیں۔ جس میں (X-Rays)ایکسر یزکی انتہائی کم مقدار(Doze)درکار ہوتی ہے۔ یہ 80سے 90فیصدتک (X-Ray)ایکسرے کی شعاؤں سے مریض کو بچاتا ہے۔ دوسراایکسرے(X-Ray)فلموں وغیرہ کی جھنجٹ سے چھٹکارا۔ تیسرا ٹائم کی بچت ایک (second) سیکنڈ میں نتیجہ) (viewسامنے۔چوتھا(Brightness)روشنی اور(Contrast)تقابل کے ذریعے(X-Ray)ایکسرے کے ویوز کو اور زیادہ صاف دیکھا جا سکتا ہے۔ اسی طرح آجکل بعض ایسے سافٹ وئیر آگئے ہیں۔ جن سے آپ ہڈی کی مضبوطی کا پتہ چلا سکتے ہیں۔ اورلاحق ہونے والی بیماریوں کے لئے دانتوں کے کمزور حصوں کا پہلے سے ہی پتہ چل سکتا ہے۔ مثلاً دانتوں کے نیچے رسولی، منہ کے کینسر، وغیرہ
ڈ یجیٹل ایکسریز:
ایک ہی ایکسرے میں سب معلومات:
OPGیا پینارامک ایکسرے:۔
عام طور پر منہ کے سب دانتوں کی چھپی ہوئی کیفیات دیکھنے کے لئے 14 چھوٹے ایکسرے یا پھر ایک بڑا پینارامک (panaromic)ایکسریز جسے اوپی جی کہتے ہیں کروایا جاتاہے۔ جو ایک سپیشل ایکسرے یونٹ پر جو خود بخود سب دانتوں پر گھومتا ہے۔ اور اس سے تقریباً چہرے کی ساری ساخت اور اوپر کے جبڑے کے خلا وغیرہ بھی واضح ہو جاتے ہیں۔
بائٹ ونگ ایکسر ے (Bitewing)
بعض دفعہ صرف دانتوں کے کراؤنز میں خرابی دیکھنے کے لئے (Bitewing)بائٹ ونگ ایکسرے کروائے جاتے
ہیں جس میں جڑیں نہیں آتیں صرف دانتوں کا اوپر والا حصہ نمایا ں نظر آتا ہے۔ اسطرح ایک ہی ایکسرے میں اوپر اور نیچے کراؤئنز کی خرابیوں کا پتہ چلایا جاسکتا ہے۔ الغرض (X-Ray)ایکسرے کسی بھی مرض کی تشخیص کے لئے نمایاں اہمیت کا حامل ہے۔
CVMسی۔وی۔ ایم ایکسرے۔ گردن کے مہروں کا ایکسرے
بعض بچوں میں دانتوں کے ٹیڑھا پن کے علاوہ نچلے اور اوپر والے جبڑے کی ہڈیوں کے تناسب میں بہت فرق ہوتا ہے۔ اور جب بچے کی ہڈیا ں بڑھوتی والی سٹیج پر ہوتی ہیں۔ تو ہڈیوں کے تناسب کو علاج کے ذریعہ ٹھیک کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اگر ہڈیوں کی مزید گروتھ یعنی بڑھاؤ رک گیا ہو تو ایسی صورت میں ایسے مریضوں کا علاج صرف سرجری کے ذریعہ ممکن ہوتا ہے۔ CVMایکسرے، گردن کے مہروں کی ساخت واضح کرتی ہے۔ کہ ابھی بچے نے مزید بڑھنا ہے یا اسکی بڑھوتی مکمل ہو چکی ہے۔
CBCTایکسرے
ایکسرے کی اس قسم کے سامنے آنے سے آسانیاں پیدا ہو چکی ہیں۔ اور وہ چیزیں جن کے لیے عام ایکسرے صحیح وضاحت نہ کر سکتے تھے۔ CBCTطول وعرض اور موٹائی تک کی سطح کی خامیوں کو واضح کرتا ہے۔ اور ہڈی یا چہرے کے جس حصے میں خرابی ہو اس ایکسرے کی مدد سے ڈاکٹر عین اسی حصے میں جا کر علاج کر سکتا ہے۔
ہیں۔
بائٹ ونگ ایکسر ے (Bitewing)
بعض دفعہ صرف دانتوں کے کراؤنز میں خرابی دیکھنے کے لئے (Bitewing)بائٹ ونگ ایکسرے کروائے جاتے
ہیں جس میں جڑیں نہیں آتیں صرف دانتوں کا اوپر والا حصہ نمایا ں نظر آتا ہے۔ اسطرح ایک ہی ایکسرے میں اوپر اور نیچے کراؤئنز کی خرابیوں کا پتہ چلایا جاسکتا ہے۔
الغرض (X-Ray)ایکسرے کسی بھی مرض کی تشخیص کے لئے نمایاں اہمیت کا حامل ہے۔
CVMسی۔وی۔ ایم ایکسرے۔ گردن کے مہروں کا ایکسرے
بعض بچوں میں دانتوں کے ٹیڑھا پن کے علاوہ نچلے اور اوپر والے جبڑے کی ہڈیوں کے تناسب میں بہت فرق ہوتا ہے۔ اور جب بچے کی ہڈیا ں بڑھوتی والی سٹیج پر ہوتی ہیں۔ تو ہڈیوں کے تناسب کو علاج کے ذریعہ ٹھیک کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اگر ہڈیوں کی مزید گروتھ یعنی بڑھاؤ رک گیا ہو تو ایسی صورت میں ایسے مریضوں کا علاج صرف سرجری کے ذریعہ ممکن ہوتا ہے۔ CVMایکسرے، گردن کے مہروں کی ساخت واضح کرتی ہے۔ کہ ابھی بچے نے مزید بڑھنا ہے یا اسکی بڑھوتی مکمل ہو چکی ہے۔
CBCTایکسرے
ایکسرے کی اس قسم کے سامنے آنے سے آسانیاں پیدا ہو چکی ہیں۔ اور وہ چیزیں جن کے لیے عام ایکسرے صحیح وضاحت نہ کر سکتے تھے۔ CBCTطول وعرض اور موٹائی تک کی سطح کی خامیوں کو واضح کرتا ہے۔ اور ہڈی یا چہرے کے جس حصے میں خرابی ہو اس ایکسرے کی مدد سے ڈاکٹر عین اسی حصے میں جا کر علاج کر سکتا ہے۔



