(Cosmatic Dentistry )کاسمیٹک ڈ ینٹسٹیری جمالیاتی علاج برائے دندان
چہر ے کی دلکشی میں دانتوں کا مقام
دانتوں کا شخصیت کی دلکشی میں اہم مقام ہے۔ آپ حیران ہوں گے کہ قدرت نے ہر چہرے کے مطابق دانتوں کو شکل بخشی ہے۔ قدرت کی مصوری پر غور کرنے والا شخص جب کسی آدمی کے چہرے کو دیکھتا ہے۔ تو اسکے دانتوں کی تصویر خود بخود اسکے ذہن میں ا ٓجائیگی ہے

چہرے کی آؤٹ لائن اور دانت
اگر آپ کسی بھی شخص کے چہرے کی آؤٹ لائن بنا کر اسکو اُلٹا دیں تو یہ اسکے سامنے والے دانتوں کی آؤٹ لائن ہو گی۔

دانتوں کا رنگ
اسی طرح دانتوں کی ر نگت میں تبدیلی جیسے حبشیوں میں سفید تر دانت اور انگریزوں میں پیلے یہ سب قدرت کی رنگینوں کے حسین شاہکار ہیں۔
دونوں اطراف کے دانتوں میں توازن
اسی طرح ایک طرف کے دانتوں کی شکل و شباہت دوسرے طرف کے دانتوں کے مطابق ایک عظیم Symmetyتوازن کا اظہار ہے۔ اب اگر کوئی چیز بھی قدرت کے ان مقررکردہ خطوط سے ہٹی ہوئی ہو تو عجیب بد نمائی کا احساس ہوتاہے۔کیونکہ دانتوں کا توازن چہرے کے
توازن میں بڑا کردار ادا کرتا ہے۔
چہرے میں خوبصورتی کا معیار
اسلئے کاسمٹیک سرجنز نے چہرے کی خوبصورتی کے معیار مقرر کئے ہیں۔ اور وہ اسطرح
٭ چہرہ آنکھوں کی چوڑائی سے پانچ گنا زیادہ ہونا چاہیے۔
٭ اگر دونوں طرف کی آنکھوں کی پتلی سے ایک لائن منہ کے کناروں پر کھنچی جائے تو یہ دونوں لائنیں متوازی ہونا چاہیں۔

٭ اسی طرح سرکے بالوں سے ناک کے بانسے تک، وہاں سے اوپر والے ہونٹ اور وہاں سے ٹھوڑی تک فاصلہ برابر ہونا۔یہ حسن توازن اور خوبصورتی میں شمار کیا جاتا ہے۔ اسلئے کاسمیٹک ڈینٹسٹری میں دانتوں کا چہرے سے تناسب میں خوبصورتی کے لئے خصوصی معیار مقرر کیے گئے ہے۔ ذیل میں کھینچی گئی لکیر وں سے ان پہلوؤں کے بارے میں ایک
اجمالی خاکہ آپ کے ذہن میں واضح ہو گا۔
دانتوں کے غیر متوازن ہونے سے خوبصورتی پر اثرات
اگر مسکراتے وقت ایک طرف دانت زیادہ دکھائی دیں۔
یا دانتوں کے درمیانی لائن سائیڈ پر ہو۔
یا ایک طرف کے دانت دوسرے دانتوں سے شکل میں مختلف ہوں تو یہ چیزیں چہرے کے توازن پر اثر اندا ز ہوتی ہیں۔
کیونکہ قدرت نے چہرے کے ایک حصہ کو دوسرے کا آئینہ بنایا ہوتا ہے۔ ذیل میں چند غیر متوازن چہروں کی تصاویر سے
قارئین خود اندازہ لگا سکتے ہیں۔ ذیل میں پہلی تصویر کو دیکھیں
کہ کتنا غیر متوازن چہرہ ہے۔ اگر ان دونوں کو کاٹ کر ان کے مرِر ویو لگائیں۔ تو پھر چہرہ متوازن دکھائی دیتا ہے۔ ورنہ نہیں۔ اسی طرح دوسری تصویر میں میں ذرا سا ناک ٹیڑھا ہونے سے چہرہ کتنا غیر متوازن ہو گیاہے۔
تیسری تصویر میں ایک طرف کے دانت ذرا لائن سے ہٹنے سے چہرے کے متوازن ہونے پر کتنا اثر پڑا ہے۔
اسی طرح اگر ایک شخص کے دانت سفید ہونے کے بجائے غیر معمولی پیلے ہوں یا اسکے اندر بد نما نشانات ہوں تو موتیوں کی طرح جھلملاتے دانتوں کا تصور یکدم ختم ہو جاتا ہے۔

دانتوں کی بیماریوں کے علاج میں صحت کے ساتھ خوبصورتی کا عُنصر
یوں تو(Dentistry)ڈینٹسٹری کے ہر شعبہ علاج میں دانت کی خرابی کے علاج کے ساتھ خوبصورتی کے عنصر کا بھی خیال رکھا جاتاہے۔ جیسے۔ پہلے دانتوں میں چاندی کی (Filling)بھرائی کی جاتی تھی۔ لیکن جمالیاتی حس کی تسکین کے لئے اب چاندی کے بجائے دانت کے رنگ کی بھرائی مقبول ہو رہی ہے۔
اسی طرح مصنوعی دانت جہاں قدرتی دانتوں کے نعم البدل کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں۔ وہیں ان میں خوبصورتی کا عنصر اُجاگر کرنے کے لئے دانتوں کی جدید ترین اقسام ایجاد ہو چکی ہیں۔ کہ دیکھنے والا احساس ہی نہ کر سکے کہ مصنوعی دانت لگے ہیں۔
یہاں تک کہ آگے مصنوعی دانت ماڈل پر بنائے جاتے تھے۔ لیکن اب ساتھ تصاویر تک طلب کی جاتی ہیں۔ تاکہ خوبصورتی کے تمام عناصر کو مدنظر رکھا جا سکے۔ اور تصویر سے چہرے کی آؤٹ لائن دیکھ کر دانت کی آؤٹ لائن کا انتخاب کیا جا سکے۔ اسی طرح ہونٹوں کے کناروں تک فاصلہ کی پیمائش تاکہ سامنے کے چھ دانت اس فاصلہ میں ہوں۔ اورہنستے وقت مسکراہٹ کا ایک خوبصورت انداز سامنے آسکے۔

اسی طرح دانت سیدھا کرتے وقت بریکٹس اور تاروں کے اندر دانتوں کے کلر کی بریکٹس اور تاروں کا مقبول ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ انسان اپنی جمالیاتی حس کی تسکین کے لئے بہتر سے بہتر کی تلاش میں رہتا ہے۔

جمالیاتی حس کی کارستانیاں
یہی وجہ ہے کہ اہم بیماریوں کے علاج میں خوبصورتی کی تلاش کے ساتھ کہ جن کا علاج نہ ہونے سے آدمی کی صحت میں پیجیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ ان غیر اہم خرابیوں کی طرف بھی توجہ دینا شروع کی۔ جنکا صحت کے اوپر کوئی اثر نہیں۔ بلکہ
صرف خوبصورتی اور Lookکے اوپر ہے۔
پیلے دانت
دانت اگر قدرتی پیلے ہوں یا پیلے نشانات ہوں۔ تو یہ صحت کے لیے قطعاً نقصان دہ نہیں۔لیکن انسان کی جمالیاتی حس مطالبہ کرتی ہے۔ کہ یہ سفید سے سفید تر ہوں۔ تاکہ ”چٹے دند ہسدیوں نہیں رہندے“کے ساتھ مسکراہٹ خوبصورت اور دلکش ہو سکے۔
اگرچہ یہ قدرتی عمل ہے کہ جتنا رنگ کالا ہو گا اتنے دانت سفید ہو نگے۔ اور جتنا جلد کا رنگ سفید ہو گا۔ اتنے دانت پیلے ہونگے۔ لیکن بعض مریضوں میں یہ رنگت روٹین سے ہٹ کر ہوتی ہے۔ یعنی یا تو دانت بہت پیلے ہو تے ہیں۔ یا دانتوں کے اندرونی حصوں پر انتہائی بد نما داغ موجود ہوتے ہیں۔ جس کی وجہ سے مریض کی ساری شخصیت تہس نہس ہو جاتی ہے۔ اس غیر فطری پیلاہٹ کے مندرجہ ذیل اسباب ہیں۔

دانتوں کی پیلاہٹ کے اسباب
٭ بعض علاقوں کے پانی میں فلورائیڈ نارمل سے زیادہ ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے ایسے علاقوں کے لوگوں کے دانتوں میں فلورائیڈ کے پیلے اور بد نما نشانات بکثرت پائے جاتے ہیں۔ ہمارے پاکستان کے علاقوں خاص کر میانوالی، ڈی جی خان، اور مضافات وغیرہ میں اکثر لوگ فلورائیڈ کے ہاتھوں پیلے دانتوں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔

٭ اسی طرح دوران حمل بعض ماؤ ں کے غلط دواؤں کے استعمال کرنے سے بچے میں دانتوں کی رنگت سیاہ یا گہری پیلی ہوتی ہے۔

٭ عمر کے گزرنے کے ساتھ ساتھ بھی بعض لوگوں میں دانت زیادہ پیلے ہو جاتے ہیں۔

٭ بعض لوگ چائے کافی اور سگریٹ کا بکثرت استعمال کرتے ہیں۔ اس کی وجہ سے ان کے دانت اپنی سفیدی کھو بیٹھتے ہیں۔
٭ بعض لوگوں کے دانتوں پر غلط برشنگ کی وجہ سے کھردراپن پیدا ہو جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے دانتوں کی چمک ختم ہو کر پیلے دکھائی دیتے ہیں۔
علاج:
کاسمیٹک ڈینٹسٹری کا یہ شعبہ اپنی پوری توانائیوں کے ساتھ اس مسئلہ پر قابو پا گیا۔ جس میں مختلف طریقوں سے دانتوں کو سفید سے سفید تر بنایا جا سکتا ہے۔
۱۔ عموماً مریض کا ماپ لے کرٹریز بنا دی جاتی ہیں۔ جس میں دانت سفید کرنے والی ٹیوبس سے دوا نکال کر مریض بلکہزیادہ مناسب الفاظ میں ”طالب جمال“ ان ٹریز کو رات سوتے وقت دانتوں پر چڑھا لیتا ہے۔ اور اسطرح ہفتہ ڈیڑھ میں دانت اسکی مطلوبہ خواہش کے مطابق سفید ہو جاتے ہیں۔
۲۔ بلیچنگ لائٹ سٹسم کے ذریعے دو تین نشستوں میں دانت خواہش کے مطابق سفید ہو جاتے ہیں۔

۳۔ چھوٹے موٹے نشانات تو آجکل مائیکر وابریثرن کے ذریعے چند منٹ میں دور کیے جا سکتے ہیں۔

۴۔ ٹیٹراسائکلین اور فلو روسس کے بد نام ترین اندرونی نشانات جن پر کوئی طریقہ بھی پوری طرح قابو نہیں پاسکا تھا۔
آجکللیزرسسٹم کے ساتھ قابو پالیا گیا۔اب آپ کسی قسم کے بھی نشانات دانتوں پر علاج کے بعد ایک خواب و خیال سمجھیں گے۔ذیل میں علاج سے پہلے اور بعد کی تصاویر آپ کے ذوق کے لئے پیش کی جارہی ہے۔
ڈینٹل وائٹ پیسٹ
آجکل سخت پیلے دانتوں کو یا ان پر بدنما نشانات کو ٹھیک کیے جانے سے پہلے اس پینٹ سے چھپا لیا جا تا ہے۔لیکن مداوا عارضی ہوتا ہے۔ جسطرح عورتیں جنکے چہرے پر چھائیاں وغیرہ ہوں یا اپنے سانوے رنگ کو سفید بنانے کے لئے طریقے استعمال کرتی ہیں۔

وینیئرز(Vaneers)
آجکل دانتوں کو خوبصورت بنانے کے لیے وینیئر ٹیکنالوجی کا استعمال بہت مقبولیت پا رہا ہے۔ونیئر(vaneer)انسانی ناخن کی طرح باریک چھلکے ہوتے ہیں۔ جنہیں دانتوں کی رنگت اور مطلو بہ سائز کے مطابق تیارکر کے دانتوں پر لگایا جاتا ہے۔ بعض لوگ ان vaneers میں چمک پیدا کرنے والے مٹیریل کا مطالبہ کرتے ہیں۔ تاکہ مطلوبہ رنگ ساء
کے علاوہ ہسنتے یا مسکراتے وقت دانتوں سے چمک کا احساس ہو۔
دانتوں کا چھوٹا سائز اور وینیئر ز
بعض مریضوں میں قدرتی طور پر بعض دانت چھوٹے ہوتے ہیں۔ لیکن سامنے کے چھوٹے دانت خوبصورتی کو متاثر کرتے ہیں آجکل جمالیاتی حس کی تسکین کے لئے اب طلبگارانِ حسن کاسمٹیک ڈنٹیسٹر ی کی وئینر ٹیکنالوجی سے مستفید ہو سکتے ہیں۔
دانتوں میں معمولی ٹیرھا پن اور خلا
اسی طرح معمولی ٹیڑھا پن، دانتوں میں خلا وغیرہ جیسی شکایتوں میں آرتھو کے لمبے علاج کے بجائے ونیئر ٹیکنالوجی سے دنوں میں نتائج حاصل ہو جاتے ہیں۔
ذیل میں آپ مختلف مسائل میں علاج سے پہلے اور بعد کا فرق ملا حظہ فرماسکتے ہیں۔ کہ شخصیت پر اسکے کیسے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
دانتوں میں خلا اور وینیئر ز
آجکل دانتوں کے درمیان زیادہ خلا جو چہرے کی خوبصورتی کو متاثر کرتے ہیں۔ وینیئر ز ٹیکنالوجی کے ساتھ آسانی سے قابو پایا جا سکتا ہے۔ آجکل وینیئر ز کے بجائے بلڈ اپ اور کمپونیر سے بھی نتائج حاصل کیا جا سکتے ہیں۔
پیچھے گئے ہوئے مسوڑھے اور وینیئرز
بعض دفعہ عمر کے ساتھ مسوڑھے پیچھے چلے جاتے ہیں۔ اور دانت لمبے دکھائی دیتے ہیں۔ عموماً لمبے دانتوں والا شخِص اپنی
عمرسے بڑا دکھائی دیتا ہے۔ تو پھر کیوں ایسا شخص کاسمیٹک ڈنیٹسٹر ی کا مرہون احسان نہ ہو۔ جس نے مسوڑھوں کے رنگ کے مصنوعی مسوڑھے اور جڑوں کے ساتھ دانت کے رنگ کی بانڈنگ ایجاد کر کے اسکی مشکل کو حل کر دیا ہے

دیگرخرابیاں
اس طرح چھوٹے موٹے دانتوں کی سطح کی خرابی کو ٹھیک کر دینا۔ Recentouring شخصیت کے نکھار کا سبب بن جاتا ہے
دانتوں کی جیولری
انسان کے اندر خوبصورتی کے جذبے کے ساتھ خود نمائی کا جذبہ بھی موجود ہوتاہے۔
بچپن میں ہم کئی لوگوں کے سامنے دانتوں پر سونے کا کور چڑھتے دیکھتے تھے۔ لیکن آجکل با قاعدہ طور پر دانتوں پر لگنے والی جیولری کی صنعت قائم ہو چکی ہے۔ جس میں دانتوں پر لگنے والی جیولری اور طرح طرح کے قیمتی نگینے تیار ہوتے ہیں
ذیل میں دانتوں پر لگنے والی جیولری کی چند تصاویر قارئین کی دلچسپی کے لئے دی جارہی ہیں۔آجکل ڈینٹل سرجن دانتوں
کے علاوہ چہرے کی دیگر خرابیاں جو خوبصورتی کو متاثر کر رہی ہوتی ہیں۔ جیسے جھریاں وغیرہ کے لئے کاسمیٹک فلرز کثرت سے استعمال کررہے ہیں۔
کاسمیٹک فلرز(Cosmetic Fillers)
اجکل Cosmetic Fillersفلرز کا رجحان بہت تیزی سے پھیل رہا ہے خصوصاً وہ لوگ جو اپنی ظاہری خوبصورتی پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ ان میں Fillersکا رجحان بہت تیزی سے فروخ پا رہا ہے۔ یہ saline, Juverdeem, botox فلرز کے مختلف قسم کے ناموں میں آتے ہیں۔
اجکل ڈینٹل سرجنز دانتوں کے علاوہ چہریکی دیگر خرابیاں جو خوبصورتی کو متاثر کررہی ہوتی ہیں۔ جیسیچھوٹے ہونٹ، چھوٹی ٹھوڑی وغیرہ کے لیے کاسمیٹک فلرز کثرت سے استعمال کر رہے ہیں۔یہ فلرز انسان کی جلد میں موجود جھریوں، کھڈوں یا کسی قسم کے غیر متوازن خدوخال کو توازن میں کرنے اور ان کو بھر کر جلد کو دوبارہ سے جوان اور صحتمند بنا دیتے ہیں۔
آجکل ان فلرز سے ٹیڑھے ناک کو سیدھا، دبی ہوئی ٹھوڑی کو ابھار کر پر کشش کرنا اور چہرے کی لٹکی ہوئی جھریوں بھری جلد کو دوبارہ سے ٹائٹ کر کے صحت مندلُک دینے کے علاوہ اور بہت سے کام لیے جاتے ہیں۔ آجکل ڈینٹل سرجنز ایک کورس کے ذریعہ ٹرینگ کر کے بڑی کامیابی سے یہ کام کرتے نظر آتے ہیں۔























































