روحانی علاج اوردولت یقین
مذہبی رہنما اور بزرگ لوگ جہاں دم اور تعویذات سے دیگر بیماریوں کا علاج کرتے رہے ہیں۔ا ور اب بھی کرتے چلے اۤ رہے ہیں۔ دانتوں کے درد کے لئے بھی مختلف عملیات کیے جاتے ہیں۔ روحانی علاج کتنا موثر ہوتا ہے۔ اسکا انحصار یقین کی دولت پر ہے۔ میرے ایک دوست صوفی محمد افسر کی دوکان پر بے شمار کیلیں ٹھونکی ہو”ی تھیں۔ پوچھنے پر پتہ چلا کہ یہ دانت کا درد ٹھیک کر نے کیلئے ایک خاص عمل ہے۔ جس میں شمعونی کے داأروں کے اندرمیخیںپیوست کیجاتی ہیں۔ اور ایک خاص عرصے کیلئے درد بند ہو جاتا ہے۔
بعض بزرگان دین کے اقوال سے یہ بات ملتی ہے۔کہ عشاأ کے وتر وں کی پہلی رکعت میں سورۃ النصر اور دوسری میں سورۃ اللھب اور تیسرے میں سورۃ الاخلاص پڑھنے سے دانتوں کی بیماریوں سے کافی حد تک محفوظ رہا جا سکتا ہے۔ اسی طرح حضورؐ کے ایک جانثار حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالی عنہ جنہوں نے حضور ؐ کی محبت میں اپنے سب دانتوں کوتوڑ دیا تھا۔ کہ جب غزوہ احد میں حضور ؐ کے دندان مبارک شہید ہو”ے توقرن کے اندر حضر ت اویس رضی اللہ تعالیٰ عنہنے اس واقعے کی خبرپا کر کہ حضور ؐ کے دندان مبارک شہید ہو”ے ہیں اۤپنے اپنے دانتوں کو توڑڈالا ۔ اورکہنے لگے کہ جب میرے اۤقا کے دانت شہید ہو”ے ہیں تو میرے کیوںکر سلامت رہیں۔حضورؐکے اس عاشق صادق کیلئے اگر کو”ی دو رکعت نماز نفل پڑھ کر ایصال ثواب کرے تو اللہ تعالیٰ اُسے دانتوں کی بیماریوں سے محفوظ رکھے گا۔

نفسیاتی دردکی حقیقت
بعض پڑھے لکھے لوگ روحانی علاج کی سر ا سر مخالفت یاانکار کر دیتے ہیں۔حالانکہ ڈاکٹرز اس بات پر متفق ہیں کہ انسانی جسم میں بعض ایسے درد بھی ہوتے ہیں جنکی بظاہر کو”ی وجہ نظر نہیں اۤتی ۔ اور انہیں Psychogenic Pain(نفسیاتی درد ) بھی کہا جاتا ہے۔ میڈیکل میں اسی درد کے لئے خصوصی اصطلاح Phantom Tooth Painاستعمال ہوتی ہے Psych”ساأیک” کا ترجمہ ڈکشنری میںیہ ”روح” سے کیا گیا ہے۔۔ گویا ساأنس بھی ایسے دردوں کا روحانی طور پر ہی علاج کرتی ہے۔ اسی طرح کسی دواأی کے اثرات کا(Trial)۔ٹراأیل کرتے ہو”ے ساتھ ساتھ اس دواأی کا (Placebo)پلیسی بواثر بھی دیکھا جاتا ہے یعنی اُسی گولی کی شکل کی گولی دی جاتی ہے جس میں دوا نہیں ہوتی ۔ اور (Data)ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ اس گولی کا بھی نفسیاتی یا روحانی اثر ہوتا ہے۔
نام نہاد عاملین
بحیثیت مسلمان، ہماری سب سے بڑی روحانی خوراک قراۤن حکیم ہے۔ تو پھر کیوں اس سے علاج کے ذریعے شفا نصیب نہ ہو گی ۔ البتہ پڑھنے والے کایقین اور پڑھوانے والے کے اعتقاد کا بہت عمل دخل ہوتاہے۔یقین ایک ایسی چیز ہے جس کے بارے قلندر لاہوری حضرت علامہ اقبال ؓ فرماتے ہیں۔
نگا مرد مون سے بدل جاتی ہے تقدیر یں
جو ہو ذوق یقین پیداتو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
دیکھیں اسلحہ کی دوکان سے کارتوس ملتے ہیں۔ ایک 12نمبر جو چڑیوں وغیرہ کے شکارکے لیے ایک SGیا LGشیر کے شکار کے لئے ۔ اب اۤدمی LGوالا کارتوس لے کر ہاتھ سے کسی کو مارے اور کہتا پھرے کہ دیکھیں کمپنی کہتی ہے کہ اس سے شیر بھی مر جاتا ہے۔ اس سے تو ذرا بھی زخم تک نہ پڑا تو کہنے والا کہے گا۔ اوبے وقوف اگر کارتوس کا کارنامہ دیکھنا ہے تو کس بندوق کا منہ استعمال کر ۔ اسی طرح روحانی علاج میں پڑھنے اور پڑھانے والے کی منہ والی بندوق کام کرتی ہے
میرا مقصد کسی بحث میںپڑنے کا نہیں ہر اۤدمی کو اپنی سوچ کے مطابق عمل کرنے کاحق حاصل ہے۔ مخالفین کی مخالفت بھی شاید اس وجہ سے ہے۔ کہ جسطرح ظاہر ی علاج میں عطاأی اور دھوکاباز لوگ گھس اۤءے ہیں۔ اسطرح روحانی علاج میں بھی بڑے بڑے دھوکا باز روحانی معالجین کے نام پرکلنک کا ٹیکہ ہیں
انسان- روح اور جسم کا مرکب
یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جسم اور روح سے مرکب فرمایا ہے۔ اسلئے جسمانی بیماریوں کے اثرات روح پر پڑتے ہیںاور روحانی کیفیات کا اثر بدن پر پڑتا ہے ۔ایک اۤدمی روحانی طور پر خوش ہو ۔ تو بے شمار تکالیف کا بھی اُسے احساس نہیں رہتا ۔ گویا وہ جسمانی طور پر اپنے اۤپ کو اچھا محسوس کرتا ہے۔ اسی طرح جسمانی طور پر صحت اچھی ہو تو روحانی طور پر اپنے اۤپ کو اچھا محسوس کرتا ہے۔اور خوشی محسوس ہوتی ہے اسی وجہ سے روحانی علاج انسان کی روحانیت پر اثر انداز ہو کر جسمانی دردوں سے نجات کا سبب بنتا ہے۔ لیکن بیماری کی اصل وجہ کو دور نہ کیا جاأے تو دوبارہ یہی کیفیت عود کر اۤتی ہے۔
شافی مطلق اللہ تعالیٰ ہے
بیماریوں کا علاج روحانی وساأل کے ذریعے ہو یا مادی وساأل کے ذریعے دونوں صورتوں میں شافی مطلق اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اس ضمن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس واقعہ کا ذکر بے جا نہ ہوگا۔ کہ ایک دفعہ اۤپکے شکم مبارک میں درداُٹھاتو اۤپکے پاس ایک حکیم بیٹھے ہو”ے تھے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ فلاں بوٹی کو استعمال کیا جاأے اۤپ نے فرمایا کہ شفاأ دینا تو اللہ کا کام ہے۔ بوٹی کا نہیں اور درد کو اۤرام نہ اۤیا تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا۔ اے موسی یہ شخص ٹھیک کہتا ہے کہ اس بوٹی میں پیٹ کے دردکیلئے اۤرام ہے۔ اۤپ نے بوٹی کو استعمال کیا اور درد سے اۤرام مل گیا مگر ایک دفعہ پھرجب اسی طرح درد شروع ہوا تو اۤپنے پھر وہی بوٹی استعمال کی لیکن اۤرام نہ اۤیا۔ جب اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہو”ے تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا۔ اے موسیٰ ٹھیک ہے ۔ کہ یہ بوٹی درد شکم کے لئے مو” ثر ہے لیکن اس کے اندر اثر تو میں نے رکھنا ہے۔ پہلی دفعہ جب تم نے بوٹی کو بطور وسیلہ استعمال کیا توتمہاری نگاہ میرے اوپر تھی اور دوسر ی دفعہ تمہاری نگاہ براہ راست بوٹی پر گئی تو میں نے اُس میں سے تاثیر اٹھا لی
سبحان اللہ ! انبیاأے کرام ؑ کے واقعات امت کیلئے سبق ہوتے ہیں۔ ورنہ وہ لوگ تو محبوبانِ خدا ہوتے ہیں۔ اورا نکے نام کے صدقے بیماریا ں دور ہوجاتی ہےں۔
اس ساری بحث کا مقصد یہ ہے کہ اسلام ہمیں علاج کے لئے باقاعدہ وساأل اختیار کرنے کا درس دیتا ہے۔ لیکن ان وساأل کے اندر شفاأ کیلئے روحانی طریقہ کار اور اللہ سے مدد ہی ان وساأل کی روح ہے۔ اسی لئے نسخہ لکھنے سے پہلے ایک مسلمان ڈاکٹر ” ہو الشافی ” لکھ کر یہ اقرار کرتا ہے۔ کہ جتنی دواأیں میں لکھ رہا ہوں یہ وسیلہ ہے۔
اور اس کے اندر شفا ڈالنا میرے اللہ کا کام ہے۔ اوریقین جانئے میں نے اپنی 30تیس سالہ( Practice)پریکٹس کے اندراسے اتنا زیادہ مئوثر پایا کہ بیان سے باہر ہے۔ بعض دفعہ بڑے بڑے( Specialist)سپیشلسٹ بھی کسی معمولی سی بیماری کےعلاج میں معذور نظر اۤتے ہیں۔ اس لیے میں اپنے مریضوں کو ہمیشہ مشورہ دیتا ہوں کہ کو”ی بھی علاج کروانے سے پہلے لازماً طور پر پڑھیں۔
دُعاأے ماثورہ
اللّٰھم اشف انت شافی لا شفاأ’ الاشفا ء ک شفاأ لایغادرسقما۔(دُعاأے ماثورہ)
ایک ذاتی واقعہ
میری پیشہ ورانہ زندگی بہت سے غیر معمولی واقعات سے بھری پڑی ہے۔ مگر مناسب حال یہاں ایک واقعہ کا ذکر کر نا چاہوں گا۔ کہ ایک رات مطالعہ دوران میں نے کیمسٹری کے چند صفحات پڑھے۔ جن میں(Galvanic Action)گیلونک ایکشن کے بارے میں تحریرتھا۔ ساأنس کے طالب علم جانتے ہیں کہ جب کبھی کسی ایسے ماأع جیسے پانی وغیرہ جو الیکڑو لاأیٹ ہو(یعنی جس سے بجلی گزر جاأے )دو مختلف دھاتوں کی پلیٹس رکھیں۔ اور ساتھ تار لگاأیں ۔ توایک کرنٹ پیدا ہوتاہے۔ کرنٹ کے پیدا ہونے کے اس عمل کو گیلوانک ایکشن کہتے ہیں ۔
اگرچہ یہ تھیوری میں نے (FSc)ایف ایس سی میں پڑھی تھی۔ ظاہری بات ہے کہ سالوں پہلے پڑھی ہو”ی بات انسانی ذہن بھلا دیتا ہے۔ اور وہ بات جو تازہ تازہ پڑھی ہو ذہن میں رہتی ہے۔ صبح کے وقت سب سے پہلے ایک مریض میرے پاس اۤیا ۔ جس کے ہاتھ میں نسخوں کی ایک فاأل پکڑی ہو”ی تھی۔ اُس نے بتایا جب میں کو”ی چیز چباتا ہوں تو مجھے کرنٹ سا لگتا ہے۔ کرنٹ لگنااعصابی تاروں کی ایک خصوصی بیماری ہوتی ہے۔ جس کے متعلق تفصیل (درد کے باب میں لکھی ہو”ی ہے)۔ سب ڈاکٹروں نے یہی مرض تشخیص کی ہو”ی تھی۔ اور اس بیماری کی مخصوص دواأیں تجویز کی ہو”ی تھیں۔ میں نے جب مریض کے منہ میں دانتوں کا معاأنہ کیا تو اوپر کے دانت میں سونے کی بھراأی ہو”ی پڑی تھی۔ اور نیچے اُس کے مقابل دانت میں چاندی کی بھراأی ہو”ی پڑی تھی۔ سونا اور چاندی ایسی دھاتیں ہیں کہ بجلی سب سے زیادہ اۤسانی سے ان میں سے گزرتی ہے۔ اب جب مریض ان دانتوں کو ملاتا تھا۔ تو گیلوانک ایکشن کے ذریعے تھوک اُس ماأع کا کام کرتا ۔ جس سے کرنٹ گزرتی ہے۔ اور مریض کو ایک بجلی کی شاٹ سی محسوس ہوتی۔ فوراً میرے ذہن میں رات والا پڑھا ہوا مضمون جھماکے کی طرح اۤیا اور میں نے نیچے دانت سے چاندی کی فلنگ نکال کر ایک ایسے( Cement)سیمنٹ کی فلنگ کی جس سے کرنٹ نہیں گزرتا اور مریض کو دانت ملا کر چبانے کا کہا۔ اب تکلیف ختم ہو چکی تھی۔ لیکن مریض مطمئن نہیںتھا۔ اُس کے خیال میں میں نے اُس کے دانت کو مشین کے ساتھ سُن کر دیا تھا۔ میں نے کو”ی دواأ نہ لکھی ۔ اور مریض کو پانچ دن بعد اۤنے کو کہا ۔ پانچویں دن مریض مٹھاأی اور ڈھیر دںدعاأوں کے ساتھ اۤیا۔ اور اۤتے ہی سوال کیا کہ اۤپ نے میرے اس درد کے ساتھ کیاکیاتھا۔ میں نے جواباً اُس سے پوچھا کہ اۤپ نے کیا کیاتھا۔ اُس نے کہاکہ میں نے اس رات رو رو کر اللہ سے شفاأ کی دعا مانگی تھی۔ کیونکہ ہر طرح کا ( X-Ray)ایکسرے بتاتا تھا۔ کہ میرے دانت ٹھیک ہیں۔ تو میں اسے خطرناک اور لا علاج بیماری سمجھتارہا۔ میرا سر شکر سے جھک گیا کہ اُس رب کریم نے اس کے درد کو دور کرنے کے لئے مجھے وسیلہ بنایا۔ اور رات کو یہ مضمون میری نظر سے گزرا۔(فالحمدُللّٰلہ علیٰ ذالک)
حاصل کلام
تو عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ شفاأ رب کی طرف سے ہوتی ہے۔ لیکن صحیح طریقہ اختیار کرنا نبی کریم ؐ کی سنت ہے۔اس لئے ہمیں صحیح علاج کے لئے کوشش کرنی چاہئے۔ اور شفاأ کے لئے اپنے رب سے دُعا مانگنی چاہئے ۔ اسلام نے حفظان صحت کے لئے ایسے سنہر ی اصول مرتب کیے ہیں کہ لوگ زیادہ سے زیادہ بیماریوں سے بچے رہیں۔ اور اگر کو”ی بیمار ہو جاأے تو اسکا علاج با قاعدہ اُس بیماری کے معالج سے کروایا جاأے۔