منہ کی صفائی کے ہتھیار

۔ ٹوتھ برش

۔    برش کیساہونا چاہیے :

اۤجکل عموماً مریض یہ سوال پوچھتے ہیں کہ برش کیسا ہونا چاہئے۔ کیونکہ بازار میں مختلف اقسام کے ڈھیر لگے ہو”ے ہوتے ہیں۔ ۔ مختلف رنگ ، مختلف ساأز، مختلف شکلیں ، مختلف اقسام کے، اۤگے پھر انکے دھاگے ریشے پھران ریشوں میں کو”ی سخت ،کو”ی میڈیم ،کو”ی نرم مختلف اقسام کے ہینڈلز ، مختلف اقسام کی نیکس الغرض چناأو کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ذیل میں ہم برش کے چناأو میں اہم پہلو ءو ں کا ذکر کر رہے ہیںَ جنکا خیال رکھنا از حد ضروری ہے۔

a۔    منہ کے ساأز کے مطابق:

تو اسکا اۤسان جواب یہ ہے کہ برش کا ساأز مریض کے منہ کے مطابق ہونا چایئے

b۔    ناأیلون کے بالوںوالا:

برش کے اۤگے دھاگوں یا ریشوں کا خاص خیال رکھےں ۔کہ بعض ٹوتھ برشز کے اندر نا پاک جانوروں کے بال لگے ہوتے ہیں۔ یہ ٹوتھ برش عموماً باہر سے اۤتے ہیں۔اسلئے انکے اوپر پڑھ کر تسلی کر یں کہ یہ ناأیلون کے بال Nylon) (Bristlesہیں۔

c۔    سخت ریشوںوالا:

اگر مریض کے مسوڑھے مضبوط ہوں تو اُسے سخت ریشوں والا برش(HARD BRUSH )ہی استعمال کر نا چاہئے۔ اور اگر مسوڑھے کمزور یا بیمار ہیں تو درمیانی ریشوں والا برش استعمال کریں نرم ریشوں والے برش کا اپنے اۤپ کو تسلی دینے کے علاوہ کو”ی کام نہیں۔ کیونکہ برش کا کام نہ صرف دانتوں کی صفاأی ہے بلکہ مسوڑھوں کو مساج کرنا بھی ہوتا ہے۔

.    برش کب ضاأع کرنا چاہئے

جب ناأیلون کے دھاگوں کے سرے ٹیڑھے ہو جاأیں یا پھول جاأیں تو برش بدل دینا چاہئے ، عموماً تین چار ماہ کے استعمال کے بعد برش کی تبدیلی دانشمندی ہے۔

 

a۔    برش کی صفاأی :

دانت صاف کرنے کے بعد برش کو اچھی طرح دھونا چاہیے ۔ عموماً برش کے بالوں کی جڑوں میں پیسٹ کے اجزاأ جمے رہ جاتے ہیں ۔ جو خراب ہو کر نقصان کا باعث بنتے ہیں۔ کم از کم ہفتہ بعد گلاس میں پانی میں تین چار قطرے کاربولک ایسڈ ڈالکر اس سے دھولیں ۔ اسطرح برش باالکل صاف ہو جاتا ہے۔ برش صاف کرنے کے بعداسکے اگلے حصے کو کورکرکے رکھنا چاہیے۔

 

برش سے زبان کی صفاأی اور ایک خصوصی اۤلہ

برش سے زبان کی کھردری سطح بھی صاف کرنی چاہئے جس میں خوراک کے باریک ذرات اپنی تہہ جما سکتے ہیں۔ اۤجکل زبان کی صفاأی کے لئے خصوصی اۤلہ Tongue Cleanserمارکیٹ میں دستیاب ہے۔ زبان سے یہ ذرات ہٹنے سے سانس خوشگوار ہو جاتی ہے۔

جانوروں کی زبان کھردری اوراسپربالPAPILLAبرش کی طرح لمبے ہوتے ہیں۔ جن سے وہ اپنے دانتوں کی صفاأی برش کے طریقہ پر کر لیتے ہیں۔

 

۔    برش کیسے پکڑنا چاہیے؟

دانتوں کی صفاأی میں ایک اہم پہلو برش کو پکڑنے کا طریقہ ہے ۔عموماً ڈاکٹرز مریضوں کو دو طرح سے برش پکڑنے کا مشور ہ دیتے ہیں۔

۔    پن گرپ:

کئی اس کو اس طرح پکڑتے ہیں جس طرح پین کو پکڑتے ہیں اور

۔    پام گرپ:

کئی اس کو پوری طرح مٹھی میں رکھ کر اۤگے انگھوٹھے کا سہارا دے کر برش کرتے ہیں۔

اسلامی احکامات کے مطابق اس طریقہ کی ممانعت ہےں۔ کیونکہ تحقیق سے پتہ چلا ہے۔ کہ اسطرح دانت گھسنے کے چانسز بہت زیادہ ہوتے ہیں۔

 

۔    سنت مصطفےٰؐ :

میرے نزدیک برش پکڑنے کا سب سے صحیح طریقہ نبی کریمؐ کی سنت کے مطابق ہے ۔جسطرحمسواک کو دھو کر داأیں ہاتھ میں اس طرح پکڑاجاتا ہے کہ بیچ کی تین انگلیاں اوپر جبکہ چھنگلی نیچے اور انگوٹھا منہ کے سامنے اۤجاأے ۔اسی طرح اگر برش کو بھی پکڑا جاأے تو کافی فواأد حاصل ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ مسواک پکڑنے کا یہ طریقہ اتنا مفید ہے کہ اسکا مقابلہ دوسرا کو”ی طریقہ نہیں کر سکتا ۔ تفصیل کے لئے تقابلی جاأزہ مسواک اور برش کا مطالعہ فرماأیں۔

 

۔    برش کیسے کرنا چاہیے :

برش کو لگا تا ر ایک طرف نہ کرنا چاہئے بلکہ داأروں کی شکل میں دانتوں کے تمام اطراف پھیرنا چاہئے

ڈاکٹرز عموما یہی مشورہ دیتے ہیں۔ کہ برش کو 45 ڈگری دانت کے ساتھ رکھنا چاہئے ۔(اس کی تفصیل دانتوں کی صفاأی کا صحیح طریقہ میں ملا خطہ فرماأیں )

۔    برش کتنی دیر تک کرناچاہیے :

بعض لوگ مصروفیت کی وجہ سے برشنگ کرتے وقت بہت جلدی کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے اۤجکل سانک برش ایجاد ہو چکے ہیں۔ جن میںٹاأمنگ لگی ہوتی ہے۔ اور مخصو ص ٹاأم تک مریض برشنگ کرتا رہتا ہے۔

 

برشنگ سے بچے دانتوں کا پتہ چلانا:

اسی طرح بعض لوگ دانتوں کے کسی حصے پر برش کرتے ہیں۔ اور کسی حصہ پر نہیں کرتے انکے لئے اۤج کل ایک لوشن جسے (Disclosing lotion)کہتے ہیں ۔ مارکیٹ میں اۤیا ہوا ہے۔ جسے رو”ی سے لگا کر دانتوں سے پھیرنے سے پانی میں ڈال کر کلیاں کرنے سے، دانتوں پر جمی میل رنگین ہوجاتی ہے۔ اور واضح نظر اۤتی ہے۔ جس سے صفاأی کرتے وقت اۤدمی اُس طرف متوجہ رہتا ہے۔

الیکٹرک برش ۔۔۔ خصوصی افراد :

اۤجکل بازار میں الیکڑ ک برش جو مکینکل قسم کے ہوتے ہیں۔ بنیادی طور پر معذور افراد کےلئے بناأے گئے ہیں۔ لیکن ہم نے اچھے بھلے صحت مند اۤدمیوں کو اُن سے دانت صاف کرتے ہو”ے دیکھا ہے۔

اۤج جب کہ ہر چیز ریموٹ کنٹرول ہو گئی ہے۔ اس نے حضرت انسان کو نکما کر دیا ہے۔ انسان کی فطرت کے اندر سہل پسندی ہے۔ اس لئے یہ جلد ہی اسطرف ماأل ہو جاتاہے۔لیکن اس طرح اس کے وہ اعضا جنہیں قدرت نے مشقت کے لئے بنایا تھا۔ محروم رہ کر کمزوری کا شکار ہو جاتے ہیں۔

 

بچوں کے لئے برش

اۤجکل بچوں کا شوق بڑھانے کے لئے برشز کے ہینڈلز کو مختلف شکلیں دے کر مارکیٹ میں بھیجا جاتاہے۔ تاکہ بچے اس کھلونا بھی سمجھیں اور صفاأی کےلئے بھی استعمال کریں۔

دوسرا اس میں بچوں کی گرپ کا بھی خیال رکھا جاتاہے۔

بہر حال ہر شخص کو خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا چاہئے کہ اپنے ہاتھوں سے دانتوں کی سب سطحوں پرداأروں کی شکل میں برش کریں۔

 

۔ ٹوتھ پیسٹ اور پاأوڈر

تاریخ :

شروع سے ہی دانتوں کی صفاأی کے لئے لوگ مختلف چیزیں استعمال کرتے چلے اۤءے اور اب بھی خال خال لوگ انہی طریقوں کو اپناأے ہو”ے ہیں۔ مثلاً میٹھا سوڈا، نمک ،پھٹکری اوراسی طرح کڑوی چیزیں جیسے کڑواتیل اور دنداسہ وغیرہ وغیرہ کئی لوگوں کے زیر استعمال نظراۤتاہے۔ بیسوں صدی کے شروع سے ٹوتھ پیسٹ کی ایجاد نے ان تمام چیزوں کے استعمال میں بڑے حد تک کمی کر دی

پیسٹ کے اجزاأ :

بنیادی طور پر کسی پیسٹ میں مندرجہ ذیل اجزاأ ہوتے ہیں۔

٭    جھاگ پیدا کرنے والے اجزاأ

٭    خوشبو اور ذاأقہ پیدا کرنے والے اجزاأ

٭    پلاک ہٹانے والے اجزاأ

٭    دانتوں کو رگڑنے والے اجزاأ

٭    اور ان سب کو یکجا رکھنے والے اجزاأ

جسطرح پہلے وقتوں میںکپڑوں کو مٹی اور پتھروں سے دھویا جاتا تھا۔ لیکن اب جھاگ پیدا کرنے والے صابنوں کے استعمال سے کپڑوں کی دھلاأی اۤسان ہو گئی ہے۔

اسی طرح ٹوتھ برش کے ساتھ ٹوتھ پیسٹ کا استعمال لازم و ملزوم ہو گیا ہے۔

 

میڈیکیٹڈ ٹوتھ پیسٹ اور انکے نقصانات :

اب تو مختلف بیماریوں کے لئے خصوصی اجزاأ پیسٹ میں ڈالکر نہ صرف صفاأی بلکہ بیماری کے علاج کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ جنکو عرف عام میں میڈیکٹڈ(Medicated)ٹوتھ پیسٹ کہا جاتا ہے۔

ڈاکٹرز ایسی پیسٹوں کا از خود استعمال منع کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کے استعمال سے بیماری کی بعض علامات وقتی طورپر دب جاتی ہیں۔ اور مریض ڈاکٹر کے پاس اُس وقت پہنچتا ہے۔ جب بیماری کافی بڑھ چکی ہو تی ہے۔ اسکی صرف ایک مثال میں ان میڈیکیٹڈ پیسٹس کی دیتا ہوں جن میں لونگ کا تیل ڈالا جاتا ہے۔ لونگ کا تیل وقتی طور پر جگہ کوسُن کر کے درد کو روکتا ہے۔ اب جب خرابی میں مریض ایسی پیسٹ استعمال کرتا ہے۔ تو وقتی افاقہ اسکے ڈاکٹر کے پاس جانے میں سستی کا سبب بن جاتاہے۔ اورجب بیماری بہت بڑھ جاتی ہے۔ توپھر مریض کو ہوش اۤتاہے۔

اسی طرح مسوڑھوں کی بیماری کے لئے ،دانت سفید کرنے کے لئے ، منہ کے چھالوں کے لئے ،منہ کی بد بو کے لئے ، الغرض ہر بیماری کے کےلئے پیسٹ میں اجزاأ ڈالے جاتے ہیں۔ لیکن یہ نہ توبیماری کا علاج ہوتے ہیں۔ اور نہ وجہ دور کرنے میں فاأدہ مند بلکہ صرف جو علامات ہوتی ہےں۔ وقتی طور پر ان کے دبانے میں کام اۤتی ہے۔

ٹوتھ پیسٹ اور اشتہار بازی :

ہمارے ہاں سب سے بڑا المیہ یہی ہے۔ کہ کسی بھی چیز کو بیچنے کے لئے میڈیا کا سہارا لیا جاأے اور میڈیا کے لئے (Creteria)معیار صرف روپیہ ہے۔ نہ کہ اسکے اجزاأ کی تحقیق یہی وجہ ہے۔ کہ بعض پیسٹس کے اشتہارات میں جو اداکار ڈینٹل سرجن بن کر عوام کو مشور ہ دے رہے ہوتے ہیں۔ انہیں بھی اوزارپکڑنے کا صحیح طریقہ تک نہیں اۤتا ۔

عوام دھڑ ا دھڑ اشتہاری مہم سے متاثر ہو کر پیسٹ خرید رہے ہوتے ہیں۔

مثلا ً اس اشتہار میں بتایا جا رہا ہےں۔ کہ ٹوتھ ایک دانت کو کہتے ہےں۔ صرف ٹوتھ پیسٹ صرف ایک دانت والے کو استعمال کرنا چاہیے۔ جبکہ دوسروں کو ٹیتھ پیسٹ کیونکہ ٹوتھ کی جمع ٹیتھ ہوتی ہے۔

پیسٹس کی اقسام :

۔    سموکرز اور پان والوں کے لئے :

کسی بھی پیسٹ کا ایک اہم جز جیسے کے اوپر لکھا گیا ہے۔ وہ دانت کے رگڑنے والے اجزاأ ہیں۔ان میں بعض اجزاأ کی دانت گھسانے کی طاقت زیادہ ہوتی ہے۔ اور بعض کی کم مثلاً سگریٹ پینے والے لوگوں کے لئے دانت زیادہ گھسانے والے موٹے ذرات ڈالے جاتے ہیں۔ لیکن یہی پیسٹ ان لوگوں کے لئے جنکے دانت کی باہروالی سطح کمزور ہو گی سخت نقصان دہ ہونگے ۔

مثال

اسکی عموماً میں مثال اس طرح دیتا ہوں کہ جسطرح ایک دیگ کو ریت یا مٹی سے صاف کیا جاتا ہے۔ سرف وغیرہ سے نہیں۔ اور ایک نازک برتن کو سرف سے صاف کیا جاتا ہے۔ ریت اُس پر خراشیں ڈال دے گی۔ بالکل اسی طرح سگریٹ اور پان کھانے والوں کے دانتوں کے لئے علیحدہ موٹے دانوں والی پیسٹ تجویز کی جاتی ہے۔

۔    نازک انیمل والے کے لئے

جبکہ نازک انیمل والوں کے لئے باریک دانوں والی پیسٹ ، کسی بھی پیسٹ کے دانت گھسانے کی قوت کا اندازہ اۤپ خود کر سکتے ہیں۔(تفصیل ٹوتھ پیسٹ کے انتخاب میں پڑھیں)

اسی طرح بچوں اور جوانوں کی پیسٹ کیسے ایک جیسے ہو سکتی ہے۔ لیکن ہمارے ہاں بچے۔ بوڑھے جوان سب ایک ہی پیسٹ،استعمال کررہے ہوتے ہیں۔

۔    بیماری میں :

ہمارے ہاں یہ عام روش ہے کہ اگر کسی نے بیماری میں میڈیکیٹڈ پیسٹ استعمال کی تو سب کے لئے وہی پیسٹ حالانکہ میڈیکیٹڈ پیسٹ کا ڈاکٹر کے مشور ے کے بغیر استعمال کرنا نقصان دہ ہوتا ہے۔دوسرا میڈیکیٹڈ نام ہی بتا رہا ہے کہ یہ بیمار دانتوں اور بیمار مسوڑھوں کے لئے ہے نہ کہ صحت مند دانتوں اور مسوڑھوں کے لئے کیونکہ میڈیکیٹڈ پیسٹ کا زیادہ عرصہ استعمال کرنا سخت خطرناک قسم کے نتاأج کا باعث بن سکتاہے۔

ٹوتھ پیسٹ سے الرجی

بعض لوگوں میں پیسٹ کے استعمال سے انکے منہ میں چھالے نکل اۤتے ہیں۔ ایسا بعض افراد میں پیسٹ کے جھاگ پیدا کرنے والے جزو سے ہوتا ہے۔ ایسے افراد کے لئے ٹوتھ پاأوڈر مفید رہتا ہے۔

اہم مشورہ :

ٹوتھ پیسٹ ہمیشہ بدلتے رہنا چاہیے ۔ کیونکہ متواتر ایک ہی طرح کے پیسٹ کے استعمال سے منہ کے جراثیم ان کے عادی ہو جاتے ہیں۔

نمکین پیسٹ یا میٹھے پیسٹ ایک تقابلی جاأزہ :

اۤجکل میٹھے پیسٹ کی جگہ نمکین پیسٹ بہت مقبول ہو رہے ہےں۔ جو بہت خوش اۤءیند بات ہے۔ الحمد للہ اسکے لئے ہم نے بہت عرصہ پہلے کافی کاوشیں کی تھیں۔ جواب با ر اۤور ثابت ہو رہی ہیں۔

پیسٹ میں مٹھاس کے دو بنیادی مقاصد :

کیونکہ کسی بھی پیسٹ کو میٹھا کرنے کے دو بنیادی مقاصد ہوتے ہیں۔

۔    تھوک زیادہ پیدا ہونا :

مٹھاس کی وجہ سے منہ میں تھوک زیادہ اۤتا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ خشک منہ کے مقابلے میں تھوک کے ساتھ نمی میں صفاأی کرنی اۤسان ہو تی ہے۔

۔    ٹاأم کا پتہ لگنا :

مٹھاس اۤپ کے لئے ٹاأم مقر ر کرتی ہے۔ کہ اتنی دیر برش کریں تاکہ مٹھاس کا ذاأقہ ختم ہو جاأے۔

اب سوچیں کہ ہم سے کتنے ایسے جو کہ پیسٹ کا تھوڑا بہت ذاأقہ منہ میں نہیں چھوڑ دیتے۔ اوروہی پیسٹ جو دانتوں کی صفاأی کے لئے استعمال ہو رہا ہوتا ہے۔ بچے ہو”ے پیسٹ کی مٹھاس سے دانتوں اور مسوڑھوں کی بیماری کا باعث بن رہا ہوتا ہے۔

اب جبکہ یہ مقاصد نمک سے حاصل ہو سکتے ہیں۔تو پھرکیوں نہ نمکین پیسٹ استعمال کیا جاأے۔

نمکین پیسٹ کے فواأد :

٭    تھوک زیاد ہ کرنا :

نمک سے بھی منہ میں تھوک زیادہ اۤتا ہے۔ اور برش میں اۤسانی رہتی ہے۔

٭    تیزابی مادوں کو معتدل کرنا:

نمک تیزاب کو معتدل کرتا ہے۔ اور تیزابی مادے ہی دانتوں کے خرابی کی بنیادی وجہ ہوتے ہیں۔ گویا نمکین پیسٹ انہی تیزابی مادوں کے اثرات کو ختم کرکے میٹھی پیسٹ سے فوقیت رکھتی ہے۔

٭    جراثیم کش :

اسی طرح نمک کی تاثیر انتہاأی جراثیم کش ہوتی ہے۔ اسکے استعمال سے دانتوں، منہ ، اور گلے کی بیماریوں سے محفوظ رہا جاسکتا ہے ۔

حاصل کلام :

ا سلئے عوام الناس کو توٹھ پیسٹ کے انتخاب از خود نہیں کرنا چاہیے۔ بلکہ دانتوں کی قسم کے مطابق پیسٹ کاانتخاب ڈاکٹر کا ہی کام ہے۔

۔ ڈینٹل فلاس :

حدیث شریف ؐ:

حضور ؐنے ارشاد فرمایا :

مَنْ اَکَلَ فَلْیَتَحَلِلْ

کہ جب کھانا کھا چکو تو خلال کر لیا کرو(یعنی دانتوں میں پھنسی خوراک نکال لیا کرو)

فلا س نہ کرنے کے نقصانات:

یہی وہ طریقہ ہے جو اۤج ترقی یافتہ دور ڈینٹل فلاس کی شکل میں بتا رہا ہے۔

کیونکہ جو خوراک دانتو ں میںرہ جاأے اُسکو نکالنا ضروری ہوتا ہے۔ کیونکہ یہی ذرات گل سڑ کر جراثیموں کی اۤماجگاہ اور دوسری بیماریوں کاباعث بنتے ہیں۔

فلاسز کی اقسام :

اۤجکل مارکیٹ میں مختلف قسم کے فلاسز دستیاب ہیں۔

٭    عموماً یہ دھاگے کی مختلف اقسام ویکس لگا کر اور ساتھ ہی کو”ی دو ایا خوشبو لگا کر مارکیٹ میںبھیجی جاتی ہے۔

٭    ویکس سے دھاگہ ملاأم ہو جاتا ہے۔ اوراۤسانی سے دانتوں کے اتصال سے دو دانتوں کے اندرونی خلا میں پہنچ جاتاہے۔ اور وہاں پڑی خوراک کو دور کرنے میں مدد دیتا ہے۔

٭    بعض دفعہ پاکٹس کے اندر دانت والے حصے حساس ہوتے ہیں۔ انکی حساسیت کو دور کرنے کے لئے فلو راأید یا دیگر دافع حساسیت کیمیکلز کے اندر ڈبو دیا جاتا ہے۔ اسی طرح خوشبو اور ذاأقہ اس لئے لگایا جا تا ہے۔ تاکہ استعمال کرتے ہو”ے دلکشی بر قرار رہے۔

٭    اۤجکل یہ دھاگے ڈینٹل فلاس مختلف قسم کے JUNKERSیعنی ایسی امدادی اشیا ء کے ساتھ اۤرہے ہیں۔کہ فلاسنگ کرنا اور اۤسان ہو گیا ہے۔ یہ پلاسٹک کی بنی ہو”ی ۔ سانگی نما یا yٹاأیپ چیز ہوتی ہے۔ درمیان میں دھاگہ جڑ ا ہوتا ہے۔ اور اس سے فلاسنگ اۤسانی سے ہو جاتی ہے۔

 

فلاسنگ کا صحیح طریقہ

تقریباً 1 1/2 ڈیڑھ فٹ یعنی 18انچ دھاگہ لے کر ایک ہاتھ کی شہاد ت کی انگلی پر12بارہ انچ لپیٹ لیں اور دوسرے ہاتھ کی درمیانی انگلی پرچار انچ لپیٹ لیں۔ صرف اب درمیان میں صرف دو انچ رہ گئے ۔ اسکو انگوٹھے اور شہادت کی انگلی سے گاأیڈ لاأن دے کر دانتوں کے درمیان خلا تک رساأی حاصل کریں اورجھولے کی طرح یعنی افقی طور پر حرکت دیں۔ اوپر نیچے حرکت نہ دیں۔ ورنہ مسوڑھے زخمی ہو جاأیںگے۔

تین چار دفعہ حرکت دینے کے بعد یہ دھاگہ ہٹا دیں اور شہادت کی انگلی سے مزید دھاگہ کھول لیں۔

بچوں میں بھی فلاس کی عادت ڈالیں ۔ اور تقریباً ہر دانت تک رساأی حاصل کریں۔ اور اۤسان طریقہ یہ ہے کہ سامنے سنٹر کے دانتوں سے شروع کرکے داأیں طرف اوپر کے دانتوں میں جاأیں۔ پھر داأیں طرف نیچے چلتے ہو ءے باأیں طرف اۤءیں اور باأیں طرف کے اوپر کے دانتوںسے پھر تے ہو”ے سنٹر لاأن کی طرف اۤجاأیں۔

احتیاط :

اگرفلاسنگ کے دوران خون زیادہ اۤءے تو اپنے Dentistڈینٹسٹ سے ضرور مشور ہ کریں۔

۔ Tooth Picks ٹوتھ پکس:

ٹوتھ پکس کے استعمال:

عموماً ہوٹلوں میںاور گھروں میں کھانے کے بعد لکڑی کے بنے ہو”ے پکس یعنی تیلیاں پیش کی جاتی ہےں۔ جن سے دانتوں کے اندر پھنسی ہو”ی غذا کو نکالا جاتا ہے۔

ٹوتھ پکس کے نقصانات:

عموماً یہ پکس دانتوں کے خلا میں پھنس کر ٹوٹ جاتی ہیں۔ اور پھر بھاگم بھاگ ڈینٹسٹ کے پاس یہ پکس نکلوانے کے لئے پہنچ جاتے ہیں یا دوسری حالت میں پکس سے اپنے مسوڑھے زخمی کر کے پہنچتے ہیں۔

احتیاطیں:

اس لئے ڈینٹل سرجن عموماً یہ مشورہ دیتے ہیں۔ کہ پانچ سے 15سال کی عمرتک بچے کو اسکا استعمال نہ کرنا چاہئے ۔

دوسرا پکس سخت کی بجاأے نرم لکڑی کی بنے ہو”ی استعمال کریں۔ جو نرم ہونے کی وجہ سے پاکٹس کے اندر سٹمولیڑ کا بھی کام کرتے ہیں

۔ ماأع کے دباأو سے صفاأی : (Oral Irrigater)

اۤجکل ایسے اۤلے مارکیٹ میں اۤچکے ہیں۔ جن میں ماأوتھ واش یا سادہ پانی ڈالکر اسکو پاکٹس میں پریشر سے چھوڑا جاتاہے تاکہ اندر سے خوراک صاف ہو جاأے

 

فواأد:

عام کلی کرنے سے پانی صرف پاکٹس کے ایک ملی میٹر تک ذروں کو صاف کر سکتے ہیں۔ جبکہ اس اۤلے سے تین سے چار ملی میڑتک پھنسے غذا کے ذرات صاف ہو جاتے ہیں۔

احتیاط:

Irregatorاریگیٹرکو درد کی حالت میںکبھی استعمال نہ کرنا چاأیے ۔ دوسرا اسکا دباأو کم رکھنا چاہئے ورنہ نقصان کا خدشہ بھی رہتا ہے۔ اگر اسکا استعمال صحیح ہو تو کافی فاأدہ مند ثابت ہوتاہے۔

۔ ماأو تھ واش:Mouth Wash

ماأو تھ واشز کی اقسام اور اُنکے فواأد و نقصانات :

جس طرح اۤپ کو مارکیٹ میں رنگا رنگ ٹوتھ برشزاور فلاسز نظر اۤتے ہیں۔ اسی طرح اۤپ کو مختلف ذاأقے ، مختلف اجزاأ اور مختلف مقاصد کے لئے بناأے ہو”ے ماأوتھ واشز بھی نظر اۤءیں گے۔

۔    سانس کو خوشگوار بنانے کے لئے :

بعض ماأوتھ واشز صرف منہ کے ذاأقہ اور سانس کو خوشگوار بنانے کے لئے بنے ہوتے ہیں۔ اور یہ 15منٹ سے ایک گھنٹہ تک اپنی مہک کو منہ میں بساأے رکھتے ہیں۔

اگر چہ یہ منہ کی بد بو کا علاج نہیں ہوتے ۔ لیکن بد بو کو ماسک یعنی دباأے رکھتے ہیں۔منہ کی بد بو کے لئے Oxygenising agent اۤکسجنا ءزنگ ایجنٹ مثلاً ہاأیڈروجن پر اکساأیڈ والے ماأو تھ واش بہت فاأدہ مند ہوتے ہیں۔

 

۔    دانتوں کی مضبوطی کے لئے:

بعض ماأو تھ واشز میں فلوراأیڈز ہوتے ہیں۔ جن سے دانت کی سطح مضبوط ہوتی ہے۔

چھ سال سے اوپر والے بچے کوایسے ماأوتھ واش سے لازماً کلیاں کرانی چاہئے ہیں۔ فلو راأید والے ماأو تھ واش کو تقریبا ایک منٹ منہ کے اندرپھر اأیں۔ اسکو نگلیں مت اور کلیوں کے بعد تقریباً اۤدھا گھنٹہ کھانے پینے سے پرہیز رکھنی چاہئے

۔    جراثیم کش:

اسی طرح کئی ماأوتھ واشز میں جراثیم کش ادویات ہوتی ہےں۔

جس کا لمبے عرصہ تک استعمال منہ کے ذاأقہ کو تبدیل کر دیتا ہے۔جوخوراک کے ذرات میں پیدا جراثیم ختم کر دیتے ہیں۔ان ماوتھ واشز میں کلو ر ہکسٹیڈین جراثیم کش خصوصیت کے بنا پر زیادہ مشہور ہے۔ لیکن کافی عرصہ تک اس کا استعمال دانتوں پر کالے رنگ کی تہہ جما دیتا ہے۔

۔    الکحل والے ماأوتھ واشز

ایک متنازعہ مسئلہ :

بعض ماأوتھ واشز کے اندرالکحل ملا ہوتا ہے۔ جو کہ 27%تک ہو سکتا ہے۔ یہ عموماً منہ میں جلن پیدا کرتا ہے۔ اور بچوں کےلئے سخت خطرناک ہوتاہے۔اگرچہ اب سب ڈاکٹرز بھی اس کے نقصانات کے قاأل ہو گئے ہیں۔ لیکن بحثیت مسلمان ہمیں ایسے ماوتھ واشز سے جن میں الکحل ہو قطعاً پرہیز کرنا چاہئے۔

کیونکہ ماأوتھ واش منہ کو پاک اور صاف کرنے کے لئے کئے جاتے ہیں۔ جبکہ ہمارے دین نے اس کو نجس قرار دیا ہے۔ تو کس نجس چیز کے استعمال سے پاکی کس طرح حاصل کی جا سکتی ہے۔

فقہی مسئلہ

شرعاالکحل کا پینا محض لذات حسن و جمال یا قوت کے لئے حرام اور باعث عذاب ہے۔ البتہ ایسی دوا جس میں الکحل ملا ہو ایک گو نہ مجبوری کے تحت استعمال درست ہے۔

فتاوی عالمگیری جلد ف میں لکھا ہے کہ اس سلسلہ میں فقہا کی دو راأیں ہیں۔ بعض نے جاأز اور بعض نے ناجاأز کہا ۔ البتہ اگر کو”ی اسکی متبادل دوا موجود ہو تو اس سے پرہیز کرنا چاہئے چونکہ یہ صرف حرام نہیں بلکہ نا پاک بھی ہے۔

الحمد اللہ اۤج الکحل سے پاک ماأوتھ واشز سے وہ سارے مقاصد حاصل ہو سکتے ہیں۔ جومطلوب ہوتے ہیں۔۔ توپھر کیوں ہم ایسے ماأوتھ واش استعمال کریں جو ناجاأز ہوں۔

۔    دیگربیماریوں کے لئے :

بعض ماأوتھ واشز میں مختلف دواأیوں کے اجزاأ پڑے ہوتے ہیں۔ جو منہ کی مختلف بیماریوں میںموثر ہوتے ہیں۔

    الغرض صحیح قسم کے ماأوتھ واش کا انتخاب مریض کو اپنی مرضی سے نہیں بلکہ اپنے ڈاکٹر کی تجویز پر کرنا چاہئے۔

۔ فلوراأیڈ

دانتوںکی مضبوطی میںفلوراأیڈ کا کردار :

دانتوں کی سطح کی مضبوطی میں فلوراأیڈ کا کردار اب کسی تعارف کا محتاج نہیں رہا۔ اب پیسٹ ، ماأوتھ واش حتیٰ کہ ڈینٹل فلاس میں بھی دیکھیں کہ اُسے بھی فلوراأیڈ کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے۔

٭    جو بچے پیداأش سے دانت نکالنے کی عمر تک مناسب مقدار فلواأیڈ کی لیتے ہےں۔ انکے دانتوں میں کم کیڑا لگتا ہے۔

٭    اگر یہی فلوراأیڈزیادہ مقدار میں لی جاأے تو پھر دانتوں کے اندر پیلے رنگ جم جاتا ہے۔ جس سے دانت بھدے اور بد نما نظر اۤتے ہیں۔ اگر چہ ایسے دانت بہت مضبوط ہوتے ہیں۔ اوران میں کیڑا لگنے کا امکان بہت کم ہوتا ہے۔

٭     جبکہ وہ بچے جو فلوراأیڈ کی کمی کاشکار ہوتے ہیں۔ ان کے عموماً دانت جلدی تباہ ہو جاتے ہیں۔

 

پانی میںفلوراأیڈ اورہمارا ملک :

پاکستان میں اکثر عوام الناس کو پینے کا صاف پانی بھی میسر اۤجاأے تو یہ غنیمت ہے پھر اس پر کہ فلوراأیڈ ملانے کا مطالبہ وہ بھی متعین مقدار میں دیوانگی کی بات ہے۔حالانکہ یہ بات تحقیق سے ثابت ہے کہ جن جگہوں پر پانی میں فلوراأیڈ کی مقدار ایکسے دو پی پی ایم(پارٹس پر ملین) ہے وہاں دانتوں کے خراب ہونے کی شرح بہت کم ہے۔جبکہ وہ علاقے جہاں پانی میں اسکی سطح .5پی پی ایم سے کم ہے دانتوں کے خراب ہونے کی شرح بہت زیادہ ہے۔ جب پکے دانت منہ میں مکمل نکل اۤءےں تو پھر اندرونی طور پر فلواأیڈز کی ضرورت نہیں رہتی ۔بلکہ دانتوں کی سطح پر لگانے کے لیے فلوراأیڈز کی ضرورت ہوتی ہے۔

فلواأیڈ کے استعمال کے طریقے :

اسلئے ایسے لوگوں کوجنکے دانتوں پر جلدی کیڑا لگتا ہو۔فلوراأیڈزسے درج ذیل طریقوں سے فاأدہ اُٹھا سکتے ہیں۔

a۔    فلوراأیڈ پیسٹ ۔۔۔ ماأوتھ واشز :

اُنکو فلوراأیڈ والی ٹوتھ پیسٹ ، ماأوتھ واشز استعمال کرنے چاہئیں۔

b۔    فلوراأیڈ جیل اور ٹرے :

ڈاکٹراۤجکل عموماً فلوراأیڈ جیل استعمال کرواتے ہیں۔ اس میں دانتوں کی ٹرے کلینک پر ماپ لے کر لیبارٹری سے بنواأی جاتی ہے۔ اور ساتھ فلوراأیڈ جیل دے دی جاتی ہے۔ جو مریض رات سوتے وقت ٹرے میں ڈال کر اپنے دانتوں میں لگا لیتا ہے۔

c۔     الیکڑک فلوراأیڈڈاأزیشن کا جدید طریقہ :

اسکے علاوہ اۤجکل الیکڑک فلوراڈاأزیشن مشین کے ذریعے ڈاکٹر فلوراأیڈز کو دانتوں کی سطح پر جذب کر دیتے ہیں۔ اور یو ں دانت کی سطح مضبوط ہو جاتی ہے۔

میکانزم

اس مشین میں نظام اسطرح ہوتا ہے۔ کہ مشین کے کنارے جہاں فلوراأیڈ سولو شن لگاتے ہیں۔منفی -) (چارج ہوتا ہے۔ اور ساأنس جاننے والے حضرات جانتے ہیں۔ کہ فلوراأیڈ پر بھی منفی -) (چارج ہوتا ہے۔ اور یہ دونوں ایک دوسرے کو دفع کرتے ہیں۔ یعنی Repellکر تے ہیں۔ بس جب سرکٹ مکمل ہوتا ہے۔ تو کنارے پر لگی فلوراأیڈ زبر دستی دانت کی سطح پر جذب ہوتی جاتی ہے۔ اور ساتھ ساتھ کرنٹ بڑھا کر اسکی جذب ہونے والی مقدار کو زیادہ کیا جاتا ہے۔

ہم اپنے کلینک پر تمام مریضوں کی فلوراأیڈیشن لازماً کرتے ہیں۔ تاکہ سطح مضبوط اور دانت خرابیوں سے بچے رہیں۔

احتیاط

مریضوں کو چاہئے کہ ہر چھ ماہ بعد خود فلوراأیدیشن کے لئے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ کیونکہ پاکستان میں Remindیا کلینک کی طرف سے یاد دہانی کا نظام بہت ہی کم ہے۔

۔ پٹ اینڈ فشر سیلنگ :

(Pit & fissure Sealing)

یہ طریقہ خصوصی طور پر بچوں میں کیا جاتا ہے۔ جو عموماً دانتوں کی صفاأی میںسستی کرتے ہیں۔چونکہ دانتوں میں خرابی غذا کے چپکنے والی ذرات سے ہوتی ہے۔ جو دانت کے اندربنےقدرتی گڑھے اورلکیروں میں پھنسے ہوتے ہیں۔اسکا ذکر دانتوں کی باہر کی سطح پر بیماریاںکے باب میں میں ذکر ہے۔ اس علاج میں دانت کے قدرتی گڑھوں اور لکیروں کو پلاسٹک کی پتلی بھراأی سے کور کر دیا جاتا ہے۔ تاکہ وہاں خوراک کے باریک ذرات چپکے رہ کر کیڑا لگنے کا سبب نہ بن سکیں۔

اس سے دودھ کے دانت محفوظ رہتے ہیں۔ یہ سیلنگ عموماً چھ ماہ بعد دوبارہ کروانی چاہئے ۔

۔ مسواک

مسواک کی تاریخ:

معزز قارئین ! اگرچہ ابتداأے اۤفر نیش سے اب تک لوگوں میں منہ اور صحت و صفاأی کے لئے مختلف چیز یں استعمال کی جا تی رہی ہیں۔

اۤثار قدیمہ کی کھداأیوں سے حاصل ہونے والی کئی چیزیں دانتوں کے استعمال سے متعلق ہیں۔ جن میں سے عموماً پودوں کی خوش ذاأقہ شاخیں ہیں۔ جو منہ دانتوں اور مسوڑھوں کی صفاأی اور صحت میں مفید ہیں ۔ جن میں ، کیکر ، کلاأی، ترجن ، مسواک ، یعنی پیلو کی جڑیں قابل ذکر ہیں۔

 

حضورؐ کافرمان:

حضورؐ نے پیلو کی تعریف فرماأی ۔ حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ حضورؐ کے لئے پیلو کی مسواک کا ذخیرہ رکھتا تھا ۔ پیلو نہ ہوتو پھر زیتوں کی لکڑی یا تلخ درخت کی مسواک مناسب ہے۔

پیلوکے کیمیاأی اجزاأ اور انکے خواص:

جب پیلو کی مسواک کا کیمیاأی تجزیہ کیا گیاتو اس میں جر اثیم کش ،مانع جر اثیم اور پھپھوندی ختم کرنے والی خصوصیات زیادہ پاأی گئیں ۔ اور درج ذیل اجزاأ پاأے گئے ۔ جن کے ناموں اور خواص کو درج کیا جاتا ہے۔

Trimehyeamm

پلاک جمع ہونے سے روکتی ہے۔

Flourid فلوراأیڈ

دانت کے باہر کی سطح انیمل کو مضبوط بناتا ہے۔

Silicaسلیکا

دانت چمکاتا ہے۔

Sulpher سلفر

منہ کو صحت مند رکھتا ہے۔ جراثیم کش ہے۔

Vit C وٹامن سی

مسوڑھوں کے لئے اکسیر ہے۔

Saponin , Taninسیپونین ، ٹینن

منہ کے لعاب اور رال کو اعتدال میں رکھتا ہے۔

Resinریزن

انیمل کی حفاظت کرتاہے۔

چونکہ پیلو زیادہ تر قبرستان میں پایا جاتا ہے۔ اس لیے اس میں کیلشیم اور فاسفورس کی تعداد کافی پاأی جاتی ہے۔ اور ہر شخص بخوبی جانتا ہے۔کہ کیلشیم اور فاسفورس دانتوں اور ہڈیوں کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

پیلو کی افادیت:

مندرجہ بالا جاأز ے سے پتہ چلا کہ اۤجکے دور میں منہ اور دانتوںکی تمام بیماریوں کے لئے بننے والی پیٹس کے اجزاأ کو اگر اکھٹا کیا جاأے تو پیلو کے اجزاأ اس سے بڑھ کر ہیں۔ جسکا ملنابھی اۤسان اور جسکی لاگت بھی انتہاأی کم ہے۔

مسواک کی تعلیم :

حضورؐ نے منہ اوردانتوں کی صفاأی پر اُمت کو بہت زیادہ تعلیم عطا فرماأی۔اور مسواک کے فضاأل کی بابت بے شمار احادیث، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور بزرگان دین کے اقوال ہماری رہنماأی کے لیے قطب مینار ہیں۔(تفصیل کے لیے اسلام میں منہ اور دانتوں کی صفاأی کی اہمیت کے باب کامطالعہ فرماأیں)

اسلئے مسواک کے بارے میں سنت طریقہ کے مطابق سیکھنا نہ صرف صحت کا بلکہ ہر مسلمان کے دین کا بھی تقاضا ہے۔

مسواک کیسی ہونی چاہیے ؟

۔    مسواک کسی کڑوے درخت کی ہو ۔ جیسے نیم کی لکڑی ۔

۔    مسواک سیدھی ہونی چاہیے گرہ دار نہ ہو۔

۔    پیلو کی جڑ

۔    مسواک کم از کم چار انگلی اور زیادہ سے زیادہ ایک بالشت لمبی ہونی چاہیے۔

۔     موٹاأی میں انگوٹھے سے زیادہ موٹی نہ ہو اور چھنگلی سے کم نہ ہو۔

۔     اسکے ریشے سخت اور باریک ہوں۔

مسواک پکڑنے کا طریقہ :

مسواک کو دھو کر داأیں ہاتھ میں اس طرح پکڑیں کہ بیچ کی تین انگلیاں اوپر جبکہ چھنگلی نیچے اور انگوٹھا منہ کے سامنے اۤجاأے ۔ مسواک پکڑنے کا یہ طریقہ اتنا مفید ہے کہ اسکا مقابلہ دوسرا کو”ی طریقہ نہیں کر سکتا ۔ تفصیل کے لئے تقابلی جاأزہ مسواک اور برش کا مطالعہ فرماأیں۔

 

مسواک کرنے کا طریقہ :

۔    مسواک کرتے وقت نیت یہ ہونی چاہئے کہ میں اپنے منہ کو قراۤن پڑھنے نماز یا خدا کا ذکر کرنے کیلئے اپنے پیغمبر ؐ کی سنت کے مطابق پاک کرتا ہوں ۔

۔    مسواک اوپر نیچے مسوڑھوں کی جانب سے تین تین دفعہ کرنی چاہئے ۔ تین دفعہ داأیں طرف پھر سامنے تین دفعہ پھر تین دفعہ باأیں طرف ۔

۔    بعض فقہاأ کہتے ہےں۔ کہ طولا ً عرضا ً دونوں جاأز ہیں۔ اور حضور ؐ سے دونوں طرح ثابت ہے۔

۔    اگر مسواک نہ ہو تو دانتوں کو انگھوٹھے اور شہادت کی انگلی سے رگڑیں یہ مسواک کے قاأم مقام ہیں۔

ممنوعات

٭    لیٹ کر مسواک کرنا

٭     مٹھی سے پکڑنا

٭     مسواک چوسنا

٭     مسواک کرنے کے بعد دھوکر نہ رکھنا۔

٭     مسواک کھڑی کر کے نہ رکھنا۔ الٹی رکھنا ۔

٭     کسی دوسرے کی مسواک کرنا ممنو ع ہیں۔

                 (در مختا ر)

۔    خوراک :

اچھے دانت صحت اور شخصی وجاہت کا اہم حصہ ہوتے ہیں۔ اورانکی چمک اۤپکی مسکراہٹ کو حسین ترین بنانے میںاہم کردار ادا کرتی ہے۔

پہلے لوگوں کی خوراک اور اسکے فواأد:

اگلے وقتوں میں دانتوں کی صحت کے برقرار رہنی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ انکی خوراک سخت اور ریشہ دار ہوتی تھی ۔ اسی طرح زیادہ تر وہ لوگ قدرتی غذاأوں پر انحصار کرتے تھے۔

ریشہ دار غذاأیں دانتوںاور مسوڑھوں پر رگڑ پیدا کرتی ہیں۔ اور کو”ی ذرہ اُنکی سطح پر اٹکنے نہیں دیتیں۔

جدید خوراک اور اسکے نقصانات:

جبکہ وقت کے ساتھ عوام الناس میں بند ڈبوںکی غذاأیں ، زیادہ نشاستہ دار اجناس ، کار بو نیٹڈ بوتلوں ،ٹافی ، چاکلیٹس، فارمی گوشت (جن میں سٹیراأیڈ کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے) وغیرہ وغیرہ کا کثرت سے استعمال بڑھ رہا ہے۔

جس سے وہ اپنے قدرتی نظام مدافعت کے ساتھ ساتھ دانتوں کے لیے ایسے حالات فراہم کر دیتے ہیں۔ کہ اُنکی بقاخطرے میں پڑجاتی ہے۔

کیونکہ ایسی غذا کھانے کے بعد بیکٹریا کےلئے حالات ساز گار ہو جاتے ہیں۔ خاصکر سنیکس پینے کے بعد انکا تیزابی مادہ بیکٹریا کی افزاأش میں بہت معاون ہوتا ہے۔ اور تیزابی عمل سے بیرونی سطح میں شگاف پڑجاتے ہیں۔ اور جب باہر کی پالش اتر جاأے تو دانت اۤسانی سے گھسنا اور گلنا شروع کر دیتے ہیں۔

 

احتیاطیں:

اسلئے دانتوں کی صفاأی کے دیگر طریقوں کے ساتھ غذا کی طرف بھی توجہ از حد ضروری ہے۔

٭    اسلئے کوشش کریں کہ ریشہ دار غذا ءیں کثرت سے استعمال کی جاأیں۔ جو کہ منہ کی صفاأی ، صحت کے علاوہ انسان میں قبض نہیں ہونے دیتیں۔اور اسطرح جسمانی صحت بھی بہتر رہتی ہے۔کیونکہ

القبضُ اُمُّ الامراض

قبض بیماریوں کی ماں ہے

ئ٭    اۤجکل میں نے پریکٹس میں اکثر لوگوں کو کیلشیم کی کمی کا شکار دیکھا ہے۔ چونکہ ہماری اکثریت دھوپ وغیرہ کے نیچے اور قدرتی فضاأوں سے دور تنگ و تاریک کمروں میں رہتے ہیں۔ جس کہ نتیجے میں وہ وٹامنز جو دھوپ میں قدرتی طور پر پاأی جاتی ہےں کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اور کیلشیم کے مدرگار ان وٹامنز کی غیر موجودگی میں بالا ۤخر مریض کیلشیم کی شد ید کمی کا شکار ہو کر جہاں ہڈیوں کی کمزوری ، مسلز کے درد ، وہیں دانتوں کی تباہی ، ٹھنڈاگرم لگنا جیسے مساأل کا شکار بھی ہو جاتا ہے۔

٭    اسلئے ہر ایسے شخص کو جوان پیجیدگیوں میں گھرا ہو لازمی طور پر خون کے اندر وٹامن ڈی ٹھری Vit-D3کا لیول چیک کروانا چاہیے تاکہ کیلشیم لیول کے ٹھیک ہونے میں مدد مل سکے۔

٭    ایسی خوراک جن میں کیلشیم اور فاسفورس ہو استعمال کرنے سے جسم ان کی کمی کے نقصانات سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ کئی اجناس جسے باجرے ، مکئی وغیرہ ، میں کیلشیم بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اسی طرح دودھ ۔لیکن اۤجکل لوگ ان قدرتی غذاأوں پر توجہ دینے کی بجاأے کیلشیم کی گولیاں اور شربت لکھوانے پر اصرار کرتے ہیں۔ جو کہ صحیح روش نہیں ہے۔

٭    دانتوں سے چپکنے والی غذاأوں سے پرہیز کرنا چاہئے۔اگر کھانی پڑجاأیں تو اسکے بعد دانتوں کی صفاأی کا لازماً اہتمام کرنا چاہیے۔

٭    بعض خوراکیں دانتوں کے لیے بہت مفید ہیں۔مثلاً

پیاز

یہ دانتوں کی بوسیدگی کو روکتا ہے۔ اس کے بارے میں بعض محققین کی راأے ہے کہ میں جو شخص روزانہ ایک گھٹی پیاز کھاأے وہ دانتوں کے کافی امراض سے بچ جاتا ہے۔

سیب

اسی طرح سیب کی دانتوں کی صحت کے ساتھ خاص تعلق ثابت ہو چکا ہے۔ ڈاکٹر ٹی ٹی ہینکس (Dr. T.T.Hanks)اپنی کتاب ”ڈینٹل سروے ” میں رقمطراز ہیں۔ کہ سیب میں منہ کے اندرونی صفاأی کی اتنی صلاحیت ہے۔ جو کسی دوسرے پھل میں نہیں ہے۔ یہ بالکل برش کی طرح دانتوں کو صاف کرتا ہے۔ اور غذاأیت کے علاوہ اسکے وہ تیزابی جزو لعاب کو بڑھاتے ہو۔ جس سے صفاأی میں مدد ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیب کودانتوں کا فطر ی محافظ قرار دیا گیا۔

لیموں ، مالٹا

لیموں ، مالٹا وغیرہ یا ایسے فروٹس جنکے اندر (Vit C)وٹامن سی پاأی جاتی ہے۔ مسوڑھوں کی صحت کے لئے بہت فاأد ہ مند ہیں۔ذیل میںہم دانتوں کے لئے فاأدہ مند اور نقصان دہ غذا کا اجمالی خاکہ قارئین کے لئے پیش کرتے ہیں۔

 

فاأدہ مند غذاأی اجناس :

فروٹس ، خشک میوہ جات ، گوشت ، سبزیاں بغیر چھنے ہو”ے اۤٹے کی روٹیاں ، دودھ وغیرہ دانتوں کی صحت کے لیے فاأدہ مند گنے جاتے ہیں۔

 

نقصان دہ غذاأی اجناس:

جبکہ بندڈبے کی غذاأیں ، سنیکس ، ٹافی ، چاکلیٹس بسکٹس ، مٹھاأیاں وغیرہ دانتوں کی صحت کے لیے نقصان دہ پاأے گئے ۔

 

۔    دیسی نسخے اور ٹوٹکہ جات

اۤج کے دور میں بھی بعض لوگ دانتوں اور منہ کی صفاأی کے لئے دیسی نسخے اور ٹوٹکے استعمال کرتے نظر اۤتے ہیں۔

٭    بعض لوگ اخروٹ کا چھلکا اورلیموں کا چھلکا ملا پیس کرکہتے ہیں۔ اور دانتوں پر سگریٹ کے نشانات وغیرہ کے لیے مفید بتاتے ہیں۔

٭     بعض لوگ بادام کا چھلکا جلا کر پیس لیتے ہیں۔ اوراسکے برابر نمک ڈالکر ملتے ہیں۔ اسی طرح بعض کیکر کی چھال جلا کر باریک پیس لیتے ہیں۔ اور نمک ساتھ ملا کر دانتوں پر ملتے ہیں۔ ان سے گزارش ہے کہ اگر پیسے ہو”ے چھلکے،یا کیکر کی کھال کے ذرات اس سفوف میں موٹے ہونگے تو یہ دانتوں کے گھسانے کا سبب بن جاتاہے۔

٭    بعض لوگ دانتوں پر نمک اور کڑواتیل ملتے ہو”ے دیکھے جاتے ہیں۔

٭    بعض لوگ دنداسہ اور مسی سے دانتوں کی صفاأی کرتے ہو”ے پاأے جاتے ہیں۔

٭    میرے پاس ایک نوجوان لڑکی اۤءی جس نے سویپ سے ( جو تیزاب ہوتا ہے) اپنے دانتوں کو صاف کر کے منہ اور دانتوں کی سطح کو تباہکیا ہوا تھا ۔

 

حاصل کلام:

اس تمام بحث کا مقصد یہ ہے۔ کہ اۤج جب کہ دانتوں اور منہ کی صفاأی کے لیے اتنے معتبر ذراأع موجود ہیں۔ جنکے لیے اتنا زیادہ تحقیقی لٹریچر موجودہے۔ ان سب کو چھوڑ کرایسے طریقوں کا استعمال انتہاأی بے و قوفی اورجہالت ہے۔ ہاں بعض ایسی چیزیں جو گھروں میں موجود ہوتی ہےں۔ ان میں اگر نمک اور میٹھا سوڈا برابر مقدار میں لے کر برش کے ساتھ صفاأی کریں۔ تو یہ تحقیقی لٹریچر کے مطابق محفوظ اور فاأدہ مند بھی ہے۔