دانتوں کی ساخت اور منہ میں دانتوں کی تعداد اور نکلنے کی عمریں

:دانت اور منہ 

دانت کا وہ حصہ جومنہ میں نظر اۤتا ہے۔ اسے کراأون کہتے ہیں۔

یہ حصہ مسوڑھوں سے باہر ہوتا ہے۔ مسوڑھوں کا صحیح رنگ ہلکا گلابی ہوتاہے۔

دانت کا جو حصہ نظر نہیں اۤتااور جبڑے کی ہڈی کے اندر سمایا ہوتا ہے۔ اسے دانت کی جڑ کہتے ہیں۔ جیسے ایک درخت میں تنا باہر ہوتا ہے۔

اور جڑیں زمین کے اندر ہوتی ہیں۔

بالکل اسی طرح منہ میں کراأون باہر ہوتاہے۔ اور جڑیں مسوڑھوںاورجبڑے کی ہڈی کی زمین میں جڑی ہو تی ہیں۔ دانت کی جڑیں جبڑے کی ہڈی میں ایک کشن جسے (peridontium)پیر ی ڈونشیم کہتے ہیں۔ کے ساتھ حسین موتی کی طرح جڑی ہو”ی ہوتی ہےں۔ جسکے اوپر گلابی مسوڑھے اسے کور کر کے خوبصورتی اور حسن کا شاہکار بنا دیتے ہیں

۔دانت کے تیز کنارے کھانے کی چیزوں کو پکڑنے اور کاٹنے میں مدد کرتے ہیں۔ سامنے والے دانتوں کی چپٹی شکل، پچھلے دانتوں کی سطح پر قدرتی گڑھے اور نشانات اُسکی چبانے کی صلاحیت میں اضافہ کر تے ہیں۔ اوپر والے اور نیچے والے دانت اۤپس میں اسطرح جڑتے ہیں ۔ کہ اوپر والا دانت نیچے دو دانتوں کے درمیان ملتا ہے۔ تا کہ دانتوں کی سطح کا

زیادہ سے زیادہ ملاپ ہو اور کھاناچبانے کی صلاحیت ایک صحت مند معیار کے مطابق ہو۔

دانت کی ساخت اور اس کے مختلف حصوں کے افعال

(Pulp):پلپ

ہر دانت کے اندر جسم سے خون کی نالیوں اور اعصابی تاروں کا ایک سلسلہ جڑوں کے سوراخ سے ہوتا ہوا کراأون کے اندربنے ایک خلا میں اۤتا ہے۔ جسے پلپ کہتے ہیں۔یہ دانت کے چبانے اور کھانے کے درمیان جو شکست وریخت ہوتی ہے۔

اسکے احساس کو دماغ تک پہنچاتا ہے۔ اور خون کے ذریعے اسکی مرمت کرتا ہے۔

(Enamel):انیمیل

دانت کے کراأون کے باہر والے حصے پر سفید رنگ کی ایک تہہ ہوتی ہے۔ جسے انیمل کہتے ہیں۔ یہ تہہ گرمی اور سردی کے

احساس کو دانت کے اندر اعصابی تاروں تک جانے کو روکتی ہے۔ اسی کی موٹاأی اور ساخت پر دانت کے رنگ کا دار مدار ہوتا ہے۔

(Cementum) :سیمنٹم

دانت کے جڑوالے حصے کی باہر والی تہہ کو Cementumسیمنٹم کہتے ہیں۔ جس سے دھاگوں کی طرح ریشے نکل کر جبڑے کی ہڈی کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔

شاک ابزاربر:۔

یہی ریشے Peridontialپیریوڈونٹل لگامنٹس دانت کے لئے شاک ابزاربر کا کام بھی کرتے ہیں۔

اسی لئے اگر انگلی سے دانتوں کو ہلا ءیں تو معمولی سی حرکت کا احساس کیا جا سکتا ہے۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں۔ کہ دانت ڈاأریکٹ ہڈی سے جڑے ہوتے ہیں جسطرح کہ مگر مچھ میں جڑے ہوتے ہیں۔مگر اُنکی سوچ صحیح نہیں ہے۔ سیمنٹم کی تہہ کے اندر گرمی سردی روکنے کی صلاحیت نہیں ہوتی ۔ یہی وجہ ہے۔ کہ ذراسی جڑ ننگی ہو جاأے تو سیمنٹم کے سامنے اۤجانے سے ٹھنڈک یا گرمی کا احساس پیدا ہو جاتاہے۔

(Dentine):ڈینٹین

دانت کی اندرونی اور بیرونی سطح کے درمیان ایک تہہ ہوتی ہے۔ جسے ڈینٹین کہتے ہیں۔یہ تہہ چھوٹی چھوٹی باریک نالیوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ جو کہ دانت کی اندرونی اور بیرونی سطح کے درمیان رابطے کا کام دیتی ہے۔

دانتوں کی شکل اور فعل کے لحاظ سے قسمیں

شکل اور فعل کے اعتبار سے دانتوں کو مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ جو حسب ذیل ہیں۔

(Incisors):انساأزر

یہ چھری کی طرح چپٹے اور تیز ہوتے ہیں۔جو خوراک کو کاٹنے کے کام اۤتے ہیں۔ یہ دانت سامنے ہوتے ہیں۔ اور انہی کی ساخت مسکراہٹ کے وقت خوبصورتی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ عموماً انہی دانتوں سے خوراک کو پکڑا اور کاٹا جاتا ہے۔

(Canine):کیناأن

یہ دانت نوکدار ہوتے ہیں۔ اورا ن کی ایک نوک انہیں دوسرے دانتوں سے ممتاز کر دیتی ہے۔ یہ خوراک کو پھاڑ نے کے کام اۤتی ہے۔ اس لئے چیر پھاڑ کرنے والے جانوروں میں یہ دانت بہت لمبے ہوتے ہیں۔ اور سبزی خور جانوروں میں چونکہ زیادہ چیر پھاڑ نہیں کرنی پڑتی اسلئے ان کی نوکیں زیادہ نہیں ہوتی ۔ اگر کسی انسان میں یہ تھوڑے سے لمبے ہوں تو کسی ڈریکولا یعنی چیر پھاڑکرنے والی بلا کا احساس ہونے لگتا ہے۔(تفصیل کے لئے دانت اور خوبصورتی کے باب کا مطالعہ فرماأیں) خوراک کے چیرنے پھاڑنے کے علاوہ اوپر

والے کیناأین نچلے جبڑے کی زیادہ حرکت کو بھی کنٹرول کرتے ہیں۔ کیونکہ جب نچلا جبڑا خوراک پیسنے کے لئے حرکت کرتا ہے۔ تو یہ ایک محضوص حرکت سے زیادہ اُسکو اجازت نہیں دیتے تاکہ چبانے والے پٹھوں پر زیادہ کھنچاأو نہ پڑے۔

:ٹیڑھے کیناأن نکلوادینے کی غلط روش اور اسکا نتیجہ

عموماً والدین بچوں کا یہ دانت غلط جگہ اُگنے پر نکلوادیتے ہیں۔

جسکے نتیجہ میں یہ گاأیڈنس ختم ہو جاتی ہے۔ اور نچلے جبڑے کی بے قابو حرکت پٹھوں پر برا اثر ڈالتی ہے۔ اور جب بچے جوان ہوتے ہیں۔تو کنپٹی کے پاس جوڑ کے مرض میں مبتلا ہو کر ڈاکٹروں کے پاس پھرتے نظر اۤتے ہیں۔

 (Premolars):پری مولرز 

انکی شکل کیناأن اور کچھ مولرز کے ساتھ ملتی ہے۔ اسلئے یہ خوراک کو کچلنے اور چبانے کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔

(Molars):مولرز

اللہ تعالیٰ انسان کومنہ کی چکی کے لئے یہ پاٹ عطا فرماأے ہیں۔ جو کہ خوراک کو باریک پیسنے کے کام اۤتے ہیں۔ جس طرح چکیوں کے پتھروں پر پیسنے کے لئے لکیریں اور ابھار بنے ہوتے ہیں۔ کیونکہ کسی ہموار پتھر سے صحیح طریقہ سے نہیں پیسا جا سکتا اسطرح دانتوں کی سطح پر قدرتی گڑھے اور نشانات اُسکی چبانے کی صلاحیت میں اضافہ کر تے ہیں۔

اوپر والے اور نیچے والے دانت اۤپس میں اسطرح جڑتے ہیں ۔ کہ اوپر والا دانت نیچے دو دانتوں کے درمیان ملتا ہے۔ تا کہ دانتوں کی سطح کا زیادہ سے زیادہ ملاپ ہو اور کھانے چبانے کی صلاحیت ایک صحت مند معیار کے مطابق ہو۔

مختلف دودھ کے اور پکے دانتوں کی منہ میں اُگنے کی عمریں

انسانی زندگی میں منہ کے اندر دو قسم کے دانت ہو تے ہیں۔ ایک دودھ کے اور دوسرے پکے ۔انسان کے منہ میں پہلا دانت 6ماہ کی عمر میں نکلتا ہے اور عموماًڈھاأی سے تقریباً چھ سال کی عمر تک بچے کے منہ میںاوپروالے جبڑے میں دس اور نچلے والے میںدس دانت ہوتے ہیں۔ یعنی دودھ کے دانتوں کی کل تعداد بیس ہوتی ہے جبکہ پکے دانتوںکی تعداد بتیس ہوتی ہے۔ چھ سال کی عمر میں پہلا پکادانت نکلتا ہے۔

یہ عجیب قدرت کا اظہار ہے کہ چھ سال میں منہ میں ایک طرف قطار میں چھٹے نمبر پر یہ دانت نکلتا ہے۔ جیسے چھ( six)نمبر دانت کہتے ہیں۔ اور یہ بڑی اہمیت کا حامل ہوتاہے۔ اصل بات جو جاننے کی ہے۔ وہ یہ ہے کہ چھ سال سے تقریباً 12سال تک پکے دانت اور دودھ کے دانت دونوںہی منہ میں موجود ہوتے ہیں۔ اور 12سال کے بعد دودھ کے سارے دانت گر کر تقریباً سب دانت پکے نکل اۤتے ہیں۔

15سے 25سال کی عمر تک اۤخری دانت جو ایک قطار میں اۤٹھ نمبر پر ہوتا ہے.اور جسے عقل ڈاڑھ بھی کہتے ہیں۔جب نکلتا ہے تو انسان کے منہ میں بتیس دانت مکمل ہو جاتے ہیں۔

دودھ کے دانتوںاورپکے دانتوں کی نکلنے کی عمروںکا اندازہ اۤپ نیچےدئیے گئے چارٹ سے بخوبی لگاسکتے ہے۔

دانتوں اور مسوڑھوں کی بیماریوں کی عا م وجوہات

یہ سارا ذکر نارمل دانتوں اور منہ کی حالت کے بار ے میں کیا گیاہے۔ جبکہ ایک سروے کے مطابق پاکستان میں 99.9فیصد لوگ دانتوں اور مسوڑھوں کی بیماریوں کا شکار ہیں۔ اۤخر وہ کونسی وجوہات ہیں کہ اتنی کثیر تعداد میں لوگ ان بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔

بچوں سے لے کر بڑوں تک مردوں اور عورتوں میں ان وجوہات کو تلاش کیا گیا۔ تو تین بڑی وجو ہات سامنے اۤءیں۔

۔1    موروثی

دانت فاسفورس اور کیلشیم کے حسین مرکب سے بنا ہوتا ہے۔ جسے فلوراأیڈ نے بھی اچھی طر ح باندھ کے رکھا ہوتا ہے بعض خاندانوں میںان عناصر کی کمی بیشی مورثی بیماریوں کی وجہ ہو سکتی ہے۔جو دانتوں کی صحت پر اثر انداز ہو تی ہے۔ اسی طرح دوران حمل غلط دواأوں کا استعمال بھی بچے کے دانتوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔

۔2    ماحولیاتی 

فلوراأیڈزوغیرہ دانتوں کو صحیح رکھنے میںاہم مقام رکھتے ہیں۔ پانی میں اسکے نہ ہونے سے دانتوں کی سطح کمزور ہوجاتی ہے۔ اوپر سے چپکنے والی نرم غذا ءوں کا استعمال مزید خرابیوں کا باعث بن جاتا ہے۔

۔3    ذاتی غفلت 

دانتوںکی صفاأی کا خیال نہ رکھنا ۔ اور اگر صفاأی کرنا تو صحیح طریقہ کار کا پتہ نہ ہونا ۔اسی طرح صحیح ٹو تھ پیسٹ کا انتخاب نہ کرنا بھی ایک اہم وجہ ہے۔

پیچیدگیوں سے بچنے کے لئے احتیاط

عام طور پر مریض تب ڈاکٹر کے پاس اۤتا ہے جب اسے درد مجبور کرتا ہے۔ یا وہ کھانے پینے سے بالکل لا چار ہو جاتاہے۔ ہم نے اپنی پریکٹس میں بہت ہی کم ایسے مریضوں کو دیکھا ہے جو احتیاطی تدبیر کے طور پر دانتوں کا معاأنہ کرارہے ہوں۔

حالانکہ جدید ساأنس کا یہ مسلمہ اصول ہے۔ کہ ہر چھ ماہ بعد کسی مستند ڈینٹل سرجن سے منہ اوردانتوں کا معاأنہ کروا لینے سے

اۤپ انکی بیماریوں سے کافی حد تک محفوظ ہو جاتے ہیں۔ خیر مریض جب درد کی حالت میں ڈاکٹر کے پاس پہنچتا ہے تو وہ فوری درد سے نجات چاہتا ہے اور درد کرنے والے دانت کو نکلوا دینا چاہتا ہے۔ حالانکہ اۤجکل شدید درد کی حالت میں بھی دانت کو بچایا جا سکتا ہے۔

لیکن اس سے پہلے ہم نے درد کی اُن کیفیات کے متعلق جس نے مریض کو ڈاکٹر کے پاس اۤنے پر مجبور کیا کے بارے میں وضاحت اور وقتی طور پر اس بے چینی کی کیفیت کو کم کرنے کے لیے ابتداأی طریقے رقم کیے ہیں۔جو قارئین کے لیے بہت ہی فاأدہ مند ہو نگے ۔