دانت کی بیرونی سطح(Enamal)کی بیماریاں
دانت کی سطح پر کالا نشان
عرف عام دانتوں میں کیڑا لگنا (Caries)
دانتوں پرکیڑالگنے کی حقیقت
یہ دانتوں کی سب سے زیادہ پاأی جانے والی بیماری ہے۔ اورعرف عام میں اُسے کیڑا لگنا کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ کئی عطاأی لوگ اس دانت پر دو ا لگا کر کیڑا بھی نکالتے ہیں۔ جسکا ذکر میں نے عطاأیت کے باب میں کیا ہے۔ جسکی کو”ی حقیقت نہیںہوتی ۔
بہرحال چونکہ عام لوگ یہی لفظ بولتے ہیں۔ اس لئے عوام الناس کو سمجھانے کے لئے یہی عرف عام اصطلاح استعمالکی جا رہی ہے۔
علامات:
عموماًسامنے دانتوں کی سطح پر کالا نشان نظر اۤتا ہے۔ یا دو دانتوں کے درمیان ہونے کی وجہ سے یہ نشان سامنے نظر نہیں اۤتا۔
بعض دفعہ دانتوں کے اوپر کالے نشان سگریٹ یا پان وغیر ہ کے استعمال بھی ہوتے ہیں۔ لیکن ان نشانات کی وجہ سے دانت کی سطح کے اندر سوراخ نہیں ہوتا ۔ یہ نشانات عموماً الٹراسانک صفاأی وغیرہ سے صاف ہوجاتے ہیں۔
اسی طرح بعض کالے بھورے نشانات صفاأی سے نہیں ہٹتے ۔ بلکہ وہ کیڑا لگنے کی ابتدا ہوتے ہیں۔ لیکن قدرتی مدافعت کی وجہ سے رکے ہوتے ہیں۔ انہیں اصطلاح میں Arrested Cariesیعنی گرفتار نشان کہتے ہیں۔ جسے مریض کی قدرتی دفاع نے روکا ہوا ہوتا ہے۔ ایسا نشان صفاأی کا مکمل خیال رکھنے سے اۤگے نہیں بڑھتا ۔ بعض اناڑی ڈاکٹرز ان نشانات کی بھی بھراأی کردیتے ہیں۔ جو ایک غلط روش ہے۔صرف انہی نشانات کی بھراأی کی جاتی ہے۔جو دانت کی سطح کو کھا کر اندر پھیل رہا ہو ۔
دانت کے اوپر جگہ کے مطابقکالے نشان کو مختلف (classes)کلاسزمیں تقسیم کیا جاتا ہے
کلاس (class1)

کلاس (class2)

کلاس (class3)

کلاس (class4)
کلاس (class5)
کالے نشان کی اصل وجہ :
جیسا کہ ہم نے پہلے لکھا کہ دانت کیلشیم اور فاسفورس کے مضبوط ترین مرکب سے بنا ہوتا ہے اوریہ بات بھی یادرکھنی چاہیےکہ کیلشیم تیزاب میں حل ہو جاتاہے۔ جی ہاں ! جب اۤپ رات کھانا کھا کر برشنگ کئے بغیر سو جاأیں تو اۤپ نے محسوس کیا ہو گا کہ اۤپ کے منہ کا ذاأقہ کھٹا سا ہے۔ یہی وہ تیزابی مادے ہیں جو اۤپ کے منہ میں قدرتی طور پر موجود انزاأمز نے غذا پر عمل کر کے پیدا کیئے ہےں۔ اور یہی مادے ، دانت کے کیلشیم کو جذب کر کے کالا نشان بنا دیتے ہیں۔
کالے نشان کے بڑھنے کا عمل :
دانت پر ایک دفعہ جب کالا نشان بن جاأے تو جب تک اُسے صاف نہ کر ا یا جاأے تو یہ بڑھتاہی چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ دانت بالکل کھوکھلا ہو جاتاہے اور اچانک کھانا کھاتے وقت ٹوٹ جاتا ہے۔
ذیل میں تصاویر کے ذریعے اس کالے نشان کے دانت کی اندرونی سطح کی طرف بڑھنے کا عمل ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔
مریض سمجھتا ہے کہ دانت سخت خوراک کھانے سے ٹوٹاہے۔ حالانکہ یہ پہلے ہی اندر سے کھوکھلا ہو چکا ہوتاہے۔
سامنے والے اورپچھلے دانتوں پر لگے نشانات کے بارے میں مریض کے رویہ میں فرق:
پچھلے دانتوں پر نشانات کی عموماً لوگ پرواہ نہیں کرتے ۔جب تک کہ اس میں درد نہ شروع ہو جاأے جبکہ سامنے کے دانتوں پر کالا نشان شخصیت کے وقارکو متاثر کرتاہے۔ اس لیے اکژ لوگ علاج کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں
علاج :
٭ دانت پر کالا نشان لگتے ہی توجہ دیں ۔ اس stageپر کالا نشان ختم کر کے خرابی دور کر دی جاتی ہے۔
٭ سامنے کے دانتوں میں ان کی رنگت کے مطابق (Light Cure Filling)سے بھراأی کرواأیں۔ اسطرح سے یہ احساس تک نہ ہو گا کہ یہاںکبھی نشان تھا ۔
٭ کچھ وقت پہلے تک پچھلے دانتوں میں چاندی کی بھراأی کی جاتی تھی۔ جو اب تقریباً متروک ہو رہی ہے۔ کیونکہ انکی جگہ ایسے مٹیریلز اۤچکے ہیں۔ جو دانت کی رنگت کے ساتھ ساتھ چاندی سے زیادہ مضبوطی رکھتے ہیں۔
علاج میں ناکامی کی وجوہات:
۔ پالشنگ نہ کروانا:
عموماً لو گ بھراأی( filling)کروا کر پالشنگ نہیں کرواتے پالشنگ میں بھراأی اور دانت کی سطح کو یکجا کر دیا جاتاہے۔ اور خوراک کے باریک ذرات کے دانت کی سطح کے ساتھ چپکنے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں پالشنگ نہ کروانے کے صورت میں خوراک کے باریک ذرات دوبارہ دانت کی سطح سے چپکے رہتے ہیںاور تیزابی مادے بناکر (Filling) بھراأی اور دانت کے سطح کو دوبارہ برباد کر دیتے ہیں۔

۔ بھراأی سے پہلے کالا نشان مکمل صاف نہ کرنا :
٭ اگر کالا نشان بن جاأے تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کر کے بھراأی( Filling)کرواأی جاأے۔ کالا نشان ابتداأ میں تکلیف نہیں دیتا اس لیے اکثرلوگ اس کی پرواہ نہیں کرتے سامنے کے دانتوں پر کالا نشان شخصیت کے وقار کو مجروح کرتا ہے۔
٭ بعض معالج دانتوں کی بھراأی کرتے وقت کالا نشان اندر چھوڑ دیتے ہیں۔ نتیجتاً وہ نشان اندر بڑھتا رہتا ہے اور بھراأی( Filling)کی ناکامی کا باعث بنتا ہے۔
۔ کالے نشان کا بہت گہر ا چلے جانا :
ایک دفعہ کالا نشان بن جاأے اور اسکو صاف نہ کروایا جاأے تو یہ بڑھتا جاتا ہے۔جس سے دانتوں کی مزید تکلیف کا سامنا کرنا پڑتاہے۔
بعض دفعہ کالا نشان کسی طرف سے بہت گہرا ہو جاتا ہے۔جو خون کی نالیوں کے بہت قریب تک پہنچ جاتا ہے۔ جسکی وجہ سے بھراأی کے ساتھ ہی مریض کو دانت میں درد شروع ہو جاتا ہے۔اسلئے ایسے دانت کا پہلے ایکسرے کے ذریعے نشان کی گہراأی کی تسلی کر لی جاتی ہے۔

بھراأی کی زندگی (Filling Life):
ہر دانت میں بھراأی کی ایک خاص زندگی ہوتی ہے۔ جسکا انحصار دانت پر لگنے والے کالے نشان کی قسم پر ہوتا ہے۔
٭ کلاس) (iکیڑا لگے دانتوں میں چونکہ دانت چاروں طرف سے مضبوط ہوتا ہے۔ اس لیے بھراأی زیادہ عرصہ چلتی ہے۔
٭ اسی طرح بعض دانتوں پر مخالف دانت کا دباأو نہ ہو تو بھی بھراأی لمبا عرصہ نکال جاتی ہے۔
٭ کلاس (ii)قسم کے کیڑا لگے دانتوں میں بھراأی کی کامیابی کا انحصار بھرے جانے والے میٹریل کے علاوہ ڈاکٹر کے تجربہ اور اۤرٹ پر ہوتا ہے۔
عموماً مریض مثال دیتے ہیں۔ کہ فلانے دانت کی بھراأی بہت عرصہ چلی اور اس دانت کی جلدی نکل گئی ۔ تو یہ سارے عوامل مریض کی نظر میں ہونے چاہیں۔
بیماری سے بچنے کے لئے احتیاطی تدابیر:
دانتوں کی صفاأی :
ہر شخص کو چاہئے کے رات کو برشنگ کر کے سو”ے تاکہ غذا کا کو”ی ذرہ منہ میں رہ کر تیزاب بنانے کا سبب نہ بن سکے ۔

فلوراأیڈز :
دانتوں کی باہر کی سطح ) (Enamalانیمل کومضبوط بنانے کیلئے (Flouride)فلوراأیڈکا کردار کسی تعارف کامحتاج نہیں۔ جتنی باہر کی سطح مضبوط ہو گی۔ اتنا ہی کیڑا لگنے کے امکانات کم سے کم ہوں گے۔ اسی لیے ہر اچھے ٹوتھ پیسٹ میں فلوراأےڈ کی موجودگی کو یقینی بنایا جا تا ہے اۤجکل جدید الیکٹرک مشینوں سے دانتوں کی سطح پر(Flouride)فلوراأیڈکو جذب کرانے کے نئے طریقے متعارف ہو چکے ہیں۔جسکی وجہ سے دانتوں کی کمزور سطح کو مضبوط بنایا جاتا ہے۔

پٹ اینڈ فش سیلنٹ (خصوصاً بچوں کے لئے ) :
بچے چونکہ دانتوں کی صفاأی صحیح طریقے سے نہیں کر سکتے ۔ اس لئے Pit & Fissure ٹیکنالوجی کے ذریعے بچوں کے دانتوں کے قدرتی گڑھے اور لکیروںکو جن میں چاکلیٹ بسکٹ وغیرہ کے ذرات چپک کر کیٹرالگنے کا سبب بنتے ہیں۔ ان کو مکمل سیل کر دیا جاتاہے۔اس سے دانت کافی حد تک محفوظ ہو جاتے ہیں۔
غذا میں احتیاط :
دانتوں کے ساتھ چپکنے والی غذاأوں سے احتیاط برتنی چاہئے۔
دانتوں کا گھسنا
اقسام :
1۔ ایروژن۔Erosion:
کسی کیمیاأی عمل سے دانتوں کے باہر کی سطح کے گلنے کو ایروژن کہتے ہیں۔

2۔ ایبریژن۔Abrasion
کسی خارجی رگڑ سے دانت کے انیمل کے ضاأع ہونے کو ابریژ ن کہتے ہیں۔

3۔ ایٹریشن ۔Attrition
جب بہت سے دانت نکال دیئے جاأےں اور باقیوں کو معمول سے زیادہ کام کرنا پڑے تو دانتوں کی وہ سطح جو چبانے یا کاٹنے میں استعمال ہوتی ہے۔زیادہ گھسنا شروع ہو جاتی ہے ان کی اس گھساأی کو (attrition)ایٹریشن کہتے ہےں۔

ایروژن کی وجوہات:
i۔ دواأوں کی وجہ سے :
بعض دواأیں ایسی ہوتی ہیں ۔ جو کہ دانت کی سطح کو کمزورکر دیتی ہےں۔ اور نتیجہ دانت جلد گھستا ہے۔
ii۔ کاربونیٹڈ بوتلوں اور الکحل کے بعد فوراً برشنگ:
بعض لوگ جنہیں شراب نوشی کی عادت ہوتی ہے۔یا بہت زیادہ کاربونیٹڈ بوتلیں پیتے ہیں۔اور انکے فوراً بعد برش کرتے ہیں۔ تو ایروین کی وجہ سے دانت گھسنا شروع ہو جاتے ہیں۔

حاملہ عورتوں میں الٹیوں کی وجہ سے :
دوران حمل جن عورتوں کو اُلٹیاںزیادہ اۤتی ہیں۔ اُن میں الٹیوں کی تیزابیت کی وجہ سے دانت گھسنا شروع ہو جاتے ہیں۔

ایبریژن کی وجوہات:
۔ مختلف اوزاروں کا دانتوں سے پکڑنا:
کئی لوگ کسی خاص اوزار کو دانتوں سے پکڑتے رہتے ہیں۔ نتیجتاً اس جگہ سے دانت گھس جاتا ہے۔جیسے درزی سو”ی کو سامنے کے دانتوں سے پکڑتے ہیں۔ تو عموماً اس جگہ سے دانت گھسا نظر اۤتا ہے ۔

۔ غلط ٹوتھ برش کرنے کا طریقہ یا غلط ٹوتھ پیسٹ کا انتحاب:
بعض لوگوں میں غلط برشنگ یا غلط ٹوتھ پیسٹ( Tooth Paste)کا انتخاب ان میں دانت گھسانے کا باعث بنتا ہے۔

۔ مصنوعی دانتوں کی تاروں کی وجہ سے :
اُتارنے چڑھانے والے مصنوعی دانت جن میں تاریں لگی ہوتی ہے۔انکی تاروں کی رگڑ سے دانت ابریژن کا شکارہو کر گھسے ہو”ے دکھاأی دیتے ہیں۔

ایٹریشن کی وجوہات:
۔ بعض دانت نہ ہونے کی وجہ سے دوسروں دانتوں پر بوجھ :
پیچھے دانتوں کے نہ ہونے کی وجہ سے بعض لوگوں میں اگلے دانتوں پر زیادہ بوجھ پڑتا ہے۔ اور اگلے دانت گھسنا شروع ہو جاتے ہیں۔

۔ ٹیڑھے دانت :
نارمل طور پر اوپرکے دانت اور نیچے کے دانتوں میں تھوڑا خلا رہتاہے جسے(free way space)فری وے سپیس کہا جاتا ہے دانت عموماً کھانے یا نگلنے کے وقت اۤپس میں ٹچ کرتے ہیںکیونکہ دانتوں کے ملنے کی وجہ سے جبڑوں کے پٹھے تناأو میں ٌآ جاتے ہیںاور دانتوں میںرگڑاأو کاعمل شروع ہو کر خوراک کو باریکذروں میں تبدیل کرنے کے کام اۤتا ہے۔ بغیرخوراک چبانے کے دانتوں میں رگڑاأو کا عمل یقیناُ نقصان دہ ہوتا ہے جیسا کہ ٹیڑھے دانت ہونے کی وجہ سے بعض افراد میں رات سوتے وقت دانت اۤپس میں( Touch)ٹچ کرتے ہیں۔ اور نتیجتاً مریض دانتوں کو اۤپس میں رگڑنا شروع کر دیتا ہے۔ اور اس غیر معمولی دباأو کی وجہ سے دانت گھسنا شروع ہو جاتے ہیں۔

۔ دیگر بیماریوں کی وجہ سے :
بچوں اور بعض بڑوں میں پیٹ کے کیڑوں کی وجہ سے رات کو دانت گھسانے کا عمل جاری رہتا ہے۔
۔ نفسیاتی وجہ :
بعض مریضوں میں نفسیاتی وجوہات کی بناأ پربھی دانت پیسنے کا مسئلہ درپیش رہتا ہے۔( تفصیل کے لئے باب اورل میڈیسن میں ”دانت کا پیسنا ” مطالعہ فرماأیے)

علاج:
1۔ کراأو”نگ:
جو دانت بہت زیادہ گھس جاأےں۔ اُن پر (Crown) کراأون چڑھوالیں ۔
2۔ بھراأی :
سامنے کے گھسے ہو”ے دانتوں میں دانتوں کے رنگ کے مطابق لاأٹ کیور میٹریل( Light Cure)سے بھراأی کروالیں۔

3۔ فلوراأیڈ :
دانتوں کی سطح کو مضبوط کرنے کے لئے فلوراأیڈسے علاج (Flouride Therapy) کرواأیں۔

4۔ وجوہات کا تدارک :
دوسرا متعلقہ وجوہات کی صورت میں اُن کا علاج کرواأیں۔
علاج میں ناکامی کی وجوہات:
1۔ پالشنگ نہ کروانا :
ہر علاج کے بعد دانتوں کی پالشنگ لازمی کراأی جاأے۔ پالشنگ نہ ہونے کی صورت میں کچھ ہی عرصے بعد کیاگیا علاج ناکام ہو جاتا ہے۔
2۔ نکلے ہو”ے دانت نہ لگوانا :
اگر پچھلے دانت موجود نہیں ہیں تو مصنوعی دانت لگواأیں۔ تاکہ گھسنے والے دانتوں پر کم بوجھ پڑے۔
3۔ دیگر وجوہات کو دورنہ کرنا:
اسی طرح جب تک دانت گھسنے کی بنیادی وجہ کا علاج نہ کیا جاأے ۔ تو علاج عموماً نا کام ہو جاتاہے۔ مثلاً پیٹ کے کیڑوں کی صورت میں اسکا علاج ، ٹیڑھے دانتوں کی صورت میں اُس کا علاج ، غلط برشنگ اور غلط پیسٹ pasteکے انتخاب کی اصلاحعموماًان عوامل کو نظر انداز کرنے سے علاج نا کام ہو جاتاہے۔
علاج نہ کروانے کے نقصانات:
1۔ ٹھنڈا گرم لگنا :
دانت گھس جانے کی صورت میں دانتوں میں ٹھنڈا گرم کا احساس شروع ہو جاتاہے۔

2۔ ٹوٹنے کے امکانات :
دانت کمزور ہو کے ان کے ٹوٹنے کے امکانات زیادہ ہو جاتے ہیں۔
3۔ دانتوں کے درمیان قدرتی فاصلہ کم ہونے کے نقصانات:
دانت گھسنے سے اوپر اور نیچے جبڑے کے قدرتی فاصلے میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ نتیجتاً کنپٹی کے پاس جوڑ میں درد شروع ہو سکتا ہے۔ اسی طریقے سے گردن کے پٹھوں کا کھچاأو ۔ نظر کی کمزوری ،کانوں میں ساأیں ساأیں اور بھاری پن علاج سے لا پرواأی کا نتیجہ ہو سکتی ہےں۔
احتیاطی تدابیر :
1۔ فوری طور پر ڈاکٹر سے رجو ع کر ےں اوراصل سبب کو دور کریں تاکہ گھسے ہو”ے دانتوںکودوبارہ قدرتی شکل دی جا سکے۔
2۔ برشنگ کرنے اور پیسٹ کا صحیح انتخاب کا طریقہ اپنے ڈاکٹر سے سیکھیں۔

دانتوں کی بیرونی سطح میں Cracks یا دانت کی سطح کا ٹوٹ جانا
دانت ٹوٹ جانے کی کیفیات :
انیمل جسم میں سب سے زیادہ سخت چیز ہے۔ لیکن اگر اسکو چوٹ لگے تو اس میں لچک کی کو”ی گنجاأش نہیں ہوتی اور یہ ٹوٹ جاتاہے۔

معمولی ٹوٹنے سے :
بعض دفعہ اگرتھوڑا حصہ ٹوٹے تو کو”ی خاص درد نہیں ہوتا۔
زیادہ ٹوٹنے سے :
اگر دانت کا ٹوٹا ہوا حصہ ذرا زیادہ ہوجاأے توا سے ٹھنڈا گرم لگنا شروع ہو جاتا ہے۔

زیاد سخت چوٹ لگنے سے :
بعض دفعہ زیادہ سخت چوٹ لگنے سے دانت کے اندر خون کی رگوں والا حصہ یعنی پلپ ننگی ہو جاتی ہے اورشدید درد ہوتا ہے۔اور مریضکسی چیز کو چبانہیں سکتا ۔ اور لا پرواہی سے بعض مریضوں میں چوٹ لگادانت کچھ عرصہ بعد اپنی رنگت تبدیل کر لیتا ہے۔ اور دوسرے دانتوں سے رنگ میں مختلف دکھاأی دیتا ہے۔

وجوہات :
1۔ دانتوں کی سطح کا کمزور ہونا۔
2۔ بہت سخت چیزوں کا دانتوں سے توڑنا۔
3۔ چوٹ لگنے سے دانت کے انیمل کا ٹوٹ جانا

4۔ بعض دانتوں پر کالا نشان لگا ہوتا ہے چونکہ کالا نشان باہر سے چھوٹا ہوتا ہے اس لئے اسکی پرواہ نہیں کی جاتی اور اسکے اندر بڑھنے سے دانت کھوکھلا ہو جاتا ہے۔ اس طرح عموماً سخت چیز کھانے سے ایسا دانت ٹوٹ جاتا ہے۔

تشخیص :
بعض دفعہ سامنے سے دانت نہیں ٹوٹا ہوتااور صرف کریک کے نشان ہونے سے تشخیص مشکل ہو جاتی ہے۔ بعض دفعہ کریک اندر پلپ تک گیا ہوتاہے۔اور مریض درد میں مبتلا ہوتا ہے۔ یہ معمولی کریک فابئر اۤپٹک کے ذریعے روشنی ڈال کر یا کیمرہ میں ویو بڑا کر کے دیکھا جا سکتا ہے۔
علاج:
۔ دانتوں کی سطح کی مضبوطی کیلئے (FluOride Therapy )فلوراڈاأزیشن کرواأیں۔
۔ دانت کی سطح ٹوٹنے کی صورت میں پن والی بھراأی (Pin Retained Filling)کرواأیں یاکراأون چڑھواأیں۔
اۤجکل (Build-ups)کمپوزٹ بلڈاپ کے ذریعے کبھی کسی حادثے میں یا بچوں کے گرنے پڑنے میں چوٹ لگنے پر سامنے کے دانت بیچ میں ٹوٹ جاأیںیابرا تاثردیں۔
ایسے میں Dentistڈینٹل سرجن اس دانت کے کلر کی فیلنگ لے کر اس دانت کو دوبارہ ویسا ہی بنا دیتے ہیں۔
اس بھراأی کو جو دانتوں کی ہم رنگ ہوتی ہے۔ Comositeکمپوزٹس کہتے ہیں۔
۔ درد کی صورت میں روٹ کینال علاج کرواأیں۔ (جسکی تفصیل متعلقہ باب میں درج ہے )
۔ اگردانت کا رنگ تبدیل ہو جاأے تو دوسرے دانتوں کے رنگ کے مطابق ساتھ کراأون بھی چڑھوالیں۔
علاج میں ناکامی کی وجوہات:
1۔ علاج کے بعد پالشنگ ضرور کرواأیں۔
2۔ ہر چھ ماہ کے بعد فلو راأیڈ تھراپی ضرور کراأیں۔
علاج نہ کروانے کے نقصانات:
کریکس(Cracks )اور ٹوٹنے کی وجہ سے دانت کی سطح کمزور ہو جاتی ہے۔ دانتوں میں ٹھنڈ اگرم لگ کر مزید پیچیدگیوں کا پیش خیمہ بن سکتاہے۔

احتیاطی تدابیر:
دانت قدرت نے غذا چبانے کے لئے دیئے ہیں۔ نہ کہ بادام ، اخروٹ توڑنے اور بوتل کھولنے کےلئے۔ لہٰذ ادانتوں سے غیر فطری کام نہ لیا جاأے اور ان کی حفاظت کا قیمتی اثاثہ کی طرح خیال رکھا جاأے۔
دانت کی درمیانی سطح کی بیماریاں
جب دانت کے باہر کی سطح خراب ہوجاأے تو درمیانی سطح جسے (Dentine)ڈینٹین کہتے ہیں۔ بہت جلد بیماری سے متاثر ہو جاتی ہے۔
مخصوص علامت:
1۔ چونکہ Dentineڈینٹین میں ٹھنڈا گرم کے احساس کو اندرونی سطح( جسے پلپ Pulpکہتے ہےں)میں لیجانے کے لئے چھوٹی چھوٹی نالیاں ہوتی ہےں۔ اسلئے دانتوں پر ٹھنڈا گرم لگنا شروع ہو جاتاہے۔
علاج:
۔ دواأیوں سے :
مختلف پیسٹ(Paste)اور دواأیوں سے ان نالیوں کو بند کر دیا جاتاہے۔
۔ لیزر کی شعاأوں سے
اۤجکل ڈینٹین کی ان نالیوں کو لیزر شعاأوں کے ذریعے بند کر کے حساسیت کا کامیابی سے علاج کیا جاتا ہے۔
۔ کچی اور پکی بھراأی :
اگر دانت میںکالانشان ( Caries)عرف عام میں کیڑا لگا ہو۔ تو اُس میں کچی بھراأی کر کے دیکھا جاتاہے۔ کہ ٹھنڈا گرم لگنا ختم ہو ا ہے یا نہیں ۔ اگر ٹھنڈا گرم لگنا بند ہوجاأے تو بعد میں پکی بھراأی کر کے اُس کو بند کر دیا جاتا ہے۔ جب ڈینٹین کا بہت سا حصہ تباہ ہو جاأے لیکن ابھی اندر خون کی نالیوں تک کیڑا نہ پہنچا ہو تو ڈاکٹرز کیلشیم وغیرہ کی دواأیاں رکھ کر اوپر سے بند کر دیتے ہیں۔ جسکی وجہ سے ٹرشری ڈینٹین بن کر اس کھاأے ہو”ے حصے کی دوبارہ کمی پوری کر دیتی ہے۔
علاج میں ناکامی کی وجوہات:
بعض لوگ کچی بھراأی سے اۤرام اۤنے کی صورت میں لا پرواہ ہو جاتے ہیں۔ نتیجتاً کچی بھراأی کچھ عرصہ بعدنکل کر دوبارہ تکلیف کا باعث بنتی ہے۔
علاج نہ کروانے کے نقصانات :
(Dentine)ڈینٹین میں ٹھنڈا گرم لگنے کا عمل دانت کی اندرونی سطح پلپ( Pulp)کوتباہ کر کے رکھ دیتا ہے ۔ نتیجتاً دانت شدید درد کا شکار ہو جاتاہے۔
اختیاطی تدابیر :
دانت کی باہر والی سطح انیمل کی حفاظت :
دانت کی باہر والی سطح ا نیملEnamalکی حفاظت کا خیال رکھا جاأے ۔ اور ابتداأی خرابی میں علاج پر توجہ دی جاأے۔اور کالا نشان لگنے، دانت گھسنے یا ٹوٹ جانے پر فوری علاج پر توجہ دیں۔
بھراأی کا علاج مکمل :
کیڑالگی ڈینٹین(Carious Dentine)کے علاج میں جو کچی بھراأی کی جاتی ہے۔ وقت مقررہ پر اۤکر اُس کوپکا کروالیا جاأے۔
برشنگ کا صحیح طریقہ :
ڈینٹین(Dentine)کی سطح چونکہ نرم ہوتی ہے۔ اس لئے غلط برشنگ کیوجہ سے بہت جلد گھس جاتی ہے۔ لہٰذا برشنگ کا صحیح طریقہ اپنے ڈاکٹر سے سیکھیں ۔
مستند ڈاکٹر سے معاأنہ :
ہر چھ ماہ بعد اپنے دانتوں کا معاأنہ ضرور کرواأیں۔
دانتوں پر سفید رنگ کے نشانات درمیانی سطح کے کھاأے جانے کی علامت:۔
دانتوں کی اس خرابی میں باہر کی سطح سلامت رہتی ہے۔ کیونکہ تیزاب اگر منہ میں پتلا پیدا ہو رہا ہو ۔ تو یہ اس سطح سے گزر کر اندر کی سطح کو گلا دیتا ہے۔ اسطرح باہر سطح پر سفید نشان بن جاتا ہے۔ اگرچہ سفید نشانات کی اور بھی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ جیسے کیلشیم کی کمی یا فلورسس کا ابتداأی درجہ
بہر حال ڈاکٹر اسکی تشخیص کر کے باہر کی سطح کو نقصان پہنچاأے بغیرانجکشن ٹیکنیک سے اندروالی سطح کی بھراأی کر دیتے اور یہ سفید نشان ٹھیک ہو جاتا ہے۔


































