ذیل میں ہم یہ اقسام قارءین کے علم کے اضافہ کے لءے بتا رہے ہیں۔ تاکہ وہ اپنے معالج کی بات کو بہتر انداز سے سمجھ سکیں۔
جیکٹ کراءون

کراءون کیا ہوتا ہے۔ اسکے فواءد
کور کو کراءون کہا جاتاہے۔ کیونکہ یہ منہ میںٹوٹے ہوءے دانت کے کراءون والے حصے کا متبادل پیش کرتاہے۔ یہ چاروں طرف سے کمزور دانت کو کور کر لیتا ہے۔ اور اسطرح اس کمزور یا ٹوٹے دانت کی عمر میں اضافہ ہو جاتاہے۔
کراءون کے مٹیریلزاورانکی تصاویر
یہ مختلف مٹیریلز کے ہوتے ہیں۔
(Porcelain Facing)پورسلین فیسنگ
نکل کروم

(Nic Plastic facing)نکل کروم پلاسٹک فیسنگ

پروگولڈ :۔

(Acrylic)ایکرلک

(Metal free)میٹل فری
(Full Porclain)مکمل پورسلین
دانتوں کے لءے ٹوپی یا کراءون کوءی پہلے سے تیار چیز نہیں ہو تی

کہ آپ بازار گءے اور کوءی ٹوپی یا جوتا خریدلاءے ۔ بلکہ یہ ہر دانت کے مطابق علیحدہ طور پر لیبارٹری میں بنتا ہے۔
کراءون کے لءے قدرتی دانت کو کیوں گھسایا جاتا ہے؟
س سلسلہ میں اُس دانت کو عموما دوملی میٹر تک ہر طرف سے گھسایا جاتا ہے۔ جس پر کور چڑھا نا مقصود ہو۔ دانت کو ہر طرف سے اتنااسلءے گھساتے ہےں۔ کہ جب کور چڑھے تو
دانت دوبارہ اپنی اصلی شکل حاصل کر سکے۔ کیونکہ جب دانت ملتے ہیں تو بال برابر بھی کسی دانت کی اونچاءی باقی دانتوں کو آپس میں ملنے نہیں دیتی ۔ اسلءے
بالکل صحیح ماپ ہو
دانت کی صحیح گھساءی
اچھے کراءون اورمصنوعی دانتوں کے لءے بہت لازمی ہے۔ کہ مخالف دانتوں کا ماپ اور مطلوبہ دانت کے ساتھ ملنے کی پوزیشن نوٹ کی جاءے۔ تاکہ پراپر اور صحیح طریقہ سے دانتوں کا ملاپ ہو

تاکہ کھانے اور چبانے میں کوءی مشکل نہ آءے۔
سامنے دانتوں کے لءے عارضی کراءون
اگر سامنے دانتوں کی گھساءی ہوجاءے تو ظاہر ہے دانت چھوٹے ساءز کا دکھاءی دےگا۔ کءی مریض بہت حساس ہوتے ہےں۔اس لءے مریضوں میں گھساءی کے فور بعد عارضی پلاسٹک کا بنا ہو ا کراءون لگا دیا جاتاہے۔جو سخت چیزوں کو چبانے میں استعمال نہیں کیا جا سکتا صرف شخصیت کے وقار کو بحال کر نے کے لءے لگایا جاتاہے

:چھوٹے دانت کو لمباکرنے کے فواءد
بعض دفعہ دانت پہلے ہی بہت چھوٹا ہوتا ہے۔ اسلءے اسکو لمبا کرنے کے لءے مسوڑھوں کو ہٹانا پڑتا ہے۔ جسے Crown Lengtheningیعنی دانت کے اوپر والے حصہ کو ل کرنا کہتے ہیں۔ تاکہ اوپر چڑھنے والے کراءون کوسیمنٹ کرنے کے لءے مناسب جگہ مل سکے۔
:Dowel Crow:ڈاول کراءون
:ڈاول کراءون کیا ہوتاہے
یہ بھی کراءون کی طرح دانت کا متبادل پیش کرتا ہے۔ فرق صرف یہ ہوتاہے۔اسکا تعلق جڑوںکے ساتھ ایک پیچ، پن یا پوسٹ کی صورت میںہوتا ہے۔کیونکہ کراءون لگانے کے لءے ڈاکٹر کو دانت کا کچھ حصہ منہ میں مسوڑھوں کے باہر درکار ہوتا ہے۔

لیکن اگرمنہ میں خالی جڑیں پڑی ہوں توظاہری سی بات ہے کہ کراءون کیسے لگایا جاءے گا۔
جڑ میں پیچ پوسٹ لگاکر کراءون چڑھانا
ایسی صورت میں ڈاکٹر جڑ کے اندر والی قدرتی نالی میں ایک پیچ نما حصہ جسے پوسٹ کہتے ہیں۔ سیمنٹ سے لگا دیتے ہیں۔ اوریہ خیال رکھا جاتا ہے کہ منہ میں پوسٹ کی لمباءی جڑ کی لمباءی کے تیسرے حصے سے زاءد نہ ہو ۔ کیونکہ یہ مضبوطی کے لءے نہیں ہوتے بلکہ صرف کراءون کو سیمنٹ سے لگانے کے لءے جگہ فراہم کرتا ہے۔
:کراؤن کے ساتھ بنی پن کو جڑمیں لگانا
دوسری صورت میں کراؤن اوپر سے دانت کی شکل کے مطابق ہوتاہے۔ جبکہ اسکے ساتھ ایک پن ملا ہوا ہوتا ہے۔
جو رہ گئی جڑ کے سوراخ میں فٹ ہو جاتا ہے۔ اور اسطرح ٹو ٹی ہوئی جڑکو دوبارہ دانت کی شکل دے دی جاتی ہے۔
:ڈاول کراؤن کے میٹریلز اور تصاویر
یہ بھی کراؤن کی طرح کے ہی(Material)میٹریلز سیبنائے جاتے ہیں۔
:کراؤن میں ناکامی کی وجوہات
٭ کراؤن چونکہ ٹوٹے ہوئے یا خراب دانت پر چڑھایا جاتا ہے۔اسلئے اگردانت نیچے سے بالکل گل چکا ہو تو یہ کراؤن نا کام ہو جاتا ہے۔

٭ سامنے والے دانتوں پر کراؤن اسطرح بنایا جاتا ہے۔کہ اسکے کنارے مسوڑھے کے نیچے ہوں۔ تاکہ ہنستے وقت اسکے کنارے سامنے نظر آکر اپنی موجودگی کا تاثر نہ دیں۔ بلکہ کراؤن قدرتی دانتوں کی طرح دکھائی دیتے ہیں۔ تاکہ مریض مطمئن ہو۔
٭ سامنے نظر آنے والے کناروں پر خوراک کے باریک ذرات پھنس کر تیزاب پیدا کرتے ہیں۔ اور یہ تیزاب سیمنٹ کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ دانت کی سطح کو بھی خراب کر دیتاہے۔ اورنتیجتاًکراؤن جلدی ہٹ جاتا ہے۔
٭ پلاسٹک کے کراؤنز عموماً اپنی رنگت کچھ عرصہ بعد تبدیل کر لیتے ہیں۔ جبکہ اچھے میٹریل سے بنے کرؤنز میں یہ مسئلہ نہیں ہوتا۔

٭ بعض دھاتیں مثلاً پروگولڈ وغیرہ کی منہ میں گھسنے کی استعدادزیادہ ہوتی ہے۔ اسطرح پچھلے دانتوں پر زیادہ دباؤ کی وجہ سے یہ جلدی گھس کر ناکام ہو جاتے ہیں۔
٭ بعض ناتجربہ کار معالج سامنے کے دانتوں میں کراؤن چڑھاتے وقت اسکے رنگ یعنی شیڈ کا خیال نہیں رکھتے ایسے کراؤن اوردانت نہ صرف مریض کی شخصیت کو متاثر کرتے ہیں۔ بلکہ ڈاکٹر کے اچھے بھلے کام کو بھی ناکام کر دیتے ہیں۔ شیڈ لیتے وقت مریض کو بھی تسلی کر لینی چاہیے۔ اور لگاتے وقت بھی اطمینان کر لینا چاہیے۔ شیڈ گائیڈ سے شیڈ منتحب کرنے کے لئے بھی بہت سے اصول اور احتیاطیں ہیں۔ جن پر عمل کئے بغیر قدرتی دانت کا رنگ نہیں چنا جا سکتا۔
جب ایک یا ایک سے زیادہ دانت نکلا ہواہو۔ تو اسکی جگہ مصنوعی دانت لگوانے کی مندرجہ ذیل اقسام میسر ہیں۔
فکس دانت:
1۔ برج:(BRIDGE)
:برج کے معنی اور اس کے فوائد
جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ برج انگریزی میں پل کو کہتے ہیں۔ اگر نکالے گئے دانتوں کے دونوں طرف مضبوط دانت

ہوں تو ہم ان سے کناروں کا کام لے کر درمیان میں پل کی طرح مصنوعی دانت لگا دیتے ہیں۔
اردگرد کے دانتوں پر کور چڑھ جاتے ہیں۔ اور یہ دانت درمیانی

مصنوعی دانتوں کے وزن کو برداشت کر تے ہیں۔ دوسراان میں تاروں اور پلیٹوں کا کوئی جھنجٹ نہیں ہوتا۔ اسلئے مریض کو بار بار یہ دانت اتارنے چڑھانے نہیں پڑتے ہیں۔مٹیریل کے لحاظ سے ان کی بھی وہی اقسام ہوتی ہیں۔ جو کراؤن کی ہوتی ہے۔
:برج میں طاقت کا توازن
کامیاب برج کے لئے طاقت کے توازن کو برقرار رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ جسطرح ایک لمبے پُل کے نیچے زیادہ ستون دیئے جاتے ہیں۔ اسی طرح برجز میں چونکہ دونوں طرف سہار ے کے لئے مضبوط دانت ہوتے ہیں۔ تو یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ کم از کم جتنی جڑوں والے دانت درمیان میں لگ رہے ہیں۔اتنے ہی جڑوں والے دانتوں پر کراؤن چڑھے۔
لمبے برجوں کے ناکامی کی وجوہات:
اگر مصنوعی دانت زیادہ ہوں گے تو ظاہر ہے کہ آپ کم بوجھ سہارنے والے دانتوں پر زیادہ بوجھ ڈال رہے ہیں۔ اور نتیجہ یہ کہ برج کچھ عرصہ بعد ناکام ہو جاتا ہے۔ اسی لئے لمبے چوڑے برجوں میں آجکل دباؤ کم کرنے کے لئے سٹرلیس بریکر لگائے جاتے ہیں۔

2۔ کانٹی لیوردانت CANTILEVER
:کانٹی لیور کی ضرروت
یہ دانتوں کی فکس قسم تب لگائی جاتی ہے۔ جب ایک طرف پکا دانت سہارا دینے کو موجودہوا وردوسری طرف کوئی دانت نہ ہو اس میں ایک طرف سے دو یاتین دانتوں کا کراؤن کے ذریعے سہارا دے کر نکلوائے گئے دانتوں کی جگہ مصنوعی دانت لگا دیئے جاتے ہیں۔
:کانٹی لیورکے چبانے کی طاقت
اسکی چبانے کی طاقت برج سے بہت کم ہو تی ہے۔ لیکن اُتارنے چڑھانے والے دانتوں کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اس میں بھی میٹریل کی وہی قسمیں استعمال ہوتی ہیں۔ جو پہلے بیان کی جاچکی ہیں۔
:کانٹی لیورکیا ہے
(Cantilever Bridge) کانٹی لیور برج میں جیسے نام بتا رہا ہے کہ لیور کے طور پر کام رہا ہوتاہے۔ چونکہ اس میں ایک طرف دانت نہیں ہوتے۔ تو اسے اگلے دانتوں پر کراؤن چڑھا کر فکس کیا جاتاہے۔
:کانٹی لیورمیں طاقت کا توازن
بغیر دانت کی جگہ کے ساتھ پہلا دانت فلکرم کے طور پر کام کرتا ہے۔ اسلئے جتنے مصنوعی دانت لگائے جائیں اگراُ نکا وزن یا دباؤ جتنا وہ اٹھاتے ہیں۔فلکرم کے اگلے دانتوں سے زیادہ ہو گا۔ تو یہ برج نا کام ہوکر اگلے دانتوں کو تباہ کر دے گا۔
:لیور والے جھولے کی مثال
سکی مثال آپ پارک میں لگے اُس جھولے سے سمجھ لیں جسکے درمیان ایک لیور ہوتا ہے۔ اور اُسکے دونوں طرف بچے بیٹھتے ہیں۔

اگر ایک چھوٹابچہ پھٹے کے کنارے پر بیٹھ جائے تو وہ اُس وزنی آدمی کو جو بالکل فلکرم کے قریب ہو گا۔ اُسکو اُٹھالے گا۔ کیونکہ طاقت اور درمیانی فاصلہ کو ضرب دینے سے اسکی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ بہر حال یہ وہ کلیہ ہوتا ہے۔ جس سے ڈینٹل سرجن دانت لگاتے وقت طاقت کو توازن میں رکھنے کا حساب کر تے ہیں۔
3-میر ی لینڈ برج
(MaryLand Bridge)
یہ صرف سامنے والے دانتوں کے نکلوادینے کی صورت میں لگایا جاتاہے۔ جب مریض ارد گرد کے دانتوں پر کراؤن نہ چڑھوانا چاہتا ہو۔ جو کہ برج کی صورت میں لازماًچڑھانے پڑتے ہیں۔ اس میں اردگرد کے دانتوں کے پیچھے دھاتی پلیٹ لگ جاتی ہیں اور درمیان میں دانت فکس صورت میں لگا ہوتا ہے۔
میری لینڈمیں طاقت کا توازن:
اسکی طاقت بھی برج کے مقابلہ میں بہت کم ہوتی ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے بتایا ہے۔ کہ میری لینڈکینٹی لیور برج maryland or cantileverکی مضبوطی دوسرے برج کے مقابلہ میں بہت کم ہوتی ہے۔ تو پھر ایسے مریض جن میں دوسری طرف کا مضبوط دانت نہ ہو یا وہ کسی دانت پر کور نہ چڑھوانا چاہتے ہوں۔ کیا کریں؟۔۔۔
ایسے مریض یقینایہ جان کر خوش ہونگے کہ آجکل نکلے ہوئے دانتوں کی جگہ دوبارہ ہڈی کے اندر لگنے والی جڑیں ایجاد ہو چکی ہیں۔ جنہیں

ڈینٹل امپلانٹس(Dental Implants)کہا جاتا ہے۔ آجکل یہ ٹیکنالوجی بے حد مقبول ہو رہی ہے۔ یقینا یہ علاج کسی معجزے سے کم نہیں۔
فکس دانتوں میں ناکامی:
:۱۔ طاقت کے توازن کا خیال نہ رکھنا
فکس دانتوں میں طاقت اور دباؤ کو متوازن رکھنا،ان کے نیچے قدرتی دانتو ں کی صحت کے لئے از حد ضروری ہوتا ہے۔ اسلئے ہمیشہ فکس دانت کسی مستند ڈاکٹر سے لگانے چاہیں۔جو یہ سارے فارمولے فکس دانت ڈیزائن کرتے وقت پیش نظر رکھتا ہے۔
:۲۔ پراستھیٹک لیبارٹری میں بے احتیاطی:
چونکہ پچھلے دانتوں پر بوجھ زیادہ پڑتا ہے۔ اسلئے وہاں فکس مصنوعی دانت بناتے وقت ہمیشہ مضبوط دھات کا فریم بنا یا جاتاہے۔ پھر اُس پر دانت کے کلر کا مصالحہ پلاسٹک، ڈینٹین یا پورسلین چڑھادیا جاتاہے۔ یہ لیبارٹریز کا ایک لمبا عمل ہوتا ہے۔ جہاں پر دانت ڈاکٹر کے تجویز کردہ ڈایزائن پر تیار ہوتے ہیں۔
اس سارے عمل میں جہاں بھی
٭ دانت کی گھسائی
٭ ماپ لینے میں کوتاہی
٭ اسے بھرنے میں لاپرواہی
٭ لیبارٹری میں دھات کا فریم کا سٹ کرتے وقت کوئی غلطی

٭ دانت جیسا کلر لگا کر پکاتے وقت غلطی۔ ایک بھی عمل سارے فکس دانتوں کی کوالٹی کو تباہ کر دیتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر ہمیشہ اپنی آزمودہ لیبارٹری میں دانت بنوانے کے لئے بھجواتے ہیں۔
دانتو ں کے کلر کی تہہ بعض دفعہ ٹوٹ جاتی ہے۔ چونکہ یہ تہہ لیبارٹری میں لگائی جاتی ہے۔ تو ساری لیبارٹری کی غلطی کا ملبہ ڈاکٹر کے سر آجاتاہے۔اور مریض کا رابطہ ڈاکٹر سے ہی ہوتا ہے۔نہ کہ لیبارٹری سے نہیں۔
ڈاکٹر کی بے احتیاطی:
ہاں بعض دفعہ ڈاکٹر کے ذمہ جو کام ہیں ان میں غلطی کی وجہ سے بھی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔
مریض کا سستے دانتوں پراصرار:
اس سلسلہ میں کبھی پیسوں پر کمی کی تکرارنہ کرنی چاہئے۔ کیونکہ کمزور میٹریل عموماً جلدی ٹوٹ جاتے ہیں اگلے دانت چونکہ
صرف کاٹنے کے کام آتے ہیں۔ اسلئے ان پر دباؤ کم پڑتا ہے۔ جبکہ پچھلے دانتوں پر بہت زیادہ دباؤ پڑتا ہے۔جبکہ پچھلے دانتوں پر بہت زیادہ دباؤ پڑتا ہے۔ عموماً غلط پیسٹنگ اور مٹیریل سے ہر جڑ نا کام ہو جاتے ہیں۔
اسلئے ہمیشہ اچھے دانت لگوانے پر اصرار کریں کہ ان دانتوں سے آپ نے ہر وقت کھانا پینا ہے۔ اور یہی وہ عضوہے جو دن رات میں سب سے زیادہ استعمال کیا جا تاہے۔
تو اتنی کام آنے والی چیز کے معیار پر سمجھوتہ کیوں کیا جائے
انگریزی زبان کا یہ مقولہ یاد رکھنے کے قابل ہے۔
“There are no bargains in health care”
”صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں “
اتارنے چڑھانے والے دانت
(صرف چند ایک)
(PARTIAL REMOVEABLE DENTURE)
میٹریل کے لحاظ سے اسکی اقسام:
اس میں مریض مصنوعی دانتوں کو اتار اور چڑھا سکتا ہے۔ یہ تین قسم کے مٹیریل میں بنتے ہیں۔
1۔ سخت پلاسٹک) (HARDACRYLIC

2َََ۔ نرم پلاسٹک(Soft Acrylic)
3۔ کاسٹ پارشل (CAST PARTIAL)

جس میں دھات کا استعمال کیا جاتاہے۔
فوائد:
کم بجٹ کاحل:
قیمت کے لحاظ سے چونکہ یہ فکس دانتوں سے سستے ہوتے ہیں۔ اسلئے جب بجٹ اور جیب اجازت نہ دے رہا ہو تو یہ دانت لگانے اس سے بہتر ہیں کہ نہ لگائے جائیں۔ کیونکہ اسطرح دانت نکلوانے کے نقصانات سے ممکنہ حد تک بچت ہو جاتی ہے۔
دانت نکلوانے کے نقصانات میں کمی:
یہ دانت نکلے دانتوں کی جگہ لے کر ارد گر دکے دانتوں کی ممکنہ حرکات کو روکتے ہیں۔ اور جڑوں کے درمیان قدرتی فاصلے کو بر قرار رکھ کر انسان کو مختلف پیچیدگیوں سے بچاتے ہیں۔

نقصانات:
بولنے میں تکلیف اور اس کا حل:
پارشل ڈینچر میں چونکہ پلیٹ ہوتی ہے۔ اسلئے مریض اپنا منہ بھرا بھرا اور موٹا محسوس کرتا ہے۔ اس طرح ابتدا میں بولتے وقت مریض پرابلم محسوس کرتاہے۔
ایسے مریض کو چاہئے کتاب اونچی آواز سے پڑھے۔ اور مسلمان کو چاہئے کہ قرآن پاک کی تلاوت اونچی آواز سے
کرے۔ تاکہ مصنوعی دانت لگنے کے بعد اسکا بولنااللہ کی کتاب سے ہو اور شفاء نصیب ہو۔ دوسرا عربی زبان کے اندر زبان کو تقریباً مخارج ادا کرنے میں بہت زیادہ حرکت دینی پڑتی ہے۔ اسطر ح زبان جلدہی نئے ماحول سے آشنا ہو جاتی ہے۔ اور بولنے میں مسئلہ نہیں رہتا۔
زبان چونکہ پہلے تالوپر لگ رہی ہوتی ہے۔ اور اب مصنوعی پلیٹ پر۔ اسلئے ابتدا میں اس مشکل کا پیش آنا ایک قدرتی امر ہے۔

ناتجربہ کار معالج کی غلطی:
ہاں بعض ڈینٹسٹ یہ پلیٹس اتنی موٹی بنا دیتے ہیں کہ اس تکلیف کا احساس بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اور مریض حق بجانب ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں ڈاکٹر کو اسکی تکلیف رفع کرنے کے اقدامات کرنے چاہیں۔
مریضوں کا زیادہ حساس ہونا:
لیکن بعض دفعہ مریض ضرورت سے زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ اسلئے وہ کسی بھی معمولی مسئلے کو حد سے زیادہ محسوس کرتے ہیں۔ ایسے مریضوں کو Relaxکرنے والی دوائیں ساتھ دی جاتی ہیں۔
چبانے کی کم طاقت:
دانتوں کی اس قسم میں پلیٹوں اور تاروں کے جھنجٹ کے علاوہ ایک مسئلہ یہ ہوتا ہے۔ کہ دانتوں کا سارا بوجھ مسوڑھوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اور قدرتی دانتوں کے مقابلہ میں اسکی چبانے کی صلاحیت دسواں حصہ ہوتاہے۔
خوراک کے ذرات کا پھنسنا:
چونکہ ایسے دانتوں میں پلٹیں اور تاریں ہوتی ہیں۔ جن سے دوسرے دانتوں سے انکے لئے سہارا لیا جاتاہے۔ اسلئے ایک تو پلیٹوں کی حرکت سے کھانے کے دوران نیچے خوراک کے ذرے پھنس جاتے ہیں۔
ساتھ والے دانتوں کا ہلنا اور جڑوں کے پاس سے گھس جانا:
دوسرا تاروں کی وجہ سے ساتھ والے دانت تاروں کے مقام سے گھسنا اور بالآخر ہلنا شروع کر کے ضائع ہو جاتے ہیں۔

عطائی لوگوں کے بنائے ہوئے دانتوں کے نقصانات:
جراثیموں کی آماجگا ہ:
بعض عطائی لوگ سیلف کیور (عام پلاسٹک) سے ایسے دانتوں کو فکس کر دیتے ہیں۔ جس سے مریض کھانا کھا کر انہیں صاف نہیں کر سکتا۔ اور نتیجتاً نیچے پھنسے ہوئے خوراک کے ذرات گل سڑ کر جراثیموں کی آماجگاہ بن جاتے ہیں۔ اور ساتھ
ہی جسم کی دیگر بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔

سیلف کیور میں رنگت کی تبدیلی اور جسم کو نقصان

دوسرا عام پلاسٹک کے دانت رنگ تبدیل کر تے ہیں اور مسلسل ان سے کیمیائی مادے رستے رہتے ہیں۔ جو جدید تحقیق کے مطابق انسانی جگر کے لئے تباہ کن ہوتے ہیں۔ اسلئے کبھی بھی چند پیسوں کی بچت کے لئے اپنی صحت کو داؤ پر نہ لگانا چاہئے۔
مکمل دانتوں کی بتیسی لگوانا
قدرتی دانتوں سے لاپرواہی کا نتیجہ

دانتوں سے لا پرواہی کا نتیجہ صرف ایک گلاس پانی اور اس میں پڑے مصنوعی بتیسی کی صورت میں ظاہر ہوتاہے۔

عموماً ساٹھ سال کی عمر تک کوئی ہی ایسا شخص ملتا ہے۔ جسکے منہ میں اپنے مکمل قدرتی دانت ہوں۔

مکمل بتیسی میں دانت:۔
عموماً مکمل مصنوعی دانتوں کو عرف عام میں ”بتیسی“ کہا جاتا ہے۔ حالانکہ اگر مصنوعی بتیسی کے دانت گنے جائیں تو یہ اٹھائیس ہوتے ہیں۔ جبکہ عموماً قدرتی دانت انسانی منہ میں
بتیس کی تعداد میں ہوتے ہیں۔ چونکہ ڈینٹسٹ کے نزدیک اٹھائیس دانت کھانے پینے کے لئے مکمل ہوتے ہیں۔ اسلئے اتنے ہی دا نت منہ میں بتیس (32) دانتوں کے متبادل پیسٹس کئے جاتے ہیں۔
بعض لوگ تو قدرتی دانتوں کو درد میں علاج کے بجائے یہ سوچ کر نکلوا دیتے ہیں کہ مصنوعی دانتوں کی بتیسی لگوائیں گے۔ لیکن اُن کی امیدوں پر اُسوقت اوس پر جاتی ہے۔ جب انہیں اس سلسلہ میں مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یقینا
”قدرے نعمت بعداز زوال“
ہڈ ی کا گلنا
مجھے مریضوں سے نہیں۔ اُن معالجین سے ضرور گلہ ہے۔ جو مریض کو صحیح طریقہ سے گائیڈ نہیں کرتے۔ بلکہ اچھے بھلے دانت نکلوا کر مصنوعی دانت لگوانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ اسی طرح مریض بھی جتنی محنت اور توجہ بعد کی ان مصنوعی بتیسیوں پر دیتے ہیں۔ اگر اسکا دسواں حصہ بھی اپنے قدرتی دانتوں کی طرف دیتے۔ تو آج اس پریشانی کامنہ نہ دیکھنا پڑتا۔ کیونکہ مسوڑھوں کی ہڈی عمر کے ساتھ ساتھ بیٹھتی چلی جاتی ہے۔ اور نتیجتاً ہر سال دانت مریض کو کچھ کھلے کھلے محسوس ہوتے ہیں۔

منہ میں بچے دانتوں کو بتیسی کی امید پر مت نکلوائیں
اگر آپکے منہ میں چند قدرتی دانت رہ جائیں۔ اور آپ اس انتظار میں ہوں کہ یہ سارے دانت نکلواکر بتیسی لگوائیں گے۔ تو یقینا آپ غلط راستے پر ہیں۔ کیونکہ ان دانتوں پر کراؤن چڑھوا کر ساتھ بتیسی بن جاتی ہے۔ جو کہ دوسری بتیسی کے مقابلے میں دس گناہ زیادہ چبانے کی اہلیت رکھتی ہے۔

دانت نکلوا نے کے بعد بتیسی جلدی لگوانے کے نقصانات
بعض معالج دانت لگوانے کے فوراً بعد مصنوعی دانت لگا دیتے ہیں۔ جنکے دباؤ کی وجہ سے مسوڑھوں کی ہڈی بیٹھ جاتی ہے۔ اسی طرح نکلے دانتوں سے ویسے بھی ہڈی ہر سال کم ہوتی جاتی
ہے۔جسکی وجہ سے مصنوعی دانت کھلے محسوس ہوتے ہیں اور مسوڑھوں کے گوشت میں حرکت کسی بتیسی کو ٹکنے نہیں دیتی۔

نقصانات کا حل
٭ اگر آپ یا آپ کے عزیز واقارب بزرگوں میں کوئی ایسی صورت حال سے دوچار ہے۔ تو انہیں چاہیے کہ ہر سال دانتوں کی ریلائننگ Reliningکرائیں۔ تاکہ نیچے بیٹھنے والی ہڈی کی جگہ نیا میٹریل آسکے

٭ اگر مسوڑھوں کا گوشت بہت ہلتا ہو تو آجکل آپریشن کے ذریعے ان مسوڑھوں کو نئی شکل دی جا سکتی ہے۔
٭ اگر ہڈی بہت بیٹھ جائے تو پھر امپلانٹس فاصلے پر لگا کر Over Denture لگا سکتے ہیں۔ جو اُس بتیسی کو قدرتی دانتوں جیسا سہارا مہیا کر دیتے ہیں۔
دانت نکلوانے کے بعد احتیاط
٭ دانت نکلوادینے کے فوراً بعد دانت نہ لگوائیں۔ بلکہ قدرتی طور پر ہڈی کو اپنی جگہ جانے دیں۔ کیونکہ صحیح مسوڑھوں پر مصنوعی دانت کامیاب رہتے ہیں۔ جبکہ بیٹھے مسوڑھوں والے مریض مسلسل مسائل کا شکار رہتے ہیں
جن کے لئے مندرجہ بالا علاج یا دانتوں کواپنی جگہ فکس کرنے والے پاؤ ڈریا ٹیوب کے علاوہ کوئی راستہ نہیں رہتا۔
مکمل بتیسی میں ناکامی کی وجوہات
مزاج کا چڑچڑاپن
چونکہ مکمل بتیسی عموماً بوڑھے بزرگوں میں لگتی ہے۔ اور اُنکا مزاج بحثیت قرآن
ومن نعمرہ ننکسہ فی الخلق
کے مطابق بچوں کی طرح ہو جاتاہے۔ اسلئے علاج میں وہ زیادہ پیچیدگی سے چڑچڑے ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا لواحقین کو چاہیے۔ کہ وہ انہیں باقاعدگی سے چیک اپ کے لئے معالج کے پاس لے جاتے رہیں۔ تا کہ کسی بھی ممکنہ خرابی کا جلد تدارک کیا جا سکے۔
منہ کی حالت کا ٹھیک نہ ہونا
٭ مکمل دانتوں کی بتیسی ہر آدمی کے لئے ایک جیسی ثابت نہیں ہوتی۔ اس کا انحصار ایک تو بنانے والے پراور دوسرا مریض کے منہ کی حالت پر ہوتا ہے۔
خشک منہ
ایک ایسا شخص جو مختلف بیماریوں کا شکار ہے۔ اور دوسری ادویات استعمال کرتا رہتا ہے۔ تو بعض دوائیں منہ کو خشک کر دیتی ہیں۔اب جبکہ بتیسی کو منہ میں رکھنے کے لئے انسانی تھوک ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تو ایسے شخص کیلئے اسکی کامیابی کے چانسز مشکل ہوتے ہیں۔

جبڑوں کی ہڈیوں کا ٹھیک نہ ہونا
اسی طرح بعض مریضوں میں جبڑوں اورمسوڑھوں کی قدرتی ہڈیاں ابھری ہوتی ہیں۔یا دانت نکلوانے کے بعد ہڈیوں کی نوکیں نکلی ہوتی ہیں۔ ایسے مریضوں کے دانت نکلوانے سے پہلے سرجری کے ذریعے اس صورت حال کا علاج کیاجاتا ہے۔ تاکہ دانتوں کوصحیح بیٹھنے کی جگہ فراہم ہو سکے۔

مسوڑھوں کی ہڈی کا بیٹھا ہوا ہونا
بعض مریضوں میں دانت مسوڑھوں کی بیماری ”پائیریا“ کی وجہ سے ہل ہل کر نکل جاتے ہیں۔ دانتوں کے ہلنے سے مسوڑھوں کی ہڈی گل کر ختم ہو جاتی ہے۔ اب ظاہری بات ہے کہ جب مسوڑھے ہی صحیح نہ ہونگے تو اُس پر یہ دانتوں کی پلیٹ کیسے ٹھہر سکتی ہے۔ یہ مسئلہ عموماً نچلے جبڑے کی ہڈی میں پیش آتا ہے۔
مصنوعی عضو سے کام لینے کے حوصلہ کی کمی:
بتیسی والا مریض چاہتا ہے۔ کہ اسکے دانت اصل دانتوں کی طرح کام کریں حالانکہ یہ قطعی ناممکن ہے کیونکہ جس طرح کسی شخص میں اپنا بازو اور مصنوعی لگا ہوا بازو برابر نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح ان دانتوں سے بھی مریض کواپنے حوصلے بلند کر کے کام
لینے ٹرینگ لینی چاہئے۔ اسکے لئے چھوٹے چھوٹے نوالے۔ منہ کا کم کھولنا وغیرہ وغیرہ اور جو ہدایات ڈاکٹر دے اُس پر عمل کرنا چاہئے۔
ناتجربہ کار معالج کی کوتاہیاں
بعض دفعہ نا تجربہ کار ڈاکٹر دانت بنانے میں خامیاں چھوڑ جاتے ہیں۔
فرنیم چھوڑدینا
جیسے انسانی منہ میں جھلیاں جنہیں میڈیکل اصطلاح میں فرنیم(Frenum)کہتے ہیں۔ انکی حرکت کی جگہ نہیں چھوڑتے نیتجتاً یہ جھلیاں دوران حرکت بتیسی کو منہ میں ٹکنے نہیں دیتیں۔

اُلٹی آنا
بعض ڈاکٹر پلیٹ کوا تنا پیچھے لے جاتے ہیں۔ کہ یہ نرم تالوسے جا کر ٹکراتی ہے۔ انسان جب بولتا ہے تو نرم تالو حرکت کرتا ہے۔ اور اسطرح بتیسی نیچے گر جاتی ہے۔ دوسرا نرم تالو پر قدرت نے الٹی کی اعصابی تاریں (نروز) رکھی ہیں۔ آپ اگر اُسکو انگلی لگائیں تو فوراً اُلٹی آئے گی۔ اسی طرح جب بتیسی کی بڑھی ہوئی پلیٹ وہاں ٹکراتی ہے۔ تو مریض فوراً الٹی کی شکائیت کرتا ہے
ہینگ آرٹی کولیٹر
عموماً عطائی لوگ اور اکثر لیبارٹریز میں ٹیکنیشن دانتوں کی بتیسی کو ”ہینگ آرٹی کولیٹر“پر ترتیب دیتے ہیں۔ جس میں دانتوں کو صرف منہ کھولنے اور بند کرنے کی حرکت پر سیٹ کیا جاتاہے۔ جبکہ انسانی منہ میں دانت کھولنے اور بند کرنے کی حرکت کے ساتھ نچلے جبڑے کے دانت سائیڈوں پر بھی افقی حرکت کرتے ہیں۔
اسلئے عموماً ”ہینگ آرٹی کولیٹر“پر سیٹ کئے ہوئے دانت نچلے جبڑے کی اس حرکت کی مطابقت نہیں کر سکتے اوربتیسی ناکام ہو جاتی ہے۔
اسلئے تجربہ کار ڈاکٹرز بتیسی میں دانتوں کی سیٹنگ کو”ہنو آرٹی کولیٹر“ جس میں نچلے جبڑے کی سب حرکات کا خیال رکھا جاتا ہے۔ سیٹ کرتے ہیں۔ اسطرح یہ بتیسی کامیاب رہتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ عام بتیسی اور تجربہ کار ڈاکٹر کی بنائی ہوئی بتیسی میں فیس کا بھی فرق ہوتا ہے۔
جبڑوں کی ہڈیوں کے درمیان قدرتی فاصلوں کا خیال نہ رکھنا
عطائی یا ناتجربہ کار ڈاکٹر عموماً جبڑوں کی ہڈی کے درمیان اُس قدرتی فاصلے کا خیال نہیں رکھتے جو مریض میں پہلے قدرتی دانتوں کی شکل میں تھی۔
جبڑوں کے درمیان قدرتی فاصلہ نہ رکھنے کے نقصانات پچھلے باب میں ملاحظہ فرمائیں۔کہ کس طرح اس فاصلے کو اونچا یا کم کر نے سے مریض کو پٹھوں میں کھنچاؤ کے علاوہ بے شمار مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اسطر ح اور بے شمار وجوہات مکمل بتیسی کی ناکامی میں ہوتی ہیں۔
جن پر ایک تجربہ کار مستند ڈاکٹر آسانی سے قابو پا لیتا ہے۔ اور انکی تفصیلات قارئین کوسمجھانے کی ضرورت نہیں۔
اتارنے چڑھانے والے دانتوں میں
عام تکالیف اوراُن کا حل
منہ میں زخم
ایک عام تکلیف جس میں عموماً چند اتارنے چڑھانے والے دانت یا اتارنے چڑھانے والی نئی بتیسی لگا کر لوگ مبتلا ہوتے ہیں۔ اسکا ذکر کرنا انتہائی اہم ہے۔ وہ یہ کہ جس طرح نیاجو تا پہنتے وقت آدمی کو احساس نہیں ہوتا۔ کہ کہیں سے دباؤ دے رہا ہے لیکن ایک دودفعہ استعمال کے بعد اُس جگہ سے پاؤں دردکرنا شروع کر دیتا ہے۔ جس جگہ جوتا زیادہ دباؤ دیتا ہے یا چبھتا ہے۔
بعینہ اتارنے چڑھانے والے دانت بعض مریضوں میں ایک دو دنوں کے استعمال سے مسوڑھوں پر زیادہ دباؤ کی وجہ سے سرخی، درد یا زخم بنا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر ایسے دباؤ دینے والے پوائنٹس کو ٹھیک کر دیتا ہے۔

زخمی کرنے والی دانتوں کی پلیٹوں کا حل
لیکن اسکا علاج خود مریض بھی کر سکتا ہے۔ وہ اسطرح کہ بتیسی اتار کے انگلی کو منہ میں پھیرے اور جس جگہ بتیسی کی پلیٹ نے زخم بنایا ہے اُس جگہ کا تعین کرے۔ اسکے بعد عام پاؤڈرمیں گیلی انگلی لگا کر وہا ں لگائیں۔ اب بتیسی کو گیلا کر کے منہ میں لگانے سے پاؤ ڈر منہ سے پلیٹ پر لگ جائے گا۔ اس پوائنٹ کوسینڈ پیپرلے کر تھوڑا سا گھسالیں۔ اس طرح آپ خود بھی اس مسلئے کا حل کر سکتے ہیں۔
منہ میں نہ ٹکنے والی بتیسی کا حل
٭ دانتوں کو چپکانے والے ٹیوبس اور پاوڈرز
آجکل نہ ٹکنے والی بتیسی کے لئے بازار میں ایسی ٹیوبس اور پاوڈر ز بھی آگئے ہیں۔ جن سے یہ بتیسی منہ کے اندر ٹشو سے
چمٹ جاتی ہے۔
٭ ربڑ سکشن اور اُس کا نقصان
پہلے وقتوں میں بلکہ اب بھی بعض ڈینٹسٹ ایک ربڑ سکشن لگا دیتے ہیں۔ جس طرح بوتل کے ڈھکنے کو زبان میں رکھ کر اُس سے ہوا کھنچ لیں تو یہ منفی دباؤ کی وجہ سے زبان سے چمٹ جاتاہے۔ اسی طرح اس ربڑ کے ٹکڑے پرمنفی دباؤ ہوتا ہے۔ جو کہ پلیٹ کو تالو سے جوڑے رکھتا ہے۔ لیکن جدید ریسرچ اس کی حوصلہ شکنی کرتی ہے۔ کیونکہ منفی دباؤ کی وجہ سے تالوکی ہڈی کے اندر تبدیلی کا عمل شروع ہو جاتاہے۔
اور اسطرح وقتی فائدے کے لئے مریض کو کافی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔اس طرح کی سکشن بنانے کے لئے آجکل ربڑ کے علاوہ اور بھی طریقے ایجاد ہو چکے ہیں۔ جو کہ کم نقصان دہ ہیں۔
٭ ایک قیمتی مشورہ
میرے خیال میں اب جو ٹیوبس اور پاؤڈر ز چپکانے والے آگئے ہیں۔ ان کی موجودگی میں ربڑ لگانا کوئی عقلمندی کی بات نہیں۔ اول تو صحیح بنے ڈینچرکے کنارے چونکہ سیل ہوتے ہیں۔ اسلئے اسکے نہ ٹکنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ لیکن بعض ایسے مریض جنکے مسوڑھے بہت بیٹھ چکے ہوں۔ یا مسوڑھے ہلتے ہوں۔ یا منہ کی دیگر بیماریوں کی وجہ سے پرابلمز ہوں۔ یہ پاؤڈر اور کریم انکے لئے نعمت غیر مترقبہ ہیں۔
٭ کیونکہ ایک تو یہ نیچے مکمل نرم کشن بنا لیتے ہیں۔
٭ دوسرا بتیسی کی حرکت کو روک کر مسوڑھوں کو صحتمند رکھتے ہیں۔
٭ تیسرا مریض کے اندر اعتماد پیدا ہو جاتاہے۔
ابتد ا میں منہ کے پٹھے بتیسی کو باہر کی چیز سمجھتے ہوئے باہر نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن کچھ عرصہ بعد منہ کے مسلز انکو سنبھالنا سیکھ جاتے ہیں اور لاشعوری طور پر بھی انکو گرنے نہیں دیتے۔ اسی لئے شروع شروع میں ڈاکٹر اتانے چڑھانے والے دانتوں کو رات سوتے وقت اتارنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ کچھ عرصہ بعد اگر لگا رکھیں تو کوئی حرج نہیں۔
کھلی اور ہلنے والی بتیسیوں کے نقصانات اور اُنکا حل
ہم نے کئی پرانے مریضوں میں انتہائی کھلی بتیسی ہونے کے باوجود کامیابی سے خوراک کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔ اگر چہ یہ کھلی بتیسیاں ان کے مسوڑھے کی ہڈیوں کو تیزی سے تباہ کر رہی ہوتی ہیں۔ لیکن وہ بے فکر ہوتے ہیں۔اور اس وقت ڈاکٹر کے پاس آتے ہیں۔ جب ہڈی کافی گل کر بیٹھ جاتی ہے۔ اور بتیسی زخم بنانا شروع کر تی ہے۔اسلئے کہ مکمل بتیسی کے مریضوں کوچاہیے کہ ہر سال ڈاکٹر سےReliningکروالیں۔ تاکہ جتنا حصہ مسوڑھوں کا کم ہوا ہے اس میں میٹریل ڈال کر دوبارہ فٹ کر دیا جائے

بتیسی کا ٹوٹ جانا
اگر بتیسی کی پلیٹ صحیح طریقہ سے مریض کے تالو اور مسوڑھوں پر نہ بیٹھے۔ یا مسوڑھون کی ہڈی بیٹھ جانے کی صورت میں کھلی ہو جائے۔ تو انکے درمیان خلا پیدا ہو جاتا ہے۔ اوریہ چبانے کی قوت کے مقابلے میں لچک کھا کر ٹوٹ جاتے ہیں۔
بعض مریض دانت اتار کر کسی محفوظ جگہ نہیں رکھتے اور اس بے احتیاطی سے بتیسی کوئی چوٹ لگنے سے ٹوٹ جاتی ہے۔
میں نے اپنی پریکٹس میں کئی ایسے لوگوں کو ایلفی اور دیگر چیزوں سے یہ دانت جوڑتے دیکھا ہے۔ حالانکہ ایک تو یہ میٹریل چبانے کی قوت سے دوبارہ ٹوٹ جاتے ہیں۔ دوسرا یہ کیمیکلز انسانی جسم کے لئے انتہائی نقصان دہ ہوتے ہیں۔
اسلئے ہمیشہ ٹوٹی بتیسی کو کسی ڈاکٹر سے جڑوانا چا ہیے تاکہ وہ دوبارہ ماپ لے کر اپنی پسندیدہ لیبارٹری کو مرمت کے لئے بھجوائیں۔ تاکہ کوئی بھی ایسا فرق نہ رہ جائے جس سے مریض کے منہ کو نقصان ہونے کا اندیشہ ہو۔
مصنوعی دانتوں کی صفائی
ہمیشہ اتارنے چڑھانے والے دانتوں کی صفائی اتار کرکرنی چاہئے اور برش، ٹوتھ پیسٹ کے ساتھ صفائی کرنے کے بجائے آجکل مارکیٹ میں ڈینچرز کو صاف کرنے کے لئے
خصوصی دوائیں اور خصوصی برش آچکے ہیں۔ اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کے بعد وہ صفائی کے لئے استعمال کریں۔
اگر بجٹ اجازت دے تو آجکل ایک دانت سے لے کر مکمل بتیسی تک کے مریضوں میں ہڈی کے اندر مصنوعی جڑیں جنہیں Dental Implants ڈینٹل امپلانٹس کہتے ہیں۔ لگا کر اوپر مصنوعی دانت لگا دیئے جاتے ہیں (جن کی تفصیل اگلے باب میں ملاحظہ فرماسکتے ہیں)وہ لگوائیں۔

اکثر لوگ دوران وضو یا دوران غسل اتارنے چڑھانے والے دانت نہیں اُتارتے نہ اسکے بارے میں مسئلہ پوچھنے کی زحمت کرتے ہیں۔
الاماشاء اللہ۔۔ الحمد للّلہ بعض احباب اس بارے میں بہت فکر مند ہوتے ہیں۔ اسکے بارے میں تفصیل اگلے باب دانتوں اور منہ کی بیماریوں کے علاج اور فقہی مسائل میں ملا حظہ فرمائیں۔
فوری مصنوعی دانت
(Immediate Denture)
قارئین کی اکثریت نے Immediate dentureیعنی”فوریً مصنوعی دانتوں“کی اصطلاح سنی ہو گی۔ ہمارے پاس بھی شاذونادر مریض آ کر ایسے مصنوعی دانتوں کا تقاضا کر تے ہیں۔ تو قارئین کے علم کے لئے عرض ہے۔ کہ ایسے دانت صرف سامنے دانتوں کی جگہ لگائے جاتے ہیں۔خاص کر اُن لوگوں کے لئے جنکے سامنے کے دانت بچنے کی کوئی صورت نہ رہ گئی ہو۔ لیکن عوام الناس کے سامنے نکلے دانتوں کے ساتھ سامنا نہ کر سکتے ہوں۔ ایسے مریضوں کے لئے دانت نکالنے سے پہلے مصنوعی دانت تیارکیے جاتے ہیں۔ اور دانت نکال کر یہ مصنوعی دانت جن کی پلیٹ پر زخم
ٹھیک کرنے والی دوا لگی ہوتی ہے۔ لگا دیئے جاتے ہیں۔
فوائد
٭ یہ دانت مسوڑھوں پر دباؤ نہیں ڈالتے اور صر ف دکھانے کے لئے ہوتے ہیں۔ چبانے یا کھانے کے لئے نہیں ہوتے۔ جب جبڑے کی ہڈی قدرتی طور پراپنی جگہ چلی جاتی ہے۔ تو پھر ان دانتوں کو ہٹا کر نئے دانت لگا دیئے جاتے ہیں۔
٭ فوری ڈینچر کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے۔ کہ جس وقت ماڈل سے مریض کے اپنے دانتوں کو ہٹایا جاتاہے۔ تو جو مصنوعی دانت لگائے جاتے ہیں۔ اسکے مطابق لگانے میں بہت زیادہ مدد ملتی ہے۔ اور نتیجتاً مصنوعی دانت لگنے کے بعد بالکل چہرے کی بناوٹ اور اظہار پر فرق نہیں پڑتا۔
٭ پلیٹ کے اندر زخم ٹھیک کرنے والی دوا سے زخم جلدی بھر جاتاہے۔ اگرچہ زخم جلدی بھرنے اور سکڑنے سے ایک ہفتہ بعد ان دانتوں کو ایڈجسٹ کروانے کے لئے دوبارہ ڈاکٹر کے پاس آنا پڑتا ہے۔

منہ میں بچے دانتوں پر ڈینچر
(Over Denture)
اوورڈینچر کیا ہے؟
عموماً لوگ جب تین چار دانت رہ جائیں تو ان کو نکلوا کربتیسی لگانے کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں
جدید سائنس ایسے رجحان کی حوصلہ شکنی کرتی ہے۔ کیونکہ آجکل تحقیق سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے۔ کہ آپکے منہ میں اگر چند جڑیں بھی رہ جائیں تو یہ منہ میں ڈالے جانے والی چیزکا وہ احساس کر لیتی ہیں جو مصنوعی چیز نہیں کر سکتی۔ اسلئے اب اس بات پر زور دیا جاتا ہے۔ کہ بجائے ان جڑوں کو نکلوانے کے ان کو چھوٹا کر کے انکی روٹ کینال کر دی جائے۔اورپھر اسکے اوپر مصنوعی بتیسی لگا دی جائے۔ ڈینچر کی کار کردگی کا انحصار رہ گئی جڑوں کی صحت اور مقام پر ہوتاہے۔ اسکے بے شمار فوائد
کے علاوہ چند یہ ہیں۔
٭ ایک تو یہ پڑی ہوئی جڑیں مسوڑھے کی ہڈی کو بیٹھنے نہیں دیتیں۔ جب کہ بغیر جڑوں والے مسوڑھے ہر سال کچھ نہ کچھ بیٹھتے رہتے ہیں۔
٭ یہ کسی چیز کی موٹائی،سختی وغیر ہ کا احساس بغیر جڑوں والی بتیسی سے کئی گنا ہ زیادہ رکھتے ہیں۔
٭ نیچے پڑی جڑیں مصنوعی بتیسی کے لیے سہارے کا کام کرتی ہیں۔ اور اسکو ہلنے سے بچاتی ہیں۔
اگر جبڑوں کے دونوں طرف دو دو دانت یعنی ایک کینائن اورایک پری مولر ہوں تو کامیاب ترین اورڈینچر بنایا جاسکتا ہے۔
ڈینٹل امپلانٹس
مصنوعی دانتوں کا ارتقاء

پچھلے صفحے میں مصنوعی دانتوں کی مختلف اقسام کے بارے میں تعارف کرایا گیا۔ ڈینٹسٹری سے متعلقہ سائنس دان ہمیشہ اسی تگ و دو میں لگے رہتے ہیں کہ اس قسم کے مصنوعی دانت ایجاد ہو سکیں جو ظاہر طور پر بھی قدرتی دانتوں کا نعم البدل ہو اور کام
کے لحاظ سے بھی قدرتی دانتوں کا متبادل ثابت ہو سکیں۔
اتارنے چڑھانے والے دانت
پہلے پہل لوگ عموماً اتارنے چڑھانے والے دانت لگواتے تھے۔ جو اگر چہ سستے تھے۔ لیکن ان میں بے شمارمسائل کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ جن کا ذکر متعلقہ عنوان کے تحت بیان ہو چکا ہے۔
شخصیت میں کمی کا نفسیاتی اثر
ایک اہم خامی جو ان دانتوں کے اندر تھی وہ دانتوں کی کمی کا احساس تھا۔کیونکہ شخیصت کے اند رنفسیاتی کمی کا احساس رہنا ایک قدرتی بات تھی۔ ہمارے ایک جرنیل صدر صاحب تقریر کرتے تو جوش میں آکر اپنے مصنوعی دانتوں کی پلیٹ باہر رکھ دیتے۔ کہ انکے لاشعور کے اندر یہ بات تھی کہ شاید زیادہ جوش میں یہ خود بخود ہی نہ اتر جائیں۔ اور واقعی اتارنے چڑھانے والے دانتوں اور مکمل بتیسیوں میں تو جوش کے عالم میں یا اونچا بولنے میں یا کھانسے میں تو یہ تماشے سر عام دیکھے جاسکتے ہیں۔ اس طرح ایک قوال نے قوالی کرتے ہوئے زور لگایا تو اسکے مصنوعی دانت باہرآگئے۔ اُس نے دوبارہ منہ میں دانت لگا کر وہیں سے مصرع شروع کیا جہاں سے دانتوں کی وجہ سے روکنا پڑا۔ یہی واقعہ دو تین دفعہ ہوا تو نیچے سے کسی منچلے نے آواز لگائی کہ جناب کیسٹ بدل لو یہ پھنس جاتی ہے۔
گویا ایسے دانت بعض دفعہ اتارنے چڑھانے والی وگ کی طرح بجائے شخصیت کے وقارکو بحال کرنے کے اسکے مذاق کا باعث بن جاتے ہیں۔
فکس دانت
اسی مصیبت سے چھٹکار ا حاصل کرنے کے لیے فکس دانتوں کی ٹیکنالوجی جسے برج کہتے ہیں۔ ایجاد ہو ئی۔ لیکن ظاہر ہے کہ یہ تبھی کامیاب ہو سکتی ہے۔ جب کچھ مضبو ط دانت سہارے کے لیے منہ میں موجود ہوں۔ تاکہ انکے اوپر کو ر چڑھا کر اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اُٹھایا جا سکے۔
مگر
٭ جس کے منہ میں کوئی دانت ہی نہ ہو وہ کیا کرے۔
٭ جس جگہ سے دانت نکلے ہوئے ہوں اُس جگہ ہڈی کو پیچھے جانے سے کیسے روکا جائے۔
٭ اسی طرح وہ خامیاں جو ابھی تک استعمال ہونے والی مصنوعی دانتوں میں تھیں۔ اُنکو کیسے دور کیا جائے۔
جدید ترین ٹیکنالوجی۔۔۔۔ امپلانٹس
یقیناقارئین اس نئی ٹیکنالوجی سے باخبر ہو نگے۔ یا یہ جان کروہ خوش ہو نگے کہ اب مارکیٹ میں ایک بے ضرر دھات ”ٹائی ٹینیم“ سے بنی پیچ نما جڑیں آچکی ہے۔ جنہیں امپلانٹس کہتے ہیں۔ان کو اس طرح سمجھا جا سکتا ہے۔ کہ جسطرح ایک گنجا شخص پہلے مصنوعی بال اتارنے چڑھانے والی وگ لگواتا تھا۔ پھر وگ کو دوسرے بالوں کے ساتھ جوڑنے کی ٹیکنالوجی آئی اور آج سر کے ایک مقام سے بالوں کی جڑوں کو نکال کر گنجی جگہ پر لگا دیا جاتاہے۔
جو قدرتی بالوں کی طرح ہوتے۔اور انکے اترنے یا خراب ہونے کا کوئی ڈر نہیں ہوتا۔ اور اُس شخص کے اندر ایک اعتماد کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔
اسی طرح اتارنے چڑھانے والے دانتوں کے ساتھ جہاں مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ (جنہیں پچھلے صفحات میں متعلقہ عنوان کے تحت بیان کیا گیا ہے) ان تمام صورتوں میں یہ Implantsامپلانٹس سائنس کی حیرت انگیز ایجاد ہیں جسکی وجہ سے مریض اپنی کوتاہیوں اور لا پر واہیوں کی وجہ سے قدرتی دانتوں کے ہونے والے ضیاع کا نعم البدل حاصل کر سکتا ہے۔

ایک دو یاچند دانتوں کے لئے امپلانٹس
اسلئے اب ایک، دو یا چند مصنوعی دانتوں کیلئے بھی انہی جڑوں کو فوقیت دی جاتی ہے۔ کیونکہ ایک تو ساتھ والے دانتوں کو نہیں گھسایا جاتا اور انکی قدرتی ساخت بر قرار رہتی ہے۔ دوسرے نکلے ہوئے دانت والی جگہ کی ہڈی ان امپلانٹس کی وجہ سے نیچے نہیں بیٹھتی اور چہرے کی قدرتی بناوٹ اور تر و تازگی ہمیشہ برقرار رہتی ہے۔

مکمل بتیسی کو اوورڈینچر بنانے کے لئے امپلانٹس
مکمل بتیسی والے مریضوں کے لئے تو گویا یہ ایک نئی زندگی کی نوید ہے۔ جس میں بتیسی کو سہارا دینے کے لئے بغیر دانت والے مسوڑھے پر دو چارجگہ پر جڑیں لگا دی جاتی ہیں۔ اور مصنوعی دانتوں کی بتیسی میں سوراخ بنا کر اسطرح فٹ کر دیا جاتا ہے۔ جس طرح ٹچ بٹن لگتے ہیں۔
فوائد
٭ مریض کو ایک اعتماد مل جاتا ہے اور وہ خود اعتمادی سے اپنے دانتوں کو استعمال میں لاتا ہے۔
٭ کھل کر ہنستا اور باتیں کر تا ہے۔
عموماً لوگ امپلانٹس لگوانے سے اسلئے ڈرتے ہیں۔ کہ وہ کسی سرجری کے عمل سے گزرنا نہیں چاہتے۔ حالانکہ اس عمل میں کسی قسم کا درد نہیں ہوتا۔ اور مریض اُن بے شمار نقصانا ت سے جو اسے دانت نہ لگوانے کی صورت میں اُٹھانے پڑتے ہیں سے بچ جاتاہے۔
ذیل میں ایک دانت سے لے کر چند دانتوں تک کے امپلانٹس اور اسی طرح فل بتیسی میں سہارا دینے کے لئے امپلانٹس کی ٹیکنیکس کو تصاویر کے ذریعے واضح کر نے کی کوشش کی گئی ہے۔




























































