اہم سوال ؟
عموماً لوگ سوال کرتے ہیں۔ کہ دانتوں کی صفاأی کے لئے مسواک بہترہے۔ یا ٹوتھ برش ۔
برش اور مسواک کا بنیادی مقصد:
اسکا جواب برش ہو یا مسواک بنیادی مقصد دانتوں کی صفاأی اور منہ کی پاگی ہے
مسواک اور برش کے غلط استعمال سے فاأدہ کے بجاأے نقصان:
اگر مسواک صحیح طریقے سے نہ کی جاأے یا ایک ہی مسواک بہت سے لوگ کر رہے ہوں(جیسا مساجد میں دیکھنے میں آیا ہے)یا مسواک کی صفاأی کا صحیح طریقہ نہ پتہ ہو تو یقینا یہ فاأدے کی بجاأے نقصان کا باعث ہوتی ہے۔اسی طرح اگر برش صاف رکھنے یا برش کرنے کا صحیح طریقہ نہ پتہ ہو یا اتنا لمبا عرصہ استعمال کیا جاأے کہ اس کے دندانے گھس جاأیں یا نرم پڑ جاأیں تو ایسی برشنگ فاأدے کی بجاأے نقصان عث ہوتی ہے۔
مسواک اگر سنت کے مطابق کی جاأے :
میرے نزدیک منہ کی پاکی کا یہ بنیادی مقصد جتنا اۤسانی سے مسواک کرتی ہے۔ ٹوتھ پیسٹ اور ٹوتھ برش نہیں کرتا۔ بشرطیکہ اگر مسواک نبی کریم ؐ کے بتاأے ہو”ے طریقہ کے مطابق کی جاأے ۔ کیونکہ اۤپ ؐ نے اتنے واضح طور پر مسواک کے ہر پہلو کو بیان کیا۔ کہ اۤج کی غیر اقوام ان مزامینکی حکمت پر انگشت بد نداں ہے۔ جب کہ غلامان مصطفےٰ ؐ کے ایمان میں زیادتی کا سبب ہیں۔
مسواک سے ہماراسلوک اورغیرمسلموں کے اعتراضات:
غیروں سے گلا کیا کہ اپنے ہی عمل نے ۔ اسلام کو رسواسربازار کیا ہے۔
اۤج ہم نے صرف مسواک کو سامنے رکھ لیا۔ لیکن اسکے لوازمات سنت کے مطابق سیکھنے کی کوشش نہ کی۔ یہی وجہ ہے کہ انگریز پروفیسر نے جنرل سروے کے بعد تبصرہ کیا۔ کہ مسلمان قوم بہت جاہل اور گندی قوم ہے۔
کہ چند مسواک مسجد میں پڑی ہیں۔ اور ہر کو”ی اُٹھاکر ایک دوسرے کی مسواک کر رہا ہے۔ جس کے نتیجے میں بے شمار متعدی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ ایک تو دوسرے کی استعمال شدہ مسواک استعمال کرنے سے کراہت نہ کرنا ۔ گندی فطرت کی نماأندگی کرتا ہے۔ دوسرا متعدی بیماریوں کے لگنے کے امکانات سے بے خبر ہونا جاہلیت کی دلیل ہے۔ اگرچہ اُس پروفیسر صاحب کو بتایا گیا کہ جو کام بھی مسلمان کریں اُسے اۤپ اسلام کا نام نہیں دے سکتے۔ صحیح طریقہ سنت کا اگر سمجھا جاأے ۔ تو تم پر حقیقت بخوبی اۤشکار ہو جاأے گی ۔ کہ جن نتاأج پر تم اۤج پہنچے ہوں ہمارے پیغمبر برحق ؐ نے پندرہ سو سال پہلے امت کو تعلیم فرما دئیے تھے۔
جدید ساأنس کی تحقیق حضورؐ کی تعلیمات کی تصدیق ایک جاأز ہ :
i۔ برش کا ساأز :
مثلاً اۤج کی ساأنس کہتی ہے۔ کہ برش مریض کے منہ کے مطابق ہونا چاہئے۔ جبکہ رسولؐ نے فرمایا کہ مسواک انگھوٹے سے موٹی اور چھنگلی سے باریک نہ ہو۔ ظاہر ہے ہر اۤدمی کی جسامت کے مطابق اسکے انگھوٹے اور جھنگلی کا ساأز ہو گا۔ جو بڑی اۤسانی سے منہ میں کام کر سکتا ہے۔
ii۔ برش پکڑنے جدید ساأس کا ایک متنازعہ مسئلہ اور سنت مصطفےٰ کی فصیلت ایک ایمان افروز تحقیق:
جدید ساأنس برش پکڑنے کا طریقہ پام گر پ یعنی ہتھیلی میں پوری طرح پکڑ کرپین گرپ جسطرح پین پکڑی جاتی ہے۔ بتایا
جبکہ نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ مسواک کو دھوکر داأیں ہاتھ میں اسطرح پکڑو کہ بیچ کی تین انگلیاںاوپر او ر چھنگلی نیچے اور انگھوٹھا منہ کے سامنے اۤجاأے ۔
تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ جدید طریقہ برش پکڑنے کا دانت گھسانے کی قوت۔ کہ کو کنٹرول نہیں رکھ سکتا اور زیادہ چلانے سے دانتوں کی گھساأی جیسے Tooth Brush abrasionکہتے ہیں شروع ہوجاتی ہے۔
جبکہ سنت مصطفےٰ ؐ کے مطابق چھنگلی کی پچھلی ساأیڈ مسواک پر زیادہ دباأوڈالنے سے درد کرے گی۔ اوردانت صاف کرنے والادباأو کم کرنے پر مجبور ہو جاأے گا۔ اسطرح مسواک سے اُسکے دانت گھسنے سے محفوظ رہیں گے۔
iii برش کرنے کا طریقہ:
ماڈرن ساأنس کہتی ہے برش عمودی یا افقی کرو۔ اور بڑے زوروشور سے سمجھاتی ہے کہ برش ہمیشہ مسوڑھوں سے 45ڈگری کا زاویہ بنا کرنیچے کی طرف کریں۔
جبکہ سرکار مدنیہ ؐ نے پندرہ سو سال پہلے فرمایا۔ کہ مسواک اوپر نیچے کریں۔
iv۔ برش کیسا ہو ۔
جدید ساأن اب کہتی ہے۔ کہ برش سخت بالوںوالا سب سے مئوثر رہتا ہے۔ جبکہ درمیانہ اورنرم بیمار مسوڑھوں کے لئے۔
جبکہ حضورؐ کی تعلیم کے مطابق مسواک کے ریشے سخت اور باریک ہوں
v۔ برش کرکے کیسے کھڑا کرے :
جدید تحقیق کے مطابق برش کر کے دھو”یں اور کھڑا رکھیں۔
جبکہ سنت کے مطابق مسواک کو دھو کر کھڑا کر کے رکھنا پہلے سے حکم ہے۔ اور ہر استعمال پر پرانے ریشے کاٹ کر نئے سامنے لانے کاحکم ہے۔ گویا ہر دفعہ اُسی مسواک سے نئے برش کا متبادل مل رہا ہے۔
vi۔ لچکدار برش کی فوقیت:
اۤجکل لچکداربرش کومیڈیکل ساأنس فوقیت دیتی ہے۔ جبکہ پندرہ سو سال پہلے سرکار مدنیہ ؐ نے گرہ وار مسواک چونکہ اسکے اندر لچک نہیں ہوتی لینے سے منع فرمایا۔ بلکہ سیدھی مسواک (جس میں لچک ہوتی ہے) کے استعمال کرنے کا تعلیم مرحمت فرماأی ۔
حاصل کلام
الغرض حضورؐ نےجیسے مسواک کرنے کا حکم دیا ساأنس اسکی حکمت پر سر تسلیم خم ہے۔ اور مسواک کے بارے میں جن چیزوں سے منع کیا اُس پر بھی قبولیت کی مہر ثبت کرتی ہے۔
اور ان سبکو اۤج کی ساأنس ایک قانون سمجھتے ہیں۔
پیلو کے بارے انگریزوں کے لقب پر اعتراض:
المختصران ساری فضیلتوں کے بعد مسواک اکیلے وہ کام کرتی ہے جو کہ ٹوتھ برش کو وہ کرنے کے لئے ٹوتھ پیسٹ ساتھ خریدنا پڑتا ہے۔
اۤج انگریز بھی پیلو کی مسواک کے درخت کو ٹوتھ برش کا درخت Tooth Brush Treeکہتے ہیں۔جو میرے نزدیک غلط ہے۔ بلکہ اسکا نام Toothbrush com Pastreہونا چاہیے۔
ساأنسی نقطہ نظر سے مسواک کی فضیلت :
مندرجہ بالا سطور سے یہ بات اچھی طرح واضح ہو گئی ہو گی کہ مسواک ہر لحاظ سے بہتر ہے۔ بشرطیکہ ساتھ دی گئی شراأط کے مطابق کی جاأے۔ اورجتنی تازہ مسواک ہوتو اسکے فواأد اتنے ہی زیادہ ہیں۔
کیونکہ
٭ یہ نہ صرف خود جراثیم سے پاک ہوتی ہے۔ بلکہ جراثیم کُش بھی ہوتی ہے۔
٭ یہ نہ صرف ٹوتھ برش بلکہ ٹوتھ پیسٹ اورمنجن کا کام بھی دیتی ہے۔
٭ اس سے اۤکسیجن پیدا ہوتی ہے۔ جو کہ اۤکساأیڈاأزئھین کے عمل سے منہ کی بد بو کاخاتمہ کر دیتی ہے۔
٭ سنت کے مطابق استعمال سے دانت نہیں گھستے
٭ مسواک سے دانتوں کی صفاأی کے ساتھ زبان کی صفاأی کر لینے سے منہ کو ایک مہک نصیب ہو جاتی ہے۔
اسکا ملنا اۤسان اس کی قیمت انتہاأی کم
قوم مسلم کے نزدیک اسکی فضیلت کی سب سے اہم وجہ :
اگرچہ جدید ساأنس مسواک کی برتری تسلیم کرتی ہے۔ لیکن مسلمانوں کے نزدیک اسلئے زیادہ ہے کہ یہ سنت مصطفےٰؐ اور اس اسکا کرنا باعث ثواب ہے یہی وجہ ہے برش کرتے وقت کو”ی نیت نہیں کرتا جبکہ مسواک کرتے وقت نیت کو تعلیم فرماأی گئی ہے۔مسواک کرتے وقت یہ نیت کرنی چاہیے کہ میں اپنے منہ کو قراۤن پڑھنے کے لئے یا نماز میں خدا کا ذکر کرنے کے لئے پاک کرتا ہوں۔اور یہ دعا کرنی چاہیے ۔
اَلَّلھُمَّ بَیِِضّ ْاَسْنَانِیْ وَشَدَّبِہ لِثَانَیْ وَثَبّتْ بِہ لَھَاتِی وَبَارِکْ لِیْ فَیْہ یَاَ اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ۔
جس سے ایک مسلمان نہ صرف صحت کے حصول پر مطمن ہوتا ہے۔ بلکہ سنت کی اداأیگی کے ثواب پر بھی خوش ہوتا ہے۔اسی طرح ارشاد ہے کہ بہترین خوراک وہ ہے۔ جو گلاب کے پانی میںتر کر کے کی جاأے ۔ اۤج ساأنس ثابت کرچکی ہے۔ کہ عرق گلاب انتہاأی واضع سوزش ہے۔ اور اتنا بے ضرر ہے کہ اۤنکھوں میں ڈالنے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اسکے ساتھ مسواک کے استعمال سے مسوڑھوں کو کافی فاأدہ پہنچاتاہے۔
حاصل کلام :
بہر حال برش ہو یا مسواک اصل مقصد دانتوں کی صفاأی ہے جس طرح پہلے دور میں جہاد تلواروں کے ذریعے کی ہوتا تھا۔اسی طرح وقت کا تعین سورج دیکھ کر کیا جاتا تھا اب جہاد کے لیے جدید اسلحہ اور وقت کے لیے گھڑی استعمال ہوتی ہے تو اصل مقصد جہاد فی سبیل اﷲ اور وقت پر نماز کی ادئیگی ہے جو بہتر طریقے سے حاصل ہو جاتا ہے اسی طرح سے مسواک اور ٹوتھ برش دانتوں اور منہ کی صفاأی کا ذریعہ ہیںلہٰذہ ان باتوں میں الجھنے کی بجاأے صحیح صفاأی کے طریقہ کا علم حاصل کرنا چاہیے۔
صفاأی کا صحیح طریقہ:
ہمارا تو یہی مشورہ ہے کہ ہر وضو میں مسواک کریں اور سوتے وقت برشنگ کر لی جاأے تو سنت مصطفی بھی ادا ہو جاأے اور ساأنس کی جدید ٹیکنالوجی سے بھی فاأدہ اٹھا لیا جاأے۔
اسی طرح منہ کی مکمل صفاأی کے لئے صرف ٹوتھ برش اورمسواک تک محدود نہ رہنا چاہیے بلکہ حضورؐ نے امت کو نہ صرف مسواک بلکہ خلال کی تعلیم فرماأی۔ارشاد فرمایا
من اکل فلیتخلل ( سننن الدارمی)
یعنی جو شخص کھانا کھا چکھے ۔ اُسے چاہیے کہ خلال کر ے اۤجکل کے ماڈرن معاشرے میں ہوٹل ہو یا گھر تمام جگہوں میں کھانے کے بعد لکٹر ی کے خلال پیش کئے جاتے ہیں۔ یہ سب اۤقا مولا ؐ کا دیا ہو ا عظیم طریقہ ہے۔ کیونکہ کھانے کے بعد جو غذاأی اجزاأ دانتوں اور مسوڑھوں کے درمیان پھنس جاتے ہیں اگر ان کو خلال کے ذریعے نہ نکالا جاأے۔ تو یہ جر ا ثیموں کی اۤماجگاہ بن کر مسوڑھو ں کی سوزش اور دباأو دے کر ہڈی گلانے ، ماسخورہ معدے کے السر اور تیزابیت کا سبب بنتے ہیں۔ بعض علماأ نے حدیث کے حوالے سے یہ بات بھی نقل کی ہے۔ کہ جو غذا کا زرہ بغیر خلال کے دانتو ں سے نکلے اسے نگل یا کھا سکتے ہیں۔ اور جو غذا کا ذرہ بذریعہ خلال نکلے اسے پھینک دیں۔ اور جب اۤج کے درو میں ان دونوں قسم کے ذرات کا تجزیہ کیا گیا ۔ اور خلا ل کے ساتھ نکلے ہو”ے ذروں کو جرا ثیموں سے اۤلودہ پایا گیا۔ اسی طرح یہ بات مسلمہ ہے کہ ایسے افراد جن کی لاپرواہی کی وجہ سے دانتوں کے درمیان پاکٹس یعنی خلا بن گئے ہوںان کے لیے صرف مسواک یا برش فاأدہ مند ثابت نہیں ہوتا ہے اور ان خلاأوں میں گھسی ہو”ی خواراک کو صاف کرنے کے لیے فلاسنگ کا طرقہ سیکھنا چاہیے۔ایسے مریضوں کو ایسی دواأوں سے کلیاں بھی لازماً کرنی چاہیں جس سے پھنسے ہو”ے ذرات باہر نکل آئیں۔ اسی طرح ڈاکٹرز مریضوں کو مسوڑھوں کی مخصوص ورزشیں بھی تجویز کرتے ہیں تاکہ یہ پاکٹس ختم ہو جاأیں اور فلاسنگ کے میں اۤسانی ہو ۔
اسی طرح کلی کرنا جسے اۤج کی ساأنس ماأو تھ واش کا نام دیتی ہے۔ کرنے سے قبل مسواک کا حکم دیا گیا ۔ اور ہر نماز کے ساتھ ساتھ ہر کھانے بعد کلی کرنا اۤقا و مولا کی سنت ٹھہری اور اۤج ساأنس نے اس بات کا اعتراف کیا کہ گلے میں بار بار پانی پہنچانا گلے کے کینسر سے بچاتا ہے۔
تاجدار حکمت ؐ کی ذات پاک کی تعلیم کامیڈیا اور سر چشمہ اللہ کی ذات ہے۔ اۤپکی حیات طیبہ کے وہ اصول جو گو نا گول فواأد کے ساتھ منظر عام پر اۤرہے ہیں۔ ایسے میں ہماری نگاأیں اُس عظیم ہستی کے سامنے کیوں نہ جھکیں ہم کیوں نہ تسلیم کریں کہ سرکار کا ہر فرمان حق اور درست ہے۔